آج ہی کے دن 22 رجب کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا

39

 

از قلم۔۔۔۔ محمد سلطان اختر
(ریسرچ اسکالر)
بیر ٹکندرا جیت یونیورسیٹی منی پور۔۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بعثت نبوی سے پانچ سال پہلے عرب کے مشہور خاندان قریش میں پیدا ہوئے وہ قبیلہ قریش کے خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے جو حسب نسب اور منصب کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد سب سے زیادہ معزز سمجھا جاتا ہے حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے کے معزز سردار میں شمار ہوتے تھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اندر بچپن ہی سے عزم و حوصلہ کے آثار ظاہر تھے نوعمری کی حالت میں ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو دیکھ کر کہا میرابیٹا بڑے سر والا ہے اور قوم کا سردار بننے کے لائق ہے ایک قیافہ شناس نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھ کر کہا میرا خیال ہے کہ یہ اپنی قوم کا سردار بنے گا ماں باپ نے خاص طور پر ان کی تربیت کا اہتمام کیا، مختلف علوم و فنون سے آراستہ کیا لکھنا پڑھنا سکھایا شروع ہی سے ان کے دل میں اسلام کی محبت گھر چکی تھی اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ بدر،احد، خندق اور غزوہ حدیبیہ میں جوان ہونے کے باوجود کفار کی جانب سے شریک نہیں ہوئے۔۔ البتہ بعض مصلحتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر اسلام کا اظہار کیا۔۔اور اِس طرح اسلام میں داخل ہو گئے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ظاہری حسن و جمال کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے بے شمار باطنی خوبیوں سے بھی نوازا تھا ایک بہترین عادل اور منصف حکمراں کے سارے اوصاف و کمالات آپ کی ذات میں موجود تھے، ان کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے،تم لوگ قیصر و کسریٰ کی عقلمندی و سیاست کی تعریف کرتے ہو حالانکہ امیر معاویہ ان سے بھی بڑھ کر تمہارے درمیان موجود ہیں۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ عالم اسلام کی ان چند گنی چنی ہستیوں میں سے سے ایک ہیں جن کے احسان کا یہ امت کبھی بدلہ نہیں دے سکتی آپ کو کاتب وحی ہونے کا شرف حاصل ہے آپ اسلامی دنیا کے وہ مظلوم شخصیت ہیں جن کی ذاتی خوبی و کمالات کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ آپ پر ایسے بے بنیاد الزامات لگائے گئے جن کی وجہ سے آپ کا وہ حسین ذاتی کردار نظروں سے غائب ہوگیا۔ جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے حاصل کیا تھا آپ کی امانت و دیانت، احساس ذمہ داری، کتابت وحی اور دوسری صفات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے دعا فرمائی "”اے اللہ! معاویہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا اور اس کے ذریعہ ہدایت عطا فرما””
حضرت امیر معاویہ سے حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے صلح کرکے 41 ہجری میں خلافت آپ کے سپرد کردی حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے دس لاکھ درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا،اس سال کو تاریخ عرب میں عام الجماعۃ کا نام دیا گیاہے جہاد کا سلسلہ از سر نو جاری کرنے کے لئے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک حصے سردی کے موسم میں جہاد کرتا اور دوسرا تازہ دم حصہ گرمی کے دنوں میں مصروف جہاد رہتا، آپ نے رومیوں سے سولہ جنگیں لڑیں اور لشکر کو وصیت فرماتے کہ "”روم کا گلا گھونٹ دو”” ان کے دور خلافت میں بحری بیڑے کے ذریعے جزیرہ قبرص فتح ہوا۔ افریقہ اور روم کے کچھ قلعے فتح ہوئے۔ جنگ سبحتان کے ذریعے سندھ کا کچھ حصہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا، ملک سوڈان اور کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قندا میل کے مقام تک پہنچے۔ افریقہ میں سوڈان تک اسلامی پرچم لہرادیا۔ نہر جیحون کو پار کرتے ہوئے بخارا اور سمرقند کو فتح کیا۔ آپ نے قسططنیہ پر زبردست لشکر روانہ کیا۔ یہی وہ غزہ ہے جس میں شرکت کرنے والوں کی مغفرت کی پیشن گوئی اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم نے دی تھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک کامیاب حکمران کی حیثیت سے بحری فوج تیار کی،مصر و شام کے ساحلی علاقوں میں جہاز سازی کے کارخانے قائم کیے 1700 جنگی جہاز رومیوں کا مقابلے کرنے کے لئے تیار کرائے اس کے علاوہ بہت سارے کارنامے انجام جو تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں۔۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اطاعت رسول و عشق نبوی اور خشیت باری کے زندہ تصویر تھے حلیم و بردباری کا یہ حال تھا کہ مخالفین سخت کلامی سے پیش آتے، مگر آپ ہنسی میں ٹال دیتے ہیں حضرت قبیصہ بن جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بڑھ کر کسی کو نرم مزاج نہیں پایا، بسا اوقات برا بھلا کہنے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا کرتے اور فرماتے جو مزہ مجھے غصہ پی جانے میں ملتا ہے وہ کسی چیز میں نہیں ملتا عشق رسول کی بنا پر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں ناخن حفاظت سے رکھے ہوئے تھے جن کے بارے میں وفات سے پہلے وصیت فرمائی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اور ناخن مرنے کے بعد میری آنکھ کان اور ناک میں رکھ کر اللہ کے حوالے کر دینا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں مجھے کفن دے دینا اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ ابو مریم ازدی سے یہ حدیث سنی”” جس شخص کو اللہ نے مسلمانوں پر امیر مقرر کیا پھر اس نے ان کے اور اپنے درمیان پردے حائل کر لئے اللہ تعالی, اس کے اور اپنے درمیان پردے حائل کر دے گا”” یہ حدیث سنتے ہی آپنے لوگوں کی حاجتیں اپنے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک نمائندہ مقرر کر دیا، ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ دمشق کے بازار میں پیوند لگی ہوئی قمیض پہن کر چکر لگاتے اور دمشق کی جامع مسجد میں پیوند لگے کپڑے پہن کر خطبہ دیتے مجھے غرض اسی طرح علم و فضل کا سورج 22 رجب المجرب 60 ہجری کو ہمیشہ ہمیش کے لئے غروب ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔