سرکاری امداد سے بننے والی مارکیٹ نجی کمپنی کے ہاتھوں عوام اور عوامی تنظیموں میں غم و غصہ، زمین کے مالکانہ حق میں اختلاف

30

 

ارریہ (معراج خالد) ضلع پریشد فنڈ سے بننے والی مارکیٹ کا تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ایک طرف جہاں ضلع پریشد اسے اپنی زمین بتاکر اس جگہ کام کروارہی ہے

وہیں دوسری جانب اسکول انتظامیہ اور ارریہ کا مدعا نامی غیر سیاسی تنظیم اسے اسکول کی زمین بتا رہی ہے مذکورہ تنظیم کے روح رواں مسٹر فیصل جاوید یاسین نے ضلع پریشد چئرمین آفتاب عظیم پپو کی ہتک عزت(مان ہانی) والی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کی مان ہانی نہیں بلکہ مال ہانی کروائی ہے جو مال آپ غیر قانونی طور پر اس (منوکامنا پریگریسو لمیٹیڈ) کمپنی سے کمانا چاہ رہے تھے ایک سوال کے جواب میں مسٹر فیصل نے کہا کہ ضلع پریشد صاحب صرف یہ بتادیں یہ نجی کرن ہے یا نہیں ہماری جانب سے ضلع پریشد کو داخل کردہ چھ سوالوں میں سے چار سوال کا جواب یہ آیا ہے کہ منوکامنا پروگریسیو لمیٹیڈ کمپنی بتائے گی مسٹر فیصل نے مزید کہا کہ آپ کہ رہے ہیں ہم اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں ضلع پریشد کا کام ہوتا ہے دیہی حلقے کی ترقی کروانا آپ شہری حلقہ کو چھوڑ کر کہیں یہ تعمیر کروالیں جس سے اسکول کی زمین بھی بچ جائے گی