ایک حسین شام سچّائی کے نام
شاہد عادل قاسمی ارریہ
ارریا:5مارچ کی شام حسب معمول یتیم خانہ کے گیٹ پر ارریہ کے ادبی ڈھابہ میں سہ ماہی "ابجد”ارریہ کے مدیر اعلی جناب رضی احمد تنہا کے ساتھ ہم چند لوگ بیٹھے یونہی روز مرہ کے حالات پر گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ایک ذہین اور زیرک شخصیت جو جسمانی اعتبار سے نہایت پتلے دبلے اور نحیف ہیں، مگر فکری اور تعمیری ذِہن کے بے تاج بادشاہ بھی کہ دیا جائے تو مبالغہ نہیں ،محترم وارد محفل ہوئے اور اپنی ماہرانہ اور مجربانہ انداز سے شریک گفتگو ہوگئے، مواقع کیا حالات کی نبّاضی موصوف کی وراثت ہے ،سبھوں کی سنتے ہیں پھر بڑی خاموشی اور سنجیدگی سے اپنی باتوں کو رکھ دیتے ہیں،جس میں قیل وقال کی گنجائش نہ اشکال وا عتراض کاموقع ،حیلہ وحوالہ کی شکل نہ راہ مفر کا کوئی قصد بلکہ مخاطب متکلم کی باتوں کو ترجیح دیتا یوں گنگنا اٹھتا ہے ع "جو مزاج یار ہو”
اس ادبی ڈھابے کی چاشنی کا ذائقہ کچھ دنوں سے میں بھی بڑی چاؤ سے لے رہا ہوں ،میری تشنگی مجھے نہ جانے کیوں اس محفل میں آئے دن اپنے طرف کھینچ لاتی ہے،یقینا اس کے شرکاء مقناطیسی شخصیت کے متحمل ہیں ،سبھی اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں ،اُردو ادب کے ایسے نادر جواہر پارے ہمارے اتنے قریب ہیں، ہمیں اس کا احساس ہی نہیں تھا، اسے ہماری کج فہمی کہیے یا اپنوں کی ناقدری
خیر اس نبّاض نے نبض شناسی کی اور 8مارچ 2021کی شام” بزم شعر وسُخن کے نام "کی دعوت دے بیٹھے، سبھی شریک محفل کے کان جاگ اٹھے ،میں نے بھی سرگوشی کی سنت کی اتباع کرلی، مگر موصوف کے شکل پر طمانیت فرحت کا صاف صاف پتہ دے رہی تھی،وہ جھٹ گویا ہوئے” دی سمواد” کی طرف سے اس شام کا انعقاد ہوگا،تفتیش کا کیڑا کہیے یا جستجو کی عبارت میرے نام لکھیے ،میں تحقیقی مشن میں گامزن ہوگیا،سمواد ہے کیا؟اغراض ومقاصد ہیں کیا؟سمواد کا کنکشن یا تار ہے کہاں سے؟وغیرہ وغیرہ ؟
مجھے تشفی بخش جواب ملا،میں خوش فہم ہُوں اپنی حاضری کو یقینی بنا لیا اور عزم مصمم لیے مجلس سے کوچ کرگیا ،
بحثیت شاعر مجھے دعوت دی گئی تھی، میں اندر ہی اندر کافی پریشان ہوا اور گھر جاکر بھی اسی ادھیڑ وبن میں رہا کہ "فاعلات "کی لات کھاؤں یا "فعولن” کی بیلن سے سر پھوڈھوں، کیون کہ میں تو نثر کا آدمی ہُوں شعر وشاعری تو میں نے کبھی کی ہی نہیں ہے،تذبذب کا شکار بندہ مرتا کیا نہ کرتا ،میں نے ارادہ کامل کرلیا کہ قافیہ سے دوستی کرنا پڑھے یا ردیف سے محبت،بحر سے پارٹنر شپ کرنا پڑے یا اوزان سے نکاح پر رشتہِ تو جوڑوں گاہی ، اسی وقت سے ایک طالب علمانہ کوشش شروع ہوئی اور دودنوں میں ایک نظم سج ڈھج کر تیار ہوئی ،میک آپ اچھا ہوا مگر کسی ماہر فن سے نظر ثانی نہیں کراسکا ،مزاج استنادی ہے، ماہرینِ فن سے رجوع کے بغیر مجھے اعتبار پر شک ہوا، میں نے اس نئی نویلی دلہن کو جیب سے باہر نہیں نکلنے دیا
8/مارچ کی خوبصورت شام آگئی ،قلبی اشتیاق پہلے سے ہی بے چین تھا، بعد مغرب متصلا کی دعوت تھی،داعی بھی وہ عظیم شخصیت جو ہم سبھوں کے محبوب نظر ہیں جس کو پورا شہر پیار سے” پرویز بابو "کہا کرتے ہیں، پشیے سے تو صحافی ہیں، مگر ایک کامیاب پتا اورنامور علیگ کیساتھ ساتھ سبھوں کے دلوں پر راج کرنے والے بھی ہیں ،
حسین شام کے آغوش میں ہم ارریہ شہر کے معروف ادارہ” المنار” کے صحن میں پہنچے ،گیٹ پر والہانہ استقبال سے ہم کافی متاثر ہوئے،ہمیں شاہانہ انداز سے اندر لے جایا گیا،جہاں کی پرکیف فضاء مجھے اپنی کشش پر گرویدہ کر گئی ،پھولوں کی ترتیب،گلدستوں کا سلیقہ ،برق و بجلی کے قمقمے اور نفاست کی تصویر مجھے غالب کے جام اور مینا کے صراحی سے اچھے لگنے لگے ،فلک بوس بینر کی ڈیزائنگ اور اسٹیج کی خوبصورتی واہ کیا کہنے؟
ادبا کا یہ اکرام ،شعرا کا یہ مقام، ان کیلئے ایسی سوچ ،یقینا کسی دوررس اور قدر دان کا ہی کام ہوسکتا ہے،
اس ڈیجیٹل دنیا میں آج بھی لوگ اپنی کھوئی وراثت کو اس قدر بچانے اور فروغ دینے کی ہمت رکھتے ہیں، میں تو حیران ہوگیا آخر ان جواہر پاروں کو ایسا خراج تحسین پیش کرنے کا من کیسے بنا ؟
سمواد ابھی نوخیز ضرور ہے مگر ان کے عزائم اور مستقبل مجھے کافی تابناک نظر آرہے ہیں، خدا خیر ہی خیر کرے
میں” المنار” کی چھوٹی سی حسین وادی میں تصور کی دنیا میں بہت دور تلک دیکھنے لگا ،کبھی ادھر کبھی اُدھر، کبھی اپنے آپ کو، کبھی یہاں کے مہذب منتظمین کو، انہیں کیفیت میں منہمک تھا کہ "ارریہ” کی ایک معروف علم دوست اور سماجی شخصیت جلوہ افروز ہوئی, میں کیا سارے حاضرین کھڑے ہوگئے، عظیم اخلاق کے متحمل فردا فردا سبھوں سے ملے، اخیر میں میرے بازو بیٹھ گئے ،شفقت کی باتیں ،محبت کی گفتگو، خبرو خیریت کا انداز قربان جاؤں اس حسین ادا پر میں پھولے نہیں سمایا، میں اندر ہی اندر خوش ہوا کہ میرے پریوارہی نہیں ارریہ کے اکثر وبیشتر لوگوں کے مشفق استاد عزت ماب جناب ماسٹر محمد محسن صاحب میرے ناتواں کندھے پر وزن سنبھالنے کی ہمت دے رہے ہیں، خدا اُن کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر رکھے
اتنے میں مائک پر وہی جانی پہچانی” علیگ صاحب” کی صدا کانوں سے ٹکرائی، حاضرین سے مخاطب ہیں، پروگرام شروع ھونا چاہتا ہے کا گھُوشنا ہوا، سبھی مائل ہوئے اور سمواد کے تعارف کیلئے ایک "علیگ” کو ہی بلایا گیا اُن کا حق بھی تھا کیوں کہ وہ کیمپس کے ڈائریکٹر بھی تھے، ساتھ ہی سموادکے ذمے داروں میں سے بھی ایک اہم رکن ہیں، جن کو ہم لوگ "عفان کامل” کے نام سے جانتے ہیں ،
مدھم آواز، بلا کی شیلی، زبان کی مٹھاس مجھے اپنے اور ملتفت کرگئی ،قیام سمواد پر مرتب گفتگو ،میڈیائی دنیا میں اس قوم کی حصہ داری پر ماتم وشکوہ اور مستقبل سے نا آشنا اس قوم کی زبوں حالی والی بات واقعتا دکّھتی رگ پر ہاتھ رکھنے والی تھی ،خدا ان کے گفتگو کو معراج بخشے،
سامعین کی کرسی پر مدعو سارے مندوبین ایک ساتھ بیٹھے تھے ،اسٹیج کی رونقیں اپنے ہم نشینوں کی بے رخی پر ماتم کنان تھیں ،ان کو اپنی خوبصورتی پر آج افسوس ہو رہا تھا کہ آج ہم سے زیادہ حسین ہمنشیں ہیں، جو مجھے اگنور کیے ہوے ہیں، ان کی اس شکایت کا احساس ہوا، ان کی سرد بھری آه پر "علیگ صاحب” کو رحم آگیا اور سمواد کے نائب ایڈیٹر” دیپک داس "کو مائک تھما بیٹھے،یہ وقت بھی کافی حساس تھا ،ایڈیٹر صاحب بھی شاید ادیبوں کے اس جمواڈھے سے پہلی بار روبرو ہوئے تھے، مائک ضرور اپنا کام کررہا تھا ،مگر ان مہ پاروں کو کیسے نوازا جائے وہ خود مذبذب تھے،ہمدم کو کیسے ہمدم بنائیں کچھ دیر کیلئے محو حیرت میں پڑگئے، ایڈیٹر صاحب شعرا ئے کرآم کی عزت افزائی فرمارہے تھے ،مختلف انواع واقسام کے پھولوں سے لیس بقعوں اور خوبصورت مومنٹو سے باری باری اپنی خاص نشست پر مدعو کررہے تھے، کسی پل میرا بھی سواگت ہوا اور اس رسم سے ایڈیٹر صاحب فارغ ہوئے، ایک بار مائک پھر انہی پتلی اور خوبصورت انگلیوں کے بیچ اٹھلاتی نظر آئی جنہیں ہم” پرویز سر "بڑے عقیدت سے کہتے ہیں،
بات آئی مجلس کی سیادت کی، اسٹیج کی سب سے اونچی کرسی سینه تانے اپنی علو شان پر مہ بنائے عظمت کی قصیدہ خوانی کر رہی تھی، کہ اچانک ان کی شان مرتبت پر ایسی عظیم شخصیت کا انتخاب ہوا کہ وہ سر جھکائے پلکیں بچھانے لگی اور خوش آمدید گنگنانے لگی، ارریہ کے معروف ادیب وشاعر جناب رضي احمد تنہا صاحب کا اعلان ہوا، مگر انہوں نے انسانیت کا وہ پاک نمونہ پیش کیا جو دور حاضر میں عقاب اور شاہین سے کم نہیں، انہوں نے وسعت ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے الحاج ماسٹر محمد محسن صاحب کو مسند صدارت پر بیٹھایا خدا آپ کو بہتر صلہ دے۔
سارے رسم پورے ہوئے ،ناظم جلسہ کا اعلان ہوا،نظامت کی لطافت سے محظوظ ہوئے،جس ڈھنگ سے ناظم مشاعرہ کا تعارف ہوا اس سے کئی گنا اوپر نکلے،ایک ماہر فن میں پرکھنے کی جو کسوٹی ہوتی ہے وہ کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہے،ثقلین حیدر کی نظامت کا ہنر ہو یا انور جلالپوری کا طرز،ملک زادہ کا انداز تخاطب ہو یا بشواش کی شیلی ،سبھی کی جھلک نظامت سے ٹپک رہی تھی،باغی شاعر کے جو صفات ہوتے ہیں اس سے مکمل متصف تھے اناونسر صاحب ،غالب کی باتیں، بشیر بدر کی یادیں، کلیم عاجز اورزبیر الحسن غافل کی تمنائیں کیا بہتر انداز میں پیش کیا جنہیں محبت کی نگاہ سے ہم "ایس ایچ معصوم سر” کہتے ہیں خدا انہیں سلاست ،فصاحت اور بلاغت سے اور نوازے (جاری)