علامہ اقبال دانش عالم کاترجمان شاعر کالم نویس: ڈاکٹر مجدّدی مصطفیٰ ضیفؔ

27
علامہ اقبال دانش عالم کاترجمان شاعر
کالم نویس: ڈاکٹر مجدّدی مصطفیٰ ضیفؔ
سرینگر کشمیر
+919541060802
             شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا شمار بیسویں صدی کے اُن مفکر شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے مشرق اور مغرب دونوں کو متاثر کیا، اور اس تاثر کی سب سے بڑ ی وجہ ان کی تخلیقات میں خلق کیا گیا انسانی غم خواری کا شدید جذبہ اور ہر مذہب وملت کے تئیں ان کا غیر معتصبانہ رویہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال سچے اور پکے مسلمان تھے، اور انہوں نے اپنی تخلیقات میں اسلامی ثقافت اور تہذیب کے بہتر ین واقعے پیش کئے ہیں۔ اقبال اپنے مذہب کے تئیں جتنے پختہ عقائد ر کھتے تھے اتنی ہی پختگی سے دوسرے مذاہب اور ان کے پیروکارو ں اور اُن مذاہب سے وابستہ مذہبی رہنماﺅں کا صدق دلی سے احترام بھی کرتے تھے، در حقیقت اقبال ہر مذہب و ملت، لسان وبرادری، علاقے اور ملک کا شاعر ہے یعنی وہ سب کا شاعر ہے ۔ اور اس کا پیغام سب کے لئے ہے اور ان کے کلام میں مشرق ومغرب، جنوب وشمال، صوفی و برہمن اور آذری و براہیمی کا کوئی امتیاز نہیں اور اس کی متعدد مثالیں کلامِ اقبال میں ”بانگ درا“سے لے کر ”ارمغان حجاز“ تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے اردو کلام کے پہلے مجموعے میں ”آفتاب“ کے عنوان سے جو نظم درج ہے وہ گایتری یعنی رگ وید کی ایک قدیم دعا کا ترجمہ ہے۔اسی طرح ”ایک پہاڑ اور گلہری“ امریکہ کے مشہور شاعر اور فلسفی آر۔ ڈبلیو ایمر سن کے کلام سے اخذ کی گئی ہے۔ ”بانگ درا“ میں انہوں نے مرزا غالب، حالی، شبلی، عرفی اور انگلستان کے سب سے بڑے ڈرامہ نگار شیکسپئیر پر بھی نظمیں لکھی ہیں، اسی طرح ”نیا شوالہ“ ، ”ہندوستانی بچوں کا گیت“ ، ”ترانہ ہندی“، ”نانک“، ”سوامی رام تیرتھ“ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جو اس بات کی تردید کر تی ہیں کہ اقبال فرقہ پرست تھے یا انہوں نے اپنی تخلیقات میں صرف مِلتِ اسلامیہ سے ہی خطاب کیا ہے حد تو یہ ہے کہ نظم”رام“ میں انہوں نے رام چندر جی کو نہ صرف ہندوستان کا پیشوا قرار دیا ہے، بلکہ وہ انہیں ہدایت و رہنمائی کاچراغ نہایت ہی پاکیزہ ہستی اور محب انسان سمجھتے ہیں ۔جس پر ہندوستان کو ناز ہے اسی طرح انہوں نے سکھ دھرم کے بانی گرو” بابا نا نک“ کے متعلق نظم”نا نک“میں انہیں مردِ کامل اور توحید کا مبلغ قرار دیا، صرف اتناہی نہیں بلکہ گوتم بدھ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے گوتم بدھ کو حسنِ خلق فکر و عمل، حسنِ خیال اور مساوات کا معلم کہا۔
علامہ اقبالؒ اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب کا احترام فراخ دلی سے کر تے تھے۔ اس معاملے میں وہ کسی طرح کے حسد یا تعصب سے کام نہیں لیتے تھے۔ اس بات کو عالمی سطح پر بھی ان کے قارئین اور ناقدین نے تسلیم کیا ہے۔میری دانست میں اقبال سچا مسلمان تھا مگر وہ کسی قسم کی مذہبی انتہا پسندی کی روایت کا پر ستار نہ تھا، مذہبی انتہا پسندی کی پرانی یا فرسودہ روایت اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے نفرت کی کسی طرح کی کوئی بھی مثال ان کے سوانح کوائف یا کلام سے نہیں ملتی۔ علامہ اقبالؒ کی اردو شاعری کے دوسرے مجموعے” بالِ جبریل“ کی اشا عت” اسرار خودی“ اور”رموز بے خودی“جنہیں اقبالؒ کے پیغام یا تعلیم میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، اُس کے بعد ہوئی۔ میرے خیال میں یہ کتاب کاروانِ انسا نیت کے نئے آفتاب کی نمود کا پیغام دیتی ہے، نیز اس میں اقبال کی تعلیم کے سر چشمے زیادہ واضع اور روشن نظرآتے ہیں۔اس سب سے میری مراد یہ ہے کہ زندگی اور فکرو فن کا وہ آفاقی زاویہ نگاہ جس میں احترام آدمیت اور وسیع النظری کارفرما ہے اور اِس کا تخلیقی اِظہار اس میں بھی بہ درجہ اُتم ملتا ہے، ثبوت میں ”برتری ہری “کے ایک شلوک سے یہ شعر پیش کیا جا سکتا ہے جس سے اقبال نے” بال جبریل“ کا آغاز کیا ہے
          پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
          مردِ نا داں پہ کلام نرم ونازک بے اثر
 قدیم سنسکرت شاعر برتری ہری کے احترام کی حد ان کے یہاں یہ ہے کہ جاوید نامہ کی نظم ”آں سو ئے فلک“میں جوں ہی اقبال اور مولانا رومیؒ کے سامنے برتری ہری آتے ہیں تو احتراماََ دونوں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بقول اقبالؒ
           ما بہ تعظیم ہنر بر خاستم
           باز بازے صحبتے اراستم
 ”بال جبر یل “ میں انہوں نے لینن، مسولینی اور نیپولین کی صورت میں جو مثالی شخصیات لی ہیں وہ بھی قابل مطالعہ ہیں۔ نظم نیپولین میں فراں سیسی بادشاہ (جو ایک غیر معروف اور بے وسیلہ یتیم تھا) اُس کی مخصوص خصوصیت جوش عمل سے متاثر ہو کر عالم انسانیت کو عمل کا درس دیا ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں
           جوش کردار سے شمشیر سکندر کا طلوع
           کوہ الوند ہوا جس کی حرارت سے گداز
           جوش کردار سے تیمور کا سیل ہمہ گیر
           سیل کے سا منے کی شے ہے نشیب اور فراز
           صف جنگاہ میں مردا ن خدا کی تکبیر
           جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز!
 اور نظم” مسولینی“میں وہ مسولینی کو مثلِ شعاع آفتاب کرار دیتے ہوئے کچھ اس طرح کے خیالات کا اظہار کر تے ہیں:
           ندرت فکروعمل کیا شے ہے؟ ذوق انقلاب!
            ندرت فکروعمل کیا شے ہے ؟ ملت کا شباب!
            ندرت فکرو عمل سے معجزات زندگی
            ندرت فکروعمل سے سنگ خارہ لعل و ناب!
            فیض یہ کس کی نظر کا ہے ؟کرا مت کس کی ہے؟
            وہ کہ ہے جس کی نگہ مثل شعاع آفتاب؟
اس طرح اقبالؒ نے اسلامی مفکر ہونے کے باوجود غیر مسلم فلسفیوں اور دانشوروں کا ذکر اپنے کلام میں کمال احترام سے کیا ہے اور اس ذکر میں انہوں نے خود کو مشرق و مغرب کے امتیازات سے بالا تر رکھا ہے۔ درحقیقت کلام اقبال میں یہ معجزاتی کشادہ نظری اور وسیع المشربی قرآن حکیم کے وسیع وعمیق مطالعہ کی بدولت پیدا ہوئی۔ کتاب حکمت کے طالعہ کی بدولت اُنہیں جہاں، جس شخص یا فلسفے میں کوئی بھی خوبی نظر آئی اُسے انہوں نے نسلِ انسانی کی مشترکہ وراثت سمجھ کر اپنا لیا۔ ان کا مخصوص اندازِ فکر یہ ہے کہ وہ ایک طرف تمام تر مشرق و مغرب کے فکر وفلسفے سے استفادہ حا صل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دو سری طرف قرآنی آیات کی بصیرتوں کی رو شنی میں اس کی تصحیح وتکمیل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کے مطالعے سے فکر کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں، مزید یہ کہ انہوں نے علمائے یونان وروم، عرب وعجم اور یورپ وامریکہ کے قدیم جدید نظریات، انکشافات اور ایجادات کا احاطہ کرنے کے بعد انہیں قرآن کے اصول ودانش کی کسوٹی پر پرکھ کر فکر انسانی کے مسلسل ارتقاء کی داستان نہایت ہی بصیرت افروز انداز میں مرتب کی ہے۔
  علامہ اقبالؒ کے خیالات کی بنیاد تاریخ وتہذیب کا یہ اسلامی نظریہ بھی ہے کہ ہر نئی تہذیب پرانی تہذیب کی تہوں پر اپنی بنیادیں استوار کرتی اور عمارت کھڑی کرتی ہے۔ اسی واسطے آنحضرت ﷺسے قبل جو انبیاء آئے قرآن کریم میں ان کے ذکرکے ساتھ ساتھ ان سب کی حقانیت کو ماننے پر زور دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اقبال کی پیدائش ایک ایسے ملک میں ہوئی تھی جس کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کی داستان ہزاروں سالوں پر محیط ہے اور ادب چاہے وہ نظم کی صورت میں ہو یا نثر کی ہیت میں اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت کی پیداوار اور اس کا آئینہ دار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بحثیت مسلمان اقبال نے نہ صرف آنحضرتؐ سے قبل آنے والے انبیاؑء کی حقانیت کو تسلیم کیا بلکہ رام، کشن، نانک اور حضرت عیسیٰ ؑوغیرہ کے تعلق سے ان کی نظمیں اسی اسلامی یا قرآنی نظریے کی دلیل ہیں۔
  اقبال ہر اس شخص یا نظرے سے استفادہ کرتے ہیں جس میں انہیں احترامِ آدمیت یا عظمتِ آدمیت نظر آتی ہے۔ پھر چاہے وہ برتری ہری ہو یا وشو مترا، قرةالعین طاہرہ ہو یا گوتم بدھ، جمال الدین افغانی ہو یا مارکس و لینن، مولانا روم ؒ ہو یا گرو نانک ، درحقیقت علامہؒ کو ان سب کے کردار وگفتار میں جوش و عمل کی روح نظر آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے اور پرائے سب کی تعظیم کے لئے یکساں معیار رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ جعفر صادق کو انہوں نے آگ و خون کے ایک بھیانک حوض میں تڑپتے دیکھا جب کہ” جاوید نامہ“کی نظم” سیرافلاک“ میں جب پیر رومیؒ ان کی ملاقات وشومتر اسے کراتے ہیں تو اقبال ان کے لئے عارف ہندی اورجہاں دوست کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال عالمی فکروفن اور حکمت و ادب کی ترجمانی کرتے ہوئے جہاں معروف فلسفی نطشے جرمن شاعر گوئٹے اور مرزا غالب کا ذکر کرتے ہیں وہیں قوت وہمت کو زندگی کا اصل سامان قرار دیتے ہوئے اپنے مجموعہ کلام ”بال جبریل “ میں عربی کے مشہور شاعر احمد بن عبداللہ بن سلمان (ابوالعلامعری )جو چھ یا سات سال کی عمر میں چیچک کے سبب بینائی کھو بیٹھا تھا اُن کا ذکر بھی کرتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ عالمگیر فکرو دانش کی نمائندگی کرتے ہوئے جہاں ”بانگ درا“ کی نظم ” التجائے مسافر“میں حضرت نظام الدین اولیا دہلویؒ کا ذکر کرتے ہوئے فر ماتے ہیں کہ :
        فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
        بڑی جناب تری فیض عام ہے تیرا
        تیری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
       مسیح ؑ و خضر ؑ سے اونچا مقام ہے تیرا
اسی طرح دین اسلام میں دوسرے ہزارئیے کے مجدّد حضرت شیخ احمد سر ہندیؒ کی اسلامی فکر پر نظم ”پنجاب کے پیر زادوں سے “میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
            حاضر ہوا میں شیخ مجدّد کی لحد پر
            وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
            اس خاک کے ذرّوںسے ہیں شر مندہ ستارے
            اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
            گردن نہ جھکی جس کی جہاں گیر کے آگے
            جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار
 یا ایک دوسری جگہ مجدّد الف ثانی ؒ کے متعلق فر ماتے ہیں :
          تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
          اب مناسب ہے تیرا فیض عام ہو ساقی
               ( بال جبریل)
  اقبالؒ کے کلام کی یہی وہ عظیم خصوصیت ہے جس نے ان کی شاعرانہ کشش کو عالم گیر بنا دیا، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دانشور اکٹھے ہوں گے خواہ وہ ہندو پاک ہو یا چین، روس، ایران، جرمنی یا براعظم یورپ وامریکہ کے کسی بھی ملک کی کوئی بھی یونی ورسٹی، یہودی و مسیحی طلباء کا اجتماع ہو یا ہندو مسلم طلباء کی انجمن یا بدھ مت اور سکھ مت کے پرستاروں کی محفل ہر جگہ احیائے ملت کے داعی علامہ اقبالؒ کے کلام، پیغام اور فکر وفلسفے کو غور سے سنا، پڑھا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا مگر تاسف کی بات یہ ہے کہ اقبال کو عہدِ حاضر کے چند کم فہم اور نا تجربہ کار ناقدین نے دنیا کا سب سے مظلوم شاعر بنا دیا ہے، مظلوم ان معنوں میں کہ اقبال صرف اسلامی شاعر ہے اور اس نے اپنی شاعری یا پیغام کی طرف صرف ملّت اسلامیہ کو ہی مدعو کیا ہے۔میری نظر میں اس طر ح کے بیانات صرف ادبی بددیانتی ہی نہیں بلکہ کم علمی، کم نظری اور تنگ دلی کا کھلا ثبوت بھی ہیں۔ مثلََا والمیکی، تلسی داس، سور داس، رس خان اور میرا بھائی کی شاعری میں رام بھگتی اور کرشن بھگتی کے علاوہ اور کچھ نہیں لیکن برصغیر یا دنیا کے کسی بھی فنکار نے آج تک یہ نہیں کہا کہ یہ محض ہندو شعراء ہیں یا ان لوگوں نے اپنے کلام میں صرف اور صرف سناتن دھرم کے پیرو کاروں سے ہی خطاب کیا ہے ان بیانات کی روشنی میں ایسا کہنا یا ماننا کہ اقبال صرف مسلمانوں کے شاعر ہیں بے معنی، فضول اور من گھڑت بیان کے سوا اور کچھ بھی نہیں، بلکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان کا لب ولہجہ آفاقی اور ان کا پیغام ہرمذہب و ملّت کے لوگوں کے لئے ہے ۔
  یہاں قارئین کا یہ مغالطہ دور کرنا بھی ضروری ہے کہ اقبالؒ نے اپنے کلام میں مشرق و مغرب یا عالمی سطح کے جن مفکرین کا ذکر کیا ہے۔ وہ ان کے ہر نظرئیے کے معتقد تھے بلکہ جو لوگ ان کے نقطہ نظر کے قریب دکھائی دیتے ہیں انہیں سراہا اور جہاں کہیں ان کا خیال اقبال کی فکر سے ٹکرایا، انہیں وہاں سخت تنقید کا نشانہ بنایا مثلاً ابن عربی، حافظ شیرازی، مولانا حسین احمد مدنی، شنکر اچاریہ وغیرہ سے ان کے اختلافات کی وجہ یہی تھی کہ وہ ان کے تصورات کو انسان کے حق میں مہلک سمجھتے تھے جبکہ ہیگل، بر گساں، ٹیبو سلطان، خوشحال خان خٹک وغیرہ کو سراہا کیونکہ وہ اقبال کو نہ صرف اپنے ہم خیال نظر آتے ہیں بلکہ ان کا فکر و فلسفہ فکر اقبال کے لئے نقشہ راہ مرتب کر تا ہے۔ در حقیقت عالمی شہرت کے مالک تمام دانشوروں نے اپنے اپنے لوگوں ہی کو اپنا حقیقی مخاطب بنایا ہے مگر اس کے باوجود بھی ان کا کلام آفاقی اہمیت کا حامل ہے ٹھیک اسی طرح اقبال بھی کسی خاص بر اعظم، علاقے لسان یا ملت کا شاعر نہیں اور ان کا پیغام اور لب ولہجہ ہمہ گیر اور آفاقی ہے۔ ( ختم شُد)
   (نوٹ: مقالہ نگار ادب میں ڈاکٹریٹ، اسکالر براڈکاسٹر، کالم نویس اور شعبہ درس وتدیس سے وابستہ ہیں)