سرکردہ ملی قیادت کا قابل تحسین قدم

14

سرکردہ ملی قیادت کا قابل تحسین قدم

3 مارچ کو دہلی میں سرکردہ ملی قائدین کی میٹنگ جس خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ اہم ترین ایجنڈوں پر ہوئی وہ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کیونکہ 2014 لوک سبھا انتخابات کے بعد جتنے انتخابات ہوئے خاص طور پر یوپی اسمبلی الیکشن، 2019 لوک سبھا انتخابات، اور بہار اسمبلی الیکشن، ان سبھی الیکشنز میں مسلم ووٹوں کی اہمیت کم سے کم تر ہوتی چلی گئی اور اپوزیشن طاقتیں بھی کمزور ہوتی چلی گئیں نتیجہ یہ نکلا کہ حکمراں جماعت اپنے اعلانیہ وعدوں سے غیر اعکانیہ طور پر مکر گئی اور ہندو راشٹر کے پردے میں برہمن راشٹر قائم کرنے کے اپنے اصل ایجنڈے پر کام کرنے لگی، تاناشاہی شباب پر ہے۔ طلبہ، کسان اور مڈل کلاس لوگوں کے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، عورتوں کی عزت پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہے، ملک میں مہنگائی سے عام آدمی کا جینا مشکل ہوگیا ہے، حق کے لئے آواز اٹھانا ملک سے بغاوت اور غداری کا جرم قرار دیا جانے لگا ہے، اقلیتیں اور دگر کمزور طبقات روز ایک نئے ظلم کا شکار ہورہے ہیں، کہیں ریزویشن میں کٹوتی کی سازش ہے تو کہیں سی اے اے مع این آر سی جیسے تفریقی قانوں سے شہریت چھن جانے کا یقینی خوف، اس بیچ ملک کو سرمایہ داروں کے ہاتھ قسطوں میں بیچا جارہا ہے .
ان حالات کے درمیان ایک اچھی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ملکی سطح پر مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی کی ضرورت اور عدم ضرورت پر کئی سال پہلے سے جو سیمینار کانفرنس اور میٹینگ چل رہی تھیں ان ساری باتوں کے بے نتیجہ اختتام کے باوجود وقت کے تحت خود بخود ملکی سطح پر مسلمانوں کی بنائی ہوئی پارٹیاں نظر آنے لگیں، جہاں ایم آئی ایم پورے ملک میں سرگرم ہوئی اور سیٹیں نکالنے میں بھی کامیاب ہوئی تو ایس ڈی پی آئی کو بھی شناخت ملنے لگی ہے۔ ان کے علاوہ پیس پارٹی، ویلفیر پارٹی، علماء کونسل وغیرہ نے بھی طالع آزمائی شروع کردی، جبکہ آسام میں مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی اور کیرلہ میں مسلم لیگ پہلے ہی سے سرگرم ہے۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے امیر شریعت و جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا سید ولی رحمانی اور دیگر تمام سرکردہ ملی قائدین نے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے ذریعہ بنائی گئی تمام پارٹی متحد ہوکر مسلمانوں کو مضبوط مسلم لیڈر شپ عطاکریں اور پھر سیکولر غیر مسلموں کی پارٹیوں سے بھی چناوی اتحاد قائم کریں یعنی مسلمان کسی دیگر سیکولر پارٹی کے اندر ضم نہ ہوں بلکہ اپنے متحدہ سیاسی محاذ اور مشترکہ بینر تلے غیر سنگھی طاقتوں سے اتحاد کریں تو نہ صرف 2014 کے بعد سے کھویا ہوا سیاسی وقار بحال ہوگا بلکہ ان شاءاللہ مسلمان واقعی بادشاہ گر کے فیصلہ کن رول میں ہوں گےاور اس ملک میں اقلیتوں دلتوں آدی واسیوں تمام کمزور طبقات کے بہت سارے مسائل بآسانی حل ہوں گے..
لیکن قابل غور ہے کہ اس سلسلے میں ایک خاص الجھن اس وقت پیش آسکتی ہے جبکہ مسٹر اویسی ، جناب تسلیم رحمانی، یا ڈاکٹر ایوب وغیرہ جیسا کوئی بھی ایک مسلم لیڈر مسلمانوں کے ذریعہ بنائی گئی دوسری پارٹیوں سے اتحاد کے لئے تیار نہ ہوں جیسا کہ بعض مسلم لیڈروں اور پارٹی کی یوپی اسمبلی الیکشن سے لیکر بہار اسمبلی الیکشن تک ایسی ہی غلط پالیسی رہ چکی ہے توپھر مؤثر اور متفقہ مسلم لیڈر شپ یا مضبوط پریشر گروپ کا خواب پورا نہیں ہوگا.
اس الجھن کو دور کرنے کی ذمہ داری بھی سرکردہ ملی قیادت کے ذمہ ہونا چاہئے اور یقینا ان سے یہ کام ہوسکتا ہے کہ اگر ہمارا کوئی بھی لیڈر اپنی حد سے بڑھی ہوئی جذباتیت اور ون مین شومین بننے کی خواہش میں مبتلا ہوتو بڑے ملی قائدین ہرقیمت پر افہام وتفہیم سے ملت کے وسیع تر مفاد میں ان کی خواہش بیجا کو ختم کروائیں.
یہ عین ممکن ہے کہ کوئی مسلم لیڈر بہت باصلاحیت ہو مگر مخلص نہ ہو جبکہ صرف صلاحیت ہرگز کافی نہیں لیڈر کا ملت کے ساتھ مخلص ہونا بھی انتہائی ضروری ہے، پس اگر وہ باصلاحیت ہونے کے ساتھ مخلص بھی ہوئے تو ضرور بلاتامل اتحاد کی دعوت کو لبیک کہیں گے اور مان جائیں گے ، ملت کو متحدہ مضبوط ومؤثر لیڈر شپ ملے گی لیکن اگر نہیں مانتے ہیں تو ملت اسلامیہ ہند کو اپنی سادگی سے باہر نکلنا چاہئے، جذباتی تقاریر اور سیاسی ڈرامے بازی کے پیچھے کی حقیقت کو سمجھنے میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے، خواہ وہ ظاہر میں فرشتوں جیسی شکل صورت بھی بنائے، تسبیح کے دانے لیکر گھومے، خانۂ کعبہ کا غلاف پکڑ کر روتے ہوئے فوٹو کھنچوائے اگر مسلمانوں کے وسیع تر ملی مفادات کے لئے مسلمانوں سے اتحاد کے لئے تیار نہیں ہے تو وہ ملت کا خیر خواہ نہیں ہے بلکہ بہروپیا اور شیطان ہے .
…………………………………….
مفتی حسین احمد ہمدم
ایڈیٹر چشمہء رحمت ارریہ