پریم ڈیھا لکھی سرائے میں فروغ اردو سیمینار منعقد کیا گیا۔۔ لکھی سرائے محمد سلطان اختر

42

 

لکھی سرائے محمد سلطان اختر(نوائے ملّت)

لکھی سرائے کے تحت موضع پریم ڈیہا میں فروغِ اردو سیمینار منعقد کیا گیا سیمینار کی سرپرستی کر رہے پروفیسر صلاح الدین صاحب ڈی ایس کالج سکندرا اور مقصود خان سابق مکھیا محی الدین میں ہوا اس سیمنار کی افتتاح شمع افروزی سے کی گئی۔۔شمع افروزی جناب جعفر امام ملک جج جموئی کورٹ نے پروگرام کا آغاز کیا اس پروگرام میں مہمان خصوصی و مہمان اعزازی اور پریم ڈیہا کے ہونہار بچّوں کو بھی نوازا گیا مہمان اعزازی اور مہمان خصوصی کو شعال اور پھول کے مال سے نوازے گئے نوازے گئے مہمانان میں خورشید اکبر صاحب پٹنہ معروف شاعرکی معروف جرنلسٹ، ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی معروف شاعر جموئی، ڈاکٹرللت کمار سنگھ ماہر اطفال ڈاکٹر ایس این جھا، طیب اصغر سابق اسٹوڈنٹ یونین جے این یو، کاظم رضا معروف شاعر پٹنہ، مظہر مجاہدی معروف شاعر، امتیاز احمد دانش معروف شاعرآرہ بھوجپور،سید اسرافیل معروف شاعر واسے پور دھنباد، اس سیمینار کی صدارت کر رہے منظر علی خان نظر سابق چیف منیجر یونین بینک آف انڈیا مہمان اعزازی میں محترمہ ممتا پریا بلاک آفیسر سونو جموئی،پرشوتم تیرویدی بلاک آفیسر جموئی، ڈاکٹر تنویر عالم ایجوکیشن آفیسر بیگوسرائے، سمینار کی نگرانی کر رہے امان ذخیروی، معروف شاعر جموئی، سمینار کی نقابت کو نظامت کے فرائض انجام دے رہے ماسٹر ارشاد صاحب ذخیروی معروف شاعر جموئی، محترمہ ریحانہ نواب معروف شاعرہ کولکتہ، ڈاکٹر ابرار عالم اے ڈی ایم لکھی سرائے، ڈاکٹر شاہین پرواز مشہور معالج سونو جموئی، جناب کمار روی ڈی ای او جموئی، قمر الدین انصاری بی ای او اسلام نگر، ڈاکٹر حسنین احمد ماہر چشم جموئی، پروفیسر محمد رضوان صاحب ایس کے کالج لوہینڈا سکندرہ ان سبھوں کے ساتھ ساتھ پریم ڈیہا کے ہونہار بچوں کو نوازہ گیا، اِس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام شعرا کے فروغِ اردو پر کہا کہ پروردگار نے انسانی وجود کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق لسان یعنی زبان کو وجود بخشی ہے اِس کے وجود کی رعنائی، دلکشی، حسن و لطافت کا جو مظہرہے وُہ اُسکی زبان ہے اردو زبان تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہوتی ہے ہندوستان تہذیب و تمدن کا ملک ہے اس لیے یہاں مختلف اقوام اور زبانیں رائج ہیں یہاں تمام شعرا نے اردو فروغ کی نسبت سے باتیں کی اور اردو زبان کے متعلق جو ترقی ہونی چاہیئے اُس میں اضافہ ہونی چاہیئے اُس پر باتیں کیں فروغِ اردو کے لئے کم سے کم دو روپے کا اُردو اخبار لیا جائے یہ باتیں ڈاکٹر شاہین پرواز مشہور معالج سونو نے کہا اسی طرح سے سے امان ذخیروی نے کہا کہ
منور جس سے ہو ہر دل کا آنگن تھام لیتے ہیں
ہم اپنے ہاتھ میں وہ شمع روشن تھام لیتے ہیں
محبت کی ہمارے ملک کو بے حد ضرورت ہے
چلو پھر پڑھ کے ہم اردو کا دامن تھام لیتے ہیں
اور نقابت و نظامت کر رہے ماسٹر ارشاد ذخیروی نے اپنی نقابت میں ڈاکٹر راحت اندوری کی غزل سنائی چند مصرعے یہ ہیں
میدان شاعری کا سالار چلدیاں۔۔ کشتی حوالہ کرکے پتوار چل دیا۔۔۔ مرنےکے بعد بھی تیری ملکیت رہی۔۔۔
دو گز زمین لے کر زمیندار چل دیا۔۔

محترمہ ممتا پریا نے کام کاجی ماں کے بارے میں نظم سنائی اور کہا ایک ماں نوکری کرکے گھر کا سارا کام کاج کیسے کرتی اور بچوں کو سنبھالتی ہے۔ محترمہ نوتن سنگھ معروف شاعرہ جموئی رومانی نظم جو عشق و محبت سے لبریز تھی تھی آپ نے اپنی نظم میں عشق و محبت چاشنی دے گئیں، ڈاکٹر ایس این جھا نے طنز و مزاحیہ شاعر سے فروغ اردو کے بارے میں باتیں کی اسی طرح ڈاکٹر شاہین پرواز کے موبائل پر میسج کرکے ڈاکٹر محمد انعام الحق عرف میگنو آئی پی ایس ایس اور محترمہ عنایت خان ضلع مجسٹریٹ شیخوپورہ کو ہی پروگرام کا افتتاح کرنا تھا کسی ضروری کام کی بنیاد پر نہیں آسکی تو مسیج سے اپنا پیغام بھیجا کہ میں نہیں آ سکتااسی طرح سبھی شاعروں نے اردو کے معنی چھاؤنی یا شاہی پڑاؤ سے تشبیہ دی ان سب باتوں کے باوجود اردو کے بڑے بڑے قلمکاروں کے بارے میں شاعری انداز میں بتایا اور کہا کہ نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔۔۔

فقیری میں نو ابی کا مزہ دیتی ہے اردو
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔

اپنی اردو محبت کی زبان تھی پیارے۔۔۔
اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے۔۔۔

تمام شعراء کرام فروغِ اردو کے تئیں فکر مند تھے اور انہوں نے اُردو کی ترقی پر باتیں کیں۔کہا کہ اردو لکھنا پڑھنا بہت ہی آسان ہے اردو فروغ کے لیے جو کام کرنا ہے جنہیں کرنے کا ہے پہلا کام خود کریں انفرادی طور پر اردو بولنا اور اردو سننا اور اردو پڑھنا اور اردو لکھنا دوسرا کام ہے سرکاری دفاتر میں ہر طرح کے اخبار آتے ہیں کیا ہمارے سرکاری دفتر میں اردو اخبار آتا ہے اور ہمارے گھر میں اردو پڑھنے والے ہوں یا نہ ہوں اردو اخبار آتا ہے یہ محاسبہ کی ضرورت ہے اور نہیں آتا ہے تو اردو اخبار کم سے کم لینے کی کوشش کریں اردو زبان سیکھنا اور پڑھنا بہت ہی آسان ہے جو ہندوستانیوں کے روزمرہ استعمال ہونے والی زبان اردو ہے جن کی مادری زبان اردو ہے تو اس کو کوئی مشکل نہیں ہے ایک ماہ اگر ایک گھنٹہ دیا جائے تو اُردو زباں سیکھ سکتے ہیں اور تین ماہ کے اندر بہُت آسانی سے مہارت کے ساتھ سیکھ سکتے ہیں ہم جس طرح کی بات کرتے ہیں اسے عام بول چال کی زبان کے تعلق سے سمجھنا چاہیے کہ یہ گنگا جمنی تہذیب کے دو آبے کلچر کا جُزو ہے۔اُسکا شاعری انداز

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا۔۔
ایک ایک نقطہ مثل شیر و شکر
کتنی میٹھی زبان ہے اردو۔۔۔

یہ تھا اکابرین شعراء کرام کی تخلیق۔۔۔ اس موقع پر ماسٹر آفتاب صاحب، محمد سونو اور عطااللہ خان،فتح اللہ خان لکی ماسٹر پھول، ماسٹر شکیل اور نوجوان پریم ڈیہا کے علاوہ دور دراجّ سے کافی لوگ شریک ہوئے اور اس پروگرام کو آگے تک بڑھایا اس موقع پر پر مقصود خان سابق مکھیا محی الدین نگر نے اپنے خسر بزرگوار سے اعلان کروایا یہاں کہ بہت جلد کتب خانہ کی تعمیر کی جائیگی جن کا اعلان عبدالرشید صاحب نے اپنی زبان سے کیا فروغ اردو کے لیے سب سے کامیاب بات رہی کہ وہاں اردو لائبریری کا قیام عمل میں جلد ہی آجائیگا اور عبد الرشید خان صاحب کی دعاء پر اس سیمینار کا اختتام ہوا۔