وسیم رضوی ہی کیوں؟

49

وسیم رضوی ہی کیوں؟
شاہد عادل قاسمی ارریہ
چالاکی کہیں يا شطرنجی کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے ،مگر ہم کہاں ہیں پردہ سے دیکھنے والے، شطرنجیوں کی گوٹی کس خانے میں ڈالی جائےگی اب تو ہم سمجھنے لگے ہیں،نفرت کے پجاری کس مقام پر اپنی دکان کھول دیں ،یہ تو ہم جمہوریت پسند لوگ اب جان چکے ہیں، پھر ایک سوداگر ہمارے ملک کو کتنا اور کہاں کہاں بيچیں گے اتنا شعور تو رکھنے لگے ہیں،ملک کے کئی ریاستوں میں انتخابات کے مراحل سامنے ہیں،ملک کی معیشت کی یومیہ گراوٹ کتنی تیزی سے ہورہی ہے، سبھی جانتے ہیں ،ملک میں مہنگائی کس عروج پر ہے، سبھی دیکھ رہے ہیں،ملک کا تعلیمی سسٹم کتنا کمزور ہوتا جارہا ہے، سبھی سمجھ رہے ہیں،ملک میں بے روزگاری کتنی بڑھ رہی ہے ،سبھی جھوجھ رہے ہیں،ملک کی اقتصادی نظام کتنا چوپٹ ہے سبھی محسوس کر رہے ہیں، اس کے علاوہ غیر ضروری بلوں کو پارلیامینٹ میں پاس کرکے کس طرح عوام کو ستایا جارہا ہے سبھی واقف ہیں، تین طلاق ہو یا بابری مسجد کا قضیہ،شہریت بل ہو یا کسان بل، ملک میں ایک ہاہاکار ہے،عام انسانوں کی زندگی احتجاج،پروٹيست ،سڑک اور چوراہے پر گزرے یہی اس وقت ملک کی تقدیر ہے ،ان حالات میں وسیم رضوی ہی کیوں ؟سر جوڑ کر سمجھنے کی ضرورت ہے ،خاص کر ہم مسلم طبقہ کے لئےایک اہم امتحان ہے، جس میں صبر، تحمل اور برداشت ہی ہمارااصل ہتھیار ہے ۔
وسیم رضوی کا سپریم کورٹ میں 26قرآنی آیات کو ہٹانے کی فریاد کوئی نئی بات نہیں ہے،اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں،اس پر ہمارے علما حضرات کافی تسلی بخش کام کرچکے ہیں ،جن آیات پر اعتراض جتلایا گیا ہے اس کا دندان شکن جواب ماضی میں دیاجاچکا ہے،سچ تو یہ ہے کہ ماقبل میں عدالت ایسی فریاد کو مسترد بھی کرچکی ہے ،اب موجودہ وقت اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے دیکھنے لائقِ ہوگا،ہم زیادہ خوش فہمی کا شکار بھی نہیں ہو سکتے، لیکن اس پر ہمارا ایمان بھی مکمل ہے کہ قرآن کا ایک ایک حرف من جانب اللہ ہے، جس میں حذف تو دور تغيروتبدل بھی برداشت نہیں کر سکتے ،
وسیم رضوی کا یہ ایک منظم شوشہ ہے،اس جل مہرے کو کون استعمال کرسکتا ہے، ہم ہندوستا نی جان سکتے ہیں،اس بندر کا ڈمرو کیسے بجتا ہے ہم سمجھ رہے ہیں،اس بندر سے شیعہ سنی جنگ دیکھنے والے کی حسرت پوری نہیں ہوگی،شیعہ مسلک کے علماوں نے انہیں پہلے ہی اپنے مسلک سے نکال رکھا ہے،انشاء اللہ اس معاملے میں بھی انہیں پھٹکار ملے گی،اور ہم جمہوریت پسند لوگ کبھی اس مداری کے بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں،ہم قرآن کی عظمت پر قربان ہونا جانتے ہیں، مگر ناحق قتل و قتال پر حرام کا فتویٰ بھی دیتے ہیں،انسانیت کاخوں ہو،اتحاد کا پارہ ہو،سالمیت کا قتل ہو ،سیکولرزم کا جنازہ نکلے یہ اسلامی تعلیمات نہیں،اس بد بخت کو پتہ ہی نہیں جس میں تم تحریف کی گنجائش ڈھونڈھ رہے ہو وہ کبھی چودہ سو برس پہلے تمہارے آباؤ اجداد کرچکے ہیں ،وہ بھی منہ کی کھائے تھے تمہارا تو پتہ ہی نہیں تم کس منہ مروگیے ،قرآن کی حفاظت ہم تم کیا کروگے ؟خود صاحب قرآن نے حفاظت کی زمہ داری لے رکھی ہے
,ملک میں مداری کے لئے حالات سازگار بالکل نہیں ہیں،کسان تحریک سے شطرنجی بوکھلا گئے ہیں ،جگہ جگہ ذلت ورسوائی کے مالیے ڈالے جارہے ہیں،کہیں بھاگو کہیں مارو،کہیں جوتے کہیں ٹماٹر آج کل خوب مل رہے ہیں،اتنا ہونے پر ملک خاموش ہے،قومی یکجھتی برقرار ہے،دھارمک لڑائی بند ہے بھلا اس فسطائی کو کہاں سکون ملے؟
ملک کا امن وامان ،ملک میں شانتی اور چین رہے بھلا اس فسادی کو کیوں کر پسند؟
ملک جلے،ملک کی عوام مرے،ملک میں افراتفری ہوجائے،ملک میں بھائی بھائی ایک دوسرے کے خون کاپیاسا ہوجائے،ملک کی اکھنڈتا ختم ہوجائے تبھی اس کو چین ملے ،مگر ہم قومی يکجھتی کے علمبردار اُن کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دینگے، اور اُنہیں یہ بتا دینگے کہ یہ دنیا ہے، یہاں کبھی تم بھی زد میں آؤگے ،دوسروں کے گھر میں جو آگ لگارہے ہو کبھی ان شعلوں کے چپیٹ میں تمہارا گھر بھی خاکستر ہو گا،کیونکہ یہاں مکافات عمل تو ہوتا ہی ہے۔
ہم اہل اسلام امن پسند ہیں، رضوی کتنا ہرزہ سرائی کر لے ہم اکتانے والے نہیں، ہمارے ملک میں عدالتی نظام ہے ،ہمارے ملک میں مستحکم دستور ہے،ہمارے ہاتھوں ہماری اسلامی تعلیمات ہیں، ہمیں کیسے جینا ہے بخوبی آتا ہے، تم ہمیں ورغلا دو ممکن نہیں، لیکن ہم تمہیں اپنے ملک کے قانون کے دائرے میں ضرور رسوا کریں گے اور ہمارے قرآن کی حفاظت ہمارے تمہارے خالق خود کر لیں گے انشاء اللہ