"وہ جس کا نام عورت ہے”

16

(نظم)
"وہ جس کا نام عورت ہے”

ممتا قربانی  چاہت ہے
پیار محبت  شفقت ہے
بیٹی بھی بہن بیوی ماں بھی
ایثار و وفا کی مورت ہے
وہ جس کا نام عورت ہے

یہ چین و سکوں کا درپن ہے
ماں باپ کے دل کی دھڑکن ہے
یہ دھن  ہے پرایا ویسے تو
ماں باپ کے دل کی راحت ہے
وہ جس کا نام عورت ہے

تتّلی کی طرح اُڑتی پھرتی
گھر آنگن میں دوڑی پھرتی
نٹ کھٹ بہنا کو بھاٸی سے
دیوانہ وار  محبت  ہے
وہ جس کا نام عورت

سجنی وہ پیا کی بنتی ہے
سب اُس پہ نچھاور کرتی ہے
رکھتی ہے خیال اُس کا ہر دم
وہ اپنے پتی کی طاقت ہے
وہ جس کا نام عورت ہے

ہر رنگ میں وہ ڈھل جاتی ہے
حالات پہ قابو  پاتی ہے
آنسو پی کر رنج و غم میں
اُس گھر کو بناتی جنت ہے
وہ جس کا نام عورت ہے

وہ جب ماں بن جاتی ہے
بچوں پہ جان لُٹاتی  ہے
اولاد کی خاطر مر مٹنے کا
جذبہ ہے اُس میں ہمت ہے
وہ جس کا نام عورت ہے

ہر دور نے ڈھاۓ ظلم و ستم
ہر دور میں جھیلے رنج والم
کب سمجھیں گے دنیا والے
عورت دنیا کی عظمت ہے
عورت دنیا کی عظمت ہے…..!!!

* ذاکرہ شبنم -کرناٹک *