اردو کے حوالے سے امارت شرعیہ کی کوششیں ثمر آور، قاضی محمد عاصم قاسمی

87

(گھنشیام پور دربھنگہ)
داررالقضاء امارت شرعیہ مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ کے قاضی شریعت ، معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عاصم صاحب قاسمی نے کہاکہ کسی بھی قوم کی تہذیب و ثقافت ، افکار ونظریات اور اخلاق وکردار کا عکاس اس کی مادری زبان کرتی ھے، قوم وملت کی تمام طرح کی ترقیات کی ضامن اور معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتی ھے،اردو زبان کے متعلق گفتگو کرتے ہوءے قاضی موصوف نے یہ بھی کہا کہ اس زبان میں ایک خاص بات یہ بھی ھے کہ اسے ہرکوئی بہت جلد اپنا لیتا ھے اس کی وجہ یہ ہےکہ دوسری زبانوں میں بھی اردو کی جھلک پائی جاتی ہے،انہوں نے اردو کی اھمیت پر چند شعراء کے اشعار بھی پیش کیے

داغ دہلوی
اردو ھے جس کا نام ھمیں جانتے ہیں داغ۔
ہندوستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے

سلیم صدیقی۔
فضاء کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھو ل لیتا ھے۔
سلیقے سے جو زمانے میں اردو بول لیتا ھے

احمد وصی
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آءے

اپنی گفتگو کو دراز کرتے ہوءے مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا کے ناءب ناظم واستاذ شعبہ عربی نے یہ بھی کہا کہ اردو کی تحفظ وبقاء کی خاطرپیرطریقت مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی اور صالح وباصلاحیت عالم دین، امارت شرعیہ کے فعال ومتحرک قائم مقام ناظم حضرت مولانا محمدشبلی القاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں امارت شرعیہ کی جانب سے کی جانے والی کو ششیں ثمر آور ھیں ،ضرورت اس بات کی ھے کہ ھم اپنی عملی زندگی میں بیش از بیش اردو زبان کو استعمال میں لاءیں، زیادہ سے زیادہ اردو اخبار ورسائل کو اپنے مطالعہ کی زینت بناءیں ، ادارے اور دوسری جگہوں پر نا م کی تختیوں میں اردو رسم الخط کو بھی شامل کریں اور اپنے بچے اور بچیوں کو اردو کی تعلیم سے ضرور آراستہ کریں۔