خواتین کو ایک دن کی عزت مبارک ہو 

41
خواتین کو ایک دن کی عزت مبارک ہو
ہر سال مورخہ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے اور اس میں خواتین کی بہادری ، انکے کارناموں کو سراہا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں پھیلی جنسی امتیاز کو ختم کیا جاسکے اور عورتوں کو سماج میں ایک خاص مقام دلایا جا سکے۔ عورت قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے اگر عورت نہ ہوتی تو ہمیں ماں ،بہن،بیوی ، بیٹی جیسی عظیم رشتوں سے اور انکی محبت سے آشنائی نہ ہوتی اور یہ دنیا بے رنگین  لگتی ۔جب ومینس ڈے (women’s day) آتا ہے تو شوشل میڈیا پر کیا کہنے ، لوگوں کی بڑی بڑی تقریریں، بحث و مباحثے اور فیسبک ، واٹس ایپ پر طرح طرح کے اسٹیٹس لگاۓ جاتے ہیں جسے دیکھ کر واقعی دل خوش ہوجاتا ہے مگر افسوس دور حاضر میں خواتین کی عزت بس ایک دن تک ہی محدود رہ گئی ہے ۔ سماج کے لوگ عورتوں کی اہمیت پر بہت باتیں کرتے ہیں مگر افسوس لوگ صرف باتیں ہی کرتے ہیں اور وہ باتیں عمل اور حقیقتوں سے خالی ہوتی ہیں آج بھی کونسی ایسی تکلیف ہے جو عورتیں نہیں سہتی ہیں چاہے جہیز کے نام پر ظلم ہو، گھریلو تشدد ہو،جنسی استحصال ہو،یا پھر شادی کے نام پر انکی روح کو مجروح  کرنا ہی کیوں نہ ہو۔بچیاں اگر اپنی تعلیم کے معاملے میں تھوڑی حساس ہوتی ہیں تو پورا سماج اسکے پیچھے پڑ جاتا ، طرح طرح کے لعن و طعن کستا ہے اور دوسری طرف پروگراموں میں ایسی ایسی تقریریں پیش کی جاتی ہیں کہ لگتا ہے  واقعی یہ عورتوں کی مستقبل کیلئے کتنے کوشاں ہیں مگر حقیقت میں خواتین کو زندگی کے ہر مرحلے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے اکثر لڑکیوں کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں کیونکہ سماج انہیں آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا ،والدین ڈر کی وجہ سے اپنی بچیوں کو دوردراز پڑھنے کے لئے نہیں بھیجتے کہ کہیں میری بچی جنسی استحصال کی شکار نہ ہو جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کچھ بہتر نہیں کرسکتی تو ذرا غور کیجئے جو سہولتیں مردوں کو حاصل ہیں کیا وہ عورتوں کو حاصل ہیں ؟ اگر انہیں بھی وہ اسباب مہیا کرا دی جائے جو مردوں کو ہے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی مردوں سے کچھ کم نہیں آجکل کے کچھ نوجوان شاہراہ،سڑکوں پر  عورتوں کو طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہیں اور ان کی شان میں نازیبا کلمات استعمال کرتے ہیں افسوس صد افسوس یہ ہمارے سماج کی تلخ حقیقت ہے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے جنہیں وہ کمنٹس کررہے ہیں وہ بھی کسی کی بہن، بیوی، بیٹی ہے اسلیۓ اپنے اندر انسانیت پیدا کریں اور لوگوں کو عزت دیں خواہ کوئی انجان ہی کیوں نہ ہو۔ جب بیٹیوں کی شادی ہوجاتی ہے تو جہیز کےنام پر تشدد کیا جاتا ہے شوہر اور سسرال والے برتری دکھاتے ہیں اور میکے والے کہتے ہیں برداشت کر کے وہیں رہو اسطرح عورتیں بیزار ہو کر موت کو گلے لگا لیتی ہیں اور اسکے بعد تو لوگوں کی ہمدردیوں کے کیا کہنے ایک سے ایک ہمدرد پیدا ہوجاتے ہیں اور اپنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہیں لوگوں کو گپ شپ کیلۓ موضوع مل جاتا ہے اور سارے لوگ جہیز کے خلاف بولتے ہیں تو آخر پھر یہ جہیز لیتا کون ہے ؟ عورتیں پھر اتنی تکلیف  کیوں اٹھاتی ہیں ؟۔  کسی  کی جنسی استحصال ہوجاۓ تو لوگ بس خاموشی کے ساتھ ایک موم بتی لیں گے اور ریلی نکال دیں گے اور اپنی جانب سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ کیا اسطرح معاملہ حل کیا جاسکتا ہے ؟ سماج کے لوگوں کی دقیانوسی سوچ سے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں تو غور کریں ایسے سماج کا کیا بنے گا
               اب بھی وقت ہے اگر ہر انسان خود کی اصلاح کرلے تو کسی کو بھی دوسرے شخص کی اصلاح کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ہم تعلیم یافتہ تو ہورہے ہیں بڑی بڑی ڈگریاں تو ہیں مگر ضرورت ہے تو صرف سوچ کو بدلنے کی خدارا! جہیز جیسی فرسودہ رسموں کو ختم کریں اپنے بچے اور بچیوں کی اچھی تربیت کریں انہیں مذہب سے جوڑیں اور ہر انسان دوسرے انسان کی عزت کرے چاہے وہ امیر ہو یا غریب مرد ہو یا عورت، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اپنے اندر کی لالچ کو ختم کریں ۔ومینس ڈے پر شوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگانے کے بجائے انسان اپنی عادت و اطوار میں تبدیلی لاۓ اور ایک صاف و شفاف سماج کی تشکیل کی جاۓ ۔ اصل ومینس ڈے تو تب ہوگی جب ایک عورت بلا خوف گھر سے اکیلی باہر جاسکے ،سماج جہیز ،تشدد سے پاک ہو اور عورتوں کو بھی چاہیے کے وہ بھی اپنی عزت کرنا سیکھیں اپنا مقام خود جانیں ، زندگی جینے کا اصول بنائیں اور خود کفیل بنیں۔
         ہم تمام کو ملکر سماج میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنی ہوگی اور یہ کسی ایک سے ممکن نہیں ہے تو آئیے عہد کرتے ہیں کہ ہم ایک صحتمند سماج کی تشکیل کرینگے اور تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھیکنگے۔
گل افشاں شمشاد (برنپور)