خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ (عائشہ کی خودکشی کے ذمہ دار ہم سب ہیں) 

40
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
(عائشہ کی خودکشی کے ذمہ دار ہم سب ہیں)
تحریر :حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس
بارہمولہ کشمیر
6005465614
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے
جب جذبات جنون بن جائیں تو نتیجہ غیر متوقع ثابت ہوتا ہے لیکن جذبات کو جنون میں منتقل کرنے والے عناصر اکثر اوجھل ہوجاتے ہیں۔حکم ظاہر پر لگانا تو صحیح بات یے لیکن کبھی باطن کے حالات سے واقف ہونا بھی لازمی ہے۔گزشتہ دنوں سے مسلسل درد خیز داستان محو گردش ہے کہ عائشہ نام کی ہماری مسلم بہن، ہمارے جگر کا حصہ صبر کا دامن سنبھالنے سے قاصر رہی۔یقیناً وہ صبر کی اس انتہا ہر پہنچ چکی تھی جہاں پر اسے کسی ہمدرد کی ضرورت تھی، کسی ہمراز کی تلاش تھی، کسی دوست کی طلب تھی جو اسے سمجھاتا، اس کی رہبری کرتا، اس کا درد بانٹتا لیکن حقیقت حال سے ہم واقف ہیں کہ یہاں درد کو بانٹنے والے کم اور بڑھانے والے زیادہ ہیں۔عائشہ نام کی ہماری روحانی بہن محبت جیسے عظیم رشتے سے ہار چکی تھی، نکاح کا رشتہ دنیا کے تمام رشتوں پر فوقیت رکھتا ہے لیکن اگر یہی رشتہ قاتل رحم بنے تو ہر رشتے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ نکاح کرکے بھی جسے محبت حاصل نہ ہو یقیناً وہ بدنصیب ہے۔ لیکن عائشہ نے محبت کی ریت کو ٹوٹنے نہ دیا یک طرفہ ہی صحیح لیکن خلوص و وفا سے اپنی ہر کاوش سے دنیا کو یہ بات بتا دی کہ وہ معصوم تھی، بولی بالی تھی، شاید دنیا کے شاطر چالوں سے لاعلم تھی، اسے شاید نہیں پتا تھا کہ یہاں رشتے کاروبار بن چکے ہیں۔لیکن جب یہ بات اس پر ظاہر ہوگئی کہ انسانوں کی شکل میں یہاں بعض درندے بھی بستے ہیں تب بہت دیر ہوچکی تھی، قتل نفس سے پہلے اس کی زبان سے یہی درد بھرے الفاظ رواں تھے کہ، "خدا مجھے دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھاۓ”.بقول فراز
میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا​
قتل نفس، خودکشی یقیناً شریعت کی تعلیمات کی روشنی میں حرام و ناجائز فعل ہے۔ کسی بھی صورت میں اس فعل کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اس فعل کا دفاع کیا جائے تو یقیناً ایک ایسا راستہ کھل جائے گا جس پر چل کر کثیر تعداد میں ملت کی بہنیں اپنے وجود کو سپرد خاک کردیں گی کیونکہ یہاں صنف نازک حالت ماتم میں ہے۔حلال و حرام کا اختیار مخلوق کے پاس نہیں لہذا یہ فعل بالکل غلط ہے۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آخرت میں اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے وہ چاہے تو بغیر سزا بھی جنت عطا کرے اور چاہے تو عذاب دے کر جنت سے نوازے کیونکہ یہ بات متفق علیہ ہے کہ عائشہ کلمہ توحید پر انتقال کرگئی۔بلکہ اپنے وجود کو بے وجود کرنے سے پہلے اس کی زبان پر جاری الفاظ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ، "میں خوش ہوں”، ” مجھے اللہ سے ملنا ہے”۔ جو بہنیں اس درد سے گزر رہی ہیں انہوں نے اس کی شدت بھی محسوس کی ہوگی کیونکہ ان کا درد فقط اک راز بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ سماج کے ڈر سے وہ اس درد کو بیان بھی نہیں کرسکتی۔اور اگر بیان کر بھی دیں تو سماج کی غلط فکر انہیں جینے نہیں دے گی۔بھائی کو بولتی۔۔۔ وہ تو اپنی ہی دنیا میں مشغول ہے،وہ تو اسے اپنے گھر میں جگہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں۔۔۔ بیٹی گھر سے کیا نکل گئی، اسے مہمانوں کی فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے، جو اگر اپنے گھر آنا بھی چاہے تو دو دن سے زیادہ نہیں رک سکتی۔ اب جاۓ تو کہاں جاۓ۔ عائشہ کہ وئڈیو اس شعر کی عملی تفسیر ہے کہ
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے ہونے کی گواہی دیں گے
غلط غلط کی رٹ تحریروں اور تقریروں تک ہی جچتی ہے کیونکہ اصل دنیا میں ہم ایک ہی صف میں شامل ہیں۔بس بہنیں اس بات کو سمجھیں کہ اپنے حقوق کے لئے لڑنے کی اجازت آپ کو نبی کریم ﷺ نے دی ہے۔ اپنے حقوق کا دفاع کرنے کا حکم آپ کو رب کائنات نے دیا ہے۔زندگی اتنی سستی نہیں کہ دوسرے کی غلطیوں کی سزا خود کو دی جائے، زندگی اتنی سستی نہیں کہ اسے ان جیسے مسائل پر ختم کر دیا جائے، یقیناً یہ پروردگار عالم کی امانت ہے۔جس پروردگار نے اسے عطا کیا ہے، اسے پروردگار سے تعلق مضبوط کریں۔ اپنے جذبات فقط اسی کے سامنے رکھیں، اپنی آہ و زاری اسے کے دربار میں پیش کریں۔ رونا ہے تو رب کے دربار میں خوب روئیں، وہ دلوں کے اسرار سے واقف ہے۔ وہ دلوں کے بھید سے آشنا ہے۔آزمائش و امتحان، سنت کائنات ہے۔ اسلاف کی سیرت کو پڑھ کر حالات کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ کے سوا کوئی آپ کا اپنا اور آپ کا ہمسر نہیں۔
اہل شعور کو چاہیے کہ اب معاشرے کو ان منکرات سے پاک کرنے کی تحریک چلانے کا عزم کریں۔ کب تک ہم سماج کو کوستے رہیں گے۔ اب عملی کردار کا احیاء کرنا ہوگا۔ ابتداء و افتتاح اپنے گھر سے کرنی ہوگی، بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت عطا کرنی ہوگی۔ میراث میں وہ بھی حقدار ہیں۔ تنقید کرنا آسان ہے لیکن بدلاؤ کہ پہل کرنا کار درد والا معاملہ۔ثانیاً نکاح کے حقیقی مقصد کو اجاگر کرنا ہوگا۔ جہیز کی نحوست و لعنت کو روۓ ارض سے مٹانا ہوگا۔لیکن فقط الفاظ تک نہیں بلکہ عملی کردار دکھا کر۔نکاح سے کسی کی بیٹی، کسی کی بہن آپ کی خادم و نوکر نہیں بن جاتی۔ حقوق نسواں کی حق ادائیگی اسی طرح کرنی ہوگی جس طرح نبی کریم ﷺ نے کائنات کے سامنے پیش کی۔خطباء، مبلغین، واعظین کی بڑی جماعت پر افسوس و ماتم کرنے کا دل کرتا ہے کہ جنہوں نے خودکشی کی مذمت پر بہت بولا اور خوف بولا لیکن حقوق وراثت پر گونگے شیطان بن کر کچھ نہ بول سکے۔بعض جاہل خطیبوں نے تو عائشہ کی بہت تذلیل کی لیکن وراثت کی صحیح تقسیم پر سکوت کرگئے۔ جہاں جہیز حرام، بدعت و سماجی ناسور ہے تو وہیں وراثت پر ظالمانہ قبضہ کرنا پیٹ میں جہنم کے شعلے بھرنے کے مترادف ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ خودکشی پر تبصرہ کرنے والے انفرادی سطح پر وراثت کے بڑے اور شاطر قسم کے ڈاکو تھے۔ اب علماء و طلاب العلم کو سامنے آنا ہوگا، قول و فعل سے سماجی بدعات کا تعاقب کرنا ہوگا۔کیونکہ علماء پر ہی اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اپنے خطبات، اپنے دروس میں ان چیزوں پر خوب رد کریں۔
یارب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخم ہنر کو حوصلہ لب کُشائی دے
شہرِ سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں، تو رستہ سجھائی دے​
سوشل میڈیا پر عائشہ کی حرمت پامال کرنے والے یاد رکھیں کہ کل جاکر یہی حادثہ ہماری بیٹی و بہن کے ساتھ ہوسکتا ہے۔تنقید بہت ہوئی، اب تعمیر کی ضرورت ہے۔ ارباب اقتدار پر بھی لازم ہے کہ ان جیسے مجرموں کو تڑپا تڑپا کر عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔ بیٹیوں، بہنوں پر ظلم و تشدد کرنے والوں کے خلاف جو قانون بناۓ گۓ ہیں انہیں عملی جامہ پہنا کر قوم کو اطمنان میں لایا جائے۔ایسے افراد سماج میں گندے اور بدنما کیڑوں کی حیثیت رکھتے ہیں، لہذا وقت رہتے انہیں قانون کی کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے۔۔۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ بہنوں، بیٹیوں کی حفاظت فرماۓ۔۔۔ اور مجرموں کو آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں   بھی اپنے عذاب میں گرفتار کرے۔ آمین یا رب العالمین۔