آج عائشہ تو کل کوئی اور۔آہ اور کتنی عائشائیں ہونگی قربان۔ نوراللہ حبیب ندوی ۔

43

آج عائشہ تو کل کوئی اور۔آہ اور کتنی عائشائیں ہونگی قربان۔

نوراللہ حبیب ندوی ۔

عائشہ کی خود کشی سے قبل کی ایک ویڈیو پر میری نظر پڑی اس و ویڈیو میں اگرچہ عائشہ ہنستی مسکراتی نظر آرہی تھی۔ اگرچہ عائشہ نے ہنسے مسکراتے اور بڑے ہی اطمنان سے اپنی بات کے ساتھ ساتھ ڈھیروں پیغام چھوڑ گئی۔ مگر اس دلفریب مسکراہٹوں کے پیچھے دل میں درد و الم کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ جس کی طغیانی عائشہ کی آنکھیں نم کررہی تھی۔والد نے فون پہ خوب سمجھانے کی کوشش کی غوث پاک اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوب قسمیں دیں۔ والد نے کہا میری عائشو میری جان دیکھ تو ایسا ہرگز نہ کرنا۔ دنیا تجھے بزدل سمجھے گی۔ میری جان میں نے تیرا نام اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مقدس نام پہ رکھاہے بیٹا تجھے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا واسطہ لوٹ آ۔ لیکن عائشہ یہ کہتی ہوئی اپنے آپ کو سابر متی ندی کے حوالے کردی کہ ابو آپ کی عائشہ تو مقدس قسمت لیکر تو پیدا نہیں ہوئی ۔اگر بچ گئی تو لے آنا ۔اگرچہ عائشہ اپنے دلفریب مسکراہٹوں کے ساتھ دل میں غم کا ایک سمندر سمیٹے کسی پہ کسی طرح کا الزام تراشی کیے بیغیر اپنے آپ کو سمندر کے حوالے کرتو دیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی۔عائشہ اور عائشہ کی طرح ہزاروں معصومات کی موت کا ذمہ دار کون ؟؟ ہمارے اس سماج میں اور نہ جانے کتنی عائشائیں ہیں جو جہیز کے لالچی خاوند اور ساس سسر کے ہاتھوں ستائی جارہی ہیں۔اور جب ظلم و ستم حد سے سوا ہوتا ہے تو یہی عائشائیں اپنے آپ کو سمندر کے حوالے اور نذر آتش کرنے ہی میں عافیت محسوس کرتی ہیں آج مجھے اپنے سماج و معاشرے کے بانجھپن کا احساس ہورہا ہے ہمارا معاشرہ کتنا بانجھ اور بہرا ہوچکا ہے کہ ماں عائشہ کی عظمت بیان کرتے انکی زبان نہیں تھکتی۔ لیکن انہیں اپنے ہی معاشرے میں سسکتے بلکتے معصومات کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ اے گونگا بہرا سماج اٹھو اور اب بچالو بلکتی اور لالچی خاوند کے ہاتھوں پستی ہوئی عائشائوں کو۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی تو اصل جہاد ہے۔ پھاڑڈالو اس ظلم کے دبیز چادر کو۔ اور اب اعلان کردو کہ جہیز لینا ظلم ہے حرام ہے اور ہم اس ظلم کے خلاف ہیں ۔کیونکہ اب کسی اور عائشہ کو ہم سمندر کے نذر ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔