یوٹیوب روسٹرس (YouTube Roasters) کے نام درد بھرا پیغام

25

ابو الحسين میر إبراهيم السلفي

Attachments17:28 (2 hours ago)

to me
یوٹیوب روسٹرس (YouTube Roasters) کے نام درد بھرا پیغام
تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس سلفیہ مسلم انسٹچوٹ
بارہمولہ کشمیر
رابطہ نمبر :6005465614
وہ جو کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا کرتا تھا
ہم نے پھولوں کو مسلتے ہوئے دیکھا اُس کو
اسلام کی بنیاد صحیح عقیدہ پر ہے جس میں توحید کے ساتھ ساتھ دیگر اصول بھی آتے ہیں۔ لیکن اسلام فقط عقیدے کا نام نہیں بلکہ عقیدہ کے ساتھ ساتھ عبادات، معاملات، اخلاقیات، معیشت، قوانین، حدود، حقوق بھی دین اسلام میں شامل ہیں۔ یوں کہا جاۓ کی اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے(A complete way of life). فرمان باری تعالیٰ ہے کہ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ”.(اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے). یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ اگر اسلام کے ایک بھی حصے سے کنارہ کشی اختیار کی جاۓ تو انسان شیطان کا مطیع و مطبع بن جاتا ہے۔پیغمبر اسلام  ﷺ نے اپنے ملفوظات و فرمودات کے اندر اس چیز کی وضاحت فرمادی ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر کاربند رہا جاۓ۔شریعت کی تعلیمات پر گہری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کے بعد سب سے زیادہ حقوق العباد کو ضائع کرنے سے لوگ جہنم رسید ہونگے۔اس بات کو ثابت کرنے کے لئے حدیث مفلس ہی کافی ہے۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ، "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ "(اس روایت کو امام مسلم نے اپنی الصحیح کے اندر ابوھریرہ سے نقل کیا ہے) معلوم یہ ہوا کہ انسانی حقوق ضائع کرنا انسان کی عبادات کو بھی لے ڈوبتا ہے۔
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
اسلام انسانی نفوس و انسانی حقوق کا ضامن ہے۔جان و مال کے ساتھ ساتھ اسلام عزتوں کا بھی محافظ ہے۔جیسا کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ، "لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔” (صحیحین) خطبہ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کا اوّلین اور مثالی منشور اعظم ہے۔ اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلامنشور انسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔اسلام نے روز اول سے ہی عزتوں کی حفاظت پر زور دیا۔لیکن اسلام کے نام لیوا بعض جہلا ایسے بھی ہیں جو  ہنر و فن کے نام پر عزتوں کو پامال کررہے ہیں۔موجودہ دور میں عزتوں کی پامالی کرنے کو ذریعے معاش بنایا گیا ہے۔جو کسی سے مخفی نہیں۔ جسے ہم "YouTube Roasting” کے نام سے جانتے ہیں۔ذرائع معاش کی حلال راہیں بھی ہم پر واضح ہیں اور حرام بھی۔لیکن اس حرام فعل کو حلال بنانے کے لئے ایک نعرہ دیا جاتا ہے کہ "ہم لوگوں کو ہنسانے کے لئے ایسا کرتے ہیں”.(We do this to make people laugh)اس بات کو شریعت کی میزان پر رکھا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ، "ويل للذي يحدث فيكذب، ليضحك به القوم، ويل له، ثم ويل له(ابوداؤد) ترجمہ، "جہنم کی وادی ہو اس کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے”. یوٹیوب استعمال کرکے ہمارے کچھ بھائی لوگوں کی عزتوں کا جنازہ نکالنے میں کوئی قصر باقی نہیں چھوڑتے۔ چھوڑیں بھی کیسے! جتنا آپ کسی کا مذاق اڑائیں گے اتنے ہی پیسے آپ کو ملیں گے ، لائک (likes) ، views اور subscribers کے حصول کے لئے یہ بندے کوئی بھی حد تجاوز کر سکتے ہیں۔ ہنسی مذاق کی جائز راہیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن کذب بیانی و الزام تراشی، برے القابات، غیر شائستہ الفاظ استعمال کرنے کے بعد کوئی اسے جائز کیسے سمجھ سکتا ہے یقیناً اس عمل میں کئی ایک حرام افعال جمع ہوجاتے ہیں جو اسے حرام کی سخت ترین شعبہ میں ڈال دیتا ہے۔
یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے
اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے
جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں‌ انہیں‌ خلعتِ رسوائی دے
معراج کے دوران نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے اخروی احوال بھی دیکھے۔ عالم برزخ کے عذابات کا مشاہدہ کرتے ہوئے آپؐ کا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان ناخنوں سے کھرچ رہے تھے ،(یہ تعجب خیز منظر دیکھ کر ) آپ ؐ نے جبریل امین ؑ سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں اور انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں آدمیوں کا گوشت کھاتے تھے یعنی ان کی غیبت کرتے تھے اور ان کی آبرو ریزی کرتے تھے (ابوداؤد ) اسی طرح ایک اور فتنہ ابھر کر سامنے آرہا ہے اور وہ ھے prank calls. یعنی ایک مصنوعی فون کال کرکے کسی شریف النفس اور  باعزت فرد کی عزت ریزی کی جاتی ہے۔طلب مال و طلب شہرت میں یہ افراد اندھے ہوچکے ہیں اور انہیں نہ تو اپنے وجود کی خبر ہے اور نہ انسانیت کی پہچان۔
ان لوگوں کی عزت دنیا میں پہلے ہی نیلام ہوتی ہے مگر آخرت کی عزا ان کے لئے درد ناک ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔” (سورۃ النور)یہ عمل فقط شرعی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناسور ہے۔عوام الناس میں کثیر تعداد لاعلمی کی بنیاد پر ان کی YouTube channels کو فروغ دے رہے ہیں۔ پانچ منٹ کی ہنسی کے لئے آخرت کا سودا کرنا یقیناً گھاٹے کا سودا ہے۔ یہ کوئی ہنر (Talent) نہیں بلکہ ذلت ہے۔ یہ کو شہرت نہیں بلکہ رسوائی ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، "اور بعض ایسے آدمی بھی ہیں جو لہو لعب کی باتوں کے خریدار ہیں تاکہ بن سمجھے اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اس کی ہنسی اڑائیں، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔” (سورہ لقمان)
آپ نے محفلِ اغیار کی رونق تو کہی
مجھ سے کچھ حال نہ پوچھا شبِ تنہائی کا
چارہ گر کا ہے کو لوں چارہ گری کا احساس
تو کوئی ٹالنے والا ہے مری آئی کا
آئے دن خودکشی کے معاملات سامنے آرہے ہیں، دن بہ بن ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔منشیات کا رجحان معاشرے میں تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتا ہوا چلا جارہا ہے۔اوپر سے یہ نحوست باقی تھی جس نے ان جرائم کی تعداد کو عروج بخشنے میں قلیدی کردار ادا کیا۔قانون کو چاہئے کہ وہ ایسی YouTube channels اور Facebook pages پر گرفت کرکے انہیں زندان کی رونق بنائیں۔کسی کو بے عزت کرنا مذھبی ، اخلاقی، سماجی اور قانونی جرم ہے۔ لیکن ان کم ظرف لوگوں کے علانیہ جرم سے واقف ہوکر بھی ان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانا قانون و عدالت پر ایک سؤالیہ نشان ہے۔ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو بھی چاہیے کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جاۓ۔ unsubscribe ، dislike کرکے report کردیں۔تاکہ آپ خود کو اس نجاست سے محفوظ رکھ سکیں۔ راقم cyber police تک اس بات کو پہنچانا چاہتا ہے کہ فوراً ان کی تفتیش کی جاۓ اور قانونی حدود کے تحت ان کی کاروائی کی جاۓ۔ یقیناً یہ بھی blackmailing کا ہی ایک حصہ ہے جس کی شکل تبدیل ہوچکی ہے۔ اسلام انسان كے ہر پوشیدہ اعمال کو راز میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے، راز کی باتوں کو افشا کرنے اور پھیلانے کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ ، "کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔”(صحیح مسلم) فرمان نبوی ﷺ ہے کہ، ” اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت! جن کے دلوں تک ایمان کما حقہ نہیں پہنچاہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عارمت دلاؤ اوران کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے ، اوراللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتاہے ، اسے رسوا وذلیل کردیتا ہے،اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندرہو’ ۔ راوی (نافع)کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا:کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو ! اورتمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظرمیں مومن (کامل) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔”(صحیح، جامع ترمذی)
راقم اپنے ان بھائیوں کو دعوت فکر دیتا ہے کہ توبہ کرکے ان افراد سے علانیہ و انفرادی معافی مانگے جن کی عزت آپ کی وجہ سے سربازار لٹ گئی۔اللہ کے دربار میں ہر اک عمل کا حساب دینا ہی دینا ہے۔ ابھی سدھر جاؤ، سنبھل جاؤ، یوٹیوب و فیس بک کو جائز و شائستہ طریقوں سے استعمال کرو۔ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمارے عزتوں کی حفاظت فرما کر دنیا و آخرت میں رفعت عطا کرے۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔