انسان اللہ کی مخلوق میں سب سے اشرف ومکرم ہے.. یہ اللہ کا انعام ہے.. انسان مخلوق کی کارستانی اور کمائی نہیں.. یہ شرف وتکریم، اسے اپنے خالق کے شکر و امتنان پر آمادہ کرتی تو یہی مناسب حال تھا. لیکن اللہ کا یہ خلیفہ، اپنی فضیلتوں کی رٹ میں ایسا مگن ہوا، کہ خدا فراموش اور انجام کار خود فراموش ہوگیا.. اس کے حاسد ازلی شیطان نے بھی اس کو اسی فضیلت شماری کے شغل بیکار میں لگاکر خود نگر بنایا، اور اس کی شخصیت کی پامالی دیکھ کر رقص کرتا رہا..

یہ ربانی شرف وتکریم، محض ایک اعزاز نہیں تھا، بلکہ اعزاز کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری کا عنوان، اور کار جہانبانی کا عہد صدق تھا.. جہاں بانی، خالق کی ہدایتوں کے عین مطابق، خلافت ارضی کی کارپردازی تھی،، شوق حکمرانی، اور ذوق کشور کشائی نہیں تھی.. خلافت الہی، اللہ کے بندوں کے درمیان قیام عدل تھا، اور معبود حقیقی کی کلی عبادت کا اہتمام تھا..یوں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں تربیت پائے سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس راز کو سمجھتے تھے، لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بطور خاص سمجھتے تھے.. سیرت وتاریخ کے ماخذوں کے مطابق، کسی بھی جنگ کے لئے، لشکر کشی کے لئے، ان کو قائل کرنے میں بڑی دشواری ہوتی تھی.. اور وہ حدود خلافت کی تیز رفتار زمینی توسیع پر راغب نہیں ہوتے تھے..یہ تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا، کہ انھیں کے خلافت میں سب سے تیز-رفتار فتوحات حاصل ہوں اور حدود مملکت روم وفارس کے حدود تک پھیل جائے .. ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کو، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کبھی حکمرانی کے اس معنی میں نہیں برتا جس کو دنیا اور ہم حکمرانی کہتے ہیں..

‌آج کے ریت کے گھروندوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران کس فریب نظر میں مبتلا ہیں، خدا جانے.. کہ انھیں دوستی دشمنی کی پالیسیوں میں قرآن کی واضح ہدایات اور رسول اللہ کے فرمودات کچھ نظر نہیں آتے.. اپنے ملکوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کی آڑ میں سارے معیار پس پشت ڈال کر من مانی کرنے پر تلے ہوئے ہیں.. اور مصلحت پسند علماء ان کے ہر بے تکے اقدام کی شرعی دلیل ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں.. ہمارے کچھ اسپانسرڈ دینی حلقے تو اب یہ دلیل دیتے نہیں تھکتے کہ، اسرائیل کے ساتھ، ترکی کے سفارتی تعلقات، تو پہلے سے ہی ہیں.. گویا اب ترکی کے، سارے کام کئے جائیں گے. تو ترکی میں تو جمہوریت بھی ہے.. پھر بسم اللہ…. فارسی شاعر نظیری نے کیا خوب کہا ہے کہ :

‌شاخ ہر نخل کہ منبر نہ شود، دار کنم

‌درخت کی جو شاخ منبر نہ بن سکے اس کو تختہ دار بنادیتا ہوں ..
‌اے کاش! شجر انسانیت کی ان بریدہ شاخوں کو ہم ہی نذر آتش دان کرسکتے.