خدمت خلق دین ہےاورتحفظ المسلمین بھی ہے

46

خدمت خلق دین ہےاورتحفظ المسلمین بھی ہے
آج ہمارے نوجوان غلط راستے پر جارہے ہیں،وہ اس لئے کہ ان کے لئے صحیح راستے کی فکر ہم نے نہیں کی ہے، آپ یہ نہ سوچیں کہ وہ نشے میں ہیں اور بدمست ہیں، بلکہ انہیں ٹٹولیں اور اپنے سے قریب کریں،جب تک انہیں اپنے سے قریب نہیں کریں گے، اسلام سے قریب نہیں کرپائیں گے۔مسلمان تو وہ ہے جس کا اسلام بولتا ہے کہ وہ مسلمان ہے،پہلے بھی گاوں میں مسلمان رہتے تھے ،اور شہر میں مسلمان بستے تھے، ان کا گاؤں بولتا تھا کہ "یہ مسلمانوں کی بستی ہے”گھر بولتا تھا کہ، "مسلمان اس میں رہتا ہے”۔ایک مسلمان کی دکان کہتی کہ،اس میں بیٹھا آدمی صاحب ایمان ہے،واقعہ مشہور ہے،ایک یہودی مسلمان کی دکان پر پہونچتا ہے،اور سودا طلب کرتا ہے، لیکن وہ قریب والی دکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ، آپ بازو والی دکان سے مطلوبہ سامان خرید لیں، اسے بڑی تکلیف ہوتی ہے، اور شکایت کرتا ہےکہ، کیوں بھائی میں یہودی ہوں، اسی لئے مجھ سے اپنا سامان نہیں بیچوگے؟ صاحب دکان نےکہا، نہیں بھائی ایسا کچھ بھی نہیں ہے،بلکہ میرے اس بھائی کی دکان پر کوئی گراہک صبح سے نہیں گیا ہے،ان کے بھی بچے ہیں، بیوی ہے،آپ وہاں سے خریدیں گے، دوپیسے منافع کے، ان کے ہاتھ آجائیں گے، اپنے بچوں کے منھ میں وہ بھی گھر جاکر لقمہ رکھیں گے، یہ سننا تھا کہ وہ جاکر سامان تو وہاں خرید لیا،واپس پھر پہلی دکان پر آگیا اور گویا ہوا،بھائی تم مسلمان ہو،ایمان والے ہو،مجھے ایمان والا سودا تو عطا کرو،یہ کہ کر کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔ آج کے حالات ہیں جو سیلاب بلاخیز ہیں، اگر ایسے میں نوجوانوں کو ہم نے نہیں جوڑا توبہت ہم پر بہت افسوس ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسوقت ملک کے تیس سے پینتیس فیصد لوگوں کے ذہن خراب ہیں، نفرت ان کے اندر پیوست ہوگئی ہے، یہ تناسب بگڑ نہ جائےاور حالات ابتر نہ ہوجائیں، اس کی ابھی فکر کیجئے، تفقد احوال کیجئے، قرآن میں لکھا ہے، سو جس نے دیا،اور تقوی اختیار کیا،اورنیکی کو سچ مانا،تو بہت جلد ہم اس کو آسانی مہیا کر دیں گے (سورہ اللیل:7)
دیکھا جائےتو یہاں قرآن کی آیت میں پہلے ایمان کا تذکرہ ہونا چاہئے تھا،مگر دینے کی بات کہی گئی ہے، دراصل ایمان یہی ہے،اوردینےکانام ہی ہے۔اللہ نے مسلمانوں کو دینے کے لئے ہی پیدا کیا ہے، آج ہماری زندگی اس کے خلاف نظر آرہی ہے، ہم نے آج اپنی حالت لینے والی بنالی ہے، ہماری زندگی دینے والی نہیں ہے، کاسئہ گدائی لئے پھرتے ہیں، ہم آج پھردینے والا مزاج بنالیں تو یہ حالابدل جائیں گے۔دینے والا مزاج کیا ہے؟بھوکوں کو کھانا کھلانا، مسافروں کا خیال کرناہے،ان کے لئے اپنی سیٹ چھوڑ دیناہے،حضرت علی میاں رح کا ایک واقعہ یے، آپ سفر میں جارہے ہیں، ایک بوڑھا پاس میں کھڑا ہے، جوبرادران وطن میں سے ہے،حضرت نے اپنی سیٹ ان کے لئے چھوڑدی، اوراپنی جگہ پر اسے بٹھالیا،ساتھ میں سفر کررہے ساتھیوں نے کہا کہ، حضرت آپ کہاں بیٹھیں گے؟ سفرطویل ہے، کیوں اپنی نشست اجنبی کے حوالہ آپ نےکردی ہے؟دقت ہوجائیگی،حضرت علی میاں رح نے اپنے سفر کے ساتھیوں کو جواب دیاہے،وہ یاد رکھنے اور عمل میں برتنے کی آج ضرورت ہے ،آپ نے کہا، بھائیو!یہ موقع بار بار نصیب نہیں ہوتا ہے، یہ اسلام کے اخلاق کو پیش کرنے کا موقع ہوتا ہے۔آج ہم بسوں پر اور ٹرین میں کسی حال میں اپنی سیٹ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں، اس موقع سے اپنے اسلامی اخلاق کو پیش نہیں کرتے ہیں، جبکہ خدمت خلق حدیث میں ایک بڑا کام ہے، یہ معرفت رب کا موقع ہوتا ہے، اور یہ تحفظ المسلمین کا بھی ذریعہ ہے،میں قطعا مایوس نہیں ہوں،آپ نوجوانوں سے مجھے بڑی امیدیں ہیں، کیسے بھی برے حالات ہوں،دینے کا مزاج بنالیا تو وہ سازگار ہوجاتے ہیں۔
میرے بھائیو!
آپ نے پیام انسانیت کی یہاں بہت ساری کارگزاریاں یہاں سنی ہے،اور سنائی بھی ہے،اسپیچ کمپٹیشن ،میڈیکل کیمپ، ٹفن سسٹم،پیام انسانیت پمفلٹ کے مطابق وہ پندرہ بیس کام آپ نے کئے ہیں، آپ سبھوں کو مبارکبادہے،لیکن آج یہاں سے یہ فکر لیکر جائیں، کہ ہر مسجد کو انسانیت کی خدمت کا مرکز بنائیں گے، ہم ایک ہی آدمی کو کھانا کھلاسکتے ہیں، توایک ڈبہ میں بند کرکے مسجد بھیج دیںگے ،اور ایک ایک گھنٹہ ہر نوجوان کا اس کام کےلئے نکال لیں گے، اورسڑک وفٹ پات پر بھوکے لیٹے بھوکوں کو کھانا کھلا آئیں گے ،گھرجاکرمحلے کے ڈاکٹرس کی مٹنگ بلائیں گے، اور انہیں غریب ونادار کے مفت علاج ومعالجے پر آمادہ کریں گے،ہم نے لکھنؤمیں یہ کام کیا ہے، ڈاکٹر مظہر صاحب ہیں، اور ان کے دوست ڈاکٹر احباب ہیں ،سبھوں نے یہ عہد کیا ہے کہ، ہم مفت میں غریبوں وناداروں کو دیکھیں گے،پیسے نہیں لیں گے، الحمدللہ وہ سبھی ایسا کربھی رہے ہیں، اللہ انہیں جزائے خیر دے، آمین ۔
اسوقت ہمیں انتظامیہ کے ذہن ودماغ کو بدلنے کے لئے ان کے ساتھ بھی نشستیں کرنی ہونگی،ہم نے اس کا فوری اثر دیکھا ہے، رائے بریلی کا واقعہ ہے، مندر کے پجاری وانتظامیہ کے لوگوں کے ساتھ ہم لوگوں نےمٹنگ کی،دوسرے دن ہی ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا، کسی بدخواہ نےاسی رات تاریکی کا فائدہ اٹھاکر مندر میں گوشت ڈال دیا،انتظامیہ کے لوگ پریشان نظر آئے،اور کہنے لگے، ابھی بیٹھک ہوئی، اور یہ واقعہ پیش آگیا، اسوقت وہی مندر کا پجاری سامنے آیا اور یہ کہا کہ، یہ مسلمانوں کا کام نہیں ہے،یہ کوئی غیر مسلم ہی کرسکتا ہے، مسلمان ایسا کبھی نہیں کرسکتا ہے، انہوں نے خود سے صفائی کی ،اور بڑا خطرہ اس طور پر ٹل گیا،الحمدللہ، آئیے ہم یہ عہد کریں کہ، اللہ کی رضا کے لئے ہم یہ کام کریں گے، اللہ ہمارے جمع ہونے کو قبول فرمائے، آمین یا رب العالمین ۔
یہ باتیں حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی دامت برکاتہم نے اپنی آخری وصدارتی خطاب میں مورخہ ۸/مارچ ۲۰۲۱ءبمقام مسجد عبدالحمید کلکتہ کے میں پیش کی ہے، آپ جملہ احباب وحضرات کی خدمت میں اس کی تلخیص پیش کی جاتی ہے، اور عاجزانہ درخواست بھی ہے کہ اسے خوب سے خوب شئربھی کریں، اور انسانیت کی خدمت کا اس نازک موقع پر فریضہ انجام دیں، باری تعالی سبھوں کو جزائے عطا فرمائے، آمین ۔
راقم الحروف، ہمایوں اقبال ندوی
ترجمان، آل انڈیا پیام انسانیت فورم ارریہ
رابطہ، 9973722710