ارئین کرام!

اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت مطہرہ اور خلفائے راشدین کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مذہب اسلام پوری انسانیت کے لئے خواہ وہ عیسائی ہو یا یہودی یا دیگر مذاہب کے پیروکار ہر ایک کے لئے من جانب اللہ ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں ہر ایک کے ساتھ عزت و احترام رواداری امانت و دیانت داری ایفائے عہد اور عدل و انصاف پر اجر و ثواب ہے تو وہیں کمزوروں پر بےجا ظلم، اور کسی کی حق تلفی پر عتاب بھی ہے مذہب اسلام نے کسی بھی مذہب کے پیشوا اور رہبر پر انشاء پردازی دشنام طرازی سے منع فرمایا ہے اور خود نبی کریم نے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کر امت کے سامنے عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے وہ کفار ومشرکین جو مسلمانوں کی راہ میں ہر قسم کی شر انگیزی سے باز رہتے ہیں قران مجید میں خود اللہ ربّ العزّت نے ان پر زیادتی سے منع فرمایا ہے اور انکے ساتھ بھلائی اور انصاف کا حکم فرمایا ہے

ترجمہ:جن لوگوں نے تم سے دین کے سلسلے میں قتال نہیں کیا اور تم کو گھروں سے نہیں نکالا تو اللہ انکے ساتھ بھلائی کرنے اور انصاف کرنے سے تم کو منع نہیں فرماتا بے۔

(ممتحنه ٨)

اسی طرح ایک واقعہ ہیکہ نبی کریم کے پاس مسئلہ آراضی پر کچھ نااتفاقی کی وجہ سے ایک مسلم اور یہودی کا مقدمہ پیش ہوا مسلمان یہ جان کر نبی ہیں ہمارے حق میں فیصلہ دینگے خود مقدمہ لے گیا لیکن آقاء نے فیصلہ یہودی کے حق میں دیکر (جو کہ انصاف پر مبنی تھا) رہتی دنیا تک کو پیغام دیا کہ اسلام مذہب سے بالا تر ہوکر انصاف کا پیغام دیتا ہے اور تمام مذاہب کے حقوق کی پاسداری کا بھی درس دیتا ہے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معتقد ہیں اور یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معتقد لیکن مسلمان تو بحمد اللہ آج تک انکی شان میں گستاخی اور سب وشتم تو در کنار بلکہ ان پر اور انکی کتابوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور جو شخص ان شخصیات کا احترام نہ کرے یا انکی کتاب پر ایمان نہ لائے پھر اگر چہ مسلمان ہونے کا وہ مدعی ہو لیکن تمام مسلمان اسکو خارج از اسلام سمجھتے۔

اسی طرح دنیا میں سماجی سیاسی مذہبی تنظیموں کے ماننے والوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ اپنے بڑے ،بزرگوں کا عزت و احترام کرتے ہیں اور انکی شان میں ادنی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتے اور باختلاف مقاصد و مذاہب ایک دوسرے کو عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

ان سب کے باوجود اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روز اول سے ہی دشمنان اسلام نبی آخر الزماں پر کیچڑ اچھالتے رہیں ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے کبھی تعدد زوجات کے نام پر اور کبھی عمر زوجات کے نام پر اور بحمد اللہ علماء کرام نے انکو اطمینان بخش جوابات بھی دئے اور بعض کو دنیا میں ہی کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن انکا اعتراض برائے اصلاح نہیں بلکہ برائے تضحیک ہوتا ہے جب سے اس ملک پر فسطائی طاقتیں قابض ہوئی ہیں وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر اور زمام اقتدار کی لالچ میں اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور اس ملک کی بھائی چارگی کو ختم کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور سماجی مسائل سے عوام کے ذہن کو دور کرنے کے لیے مختلف قسم کے حربے آزماتے رہتے ہیں اور ہر خاص و عام عوام کو کسی نہ مسئلے پر الجھائے رہتی ہے ابھی حال ہی میں کرناٹک کی راجدھانی بنگلور میں ایک MLA کے بھانجے نوین نامی شخص نے کسی کے اشارے پر یا خود سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر قابل اعتراض پوسٹ کی جس پر تھانے میں اطلاع کے باوجود پولیس کی فوری کاروائی نہ کرنے پر شہر بنگلور میں متعدد مقامات پر آتش زنی کی گئی اور کئی پولیس اسٹیشنوں کو نذز آتش کردیا گیا اور لاکھوں کروڑوں کے نقصانات کے ساتھ پولیس کی فائرنگ میں تین عاشق رسول شہید ہوگئے اور بہت سے گرفتار کئے گئے اس واقعے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی طرف سے نوین کو کڑی سے کڑی سزا کی مانگ بھی کی گئی اس واقعے کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے خدا جانے لیکن ایک جمہوری ملک جس میں تمام مذاہب کے حقوق کی تحفظ کی ذمہ دار ی لی گئی ہو اس طرح کے واقعات کا بار بار پیش آنا نہایت ہی افسوس ناک ہے یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے بلکہ باتفاق مسالک مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تضحیک آمیز جملے کہنا خواہ قولا ہو یا فعلا تقریرا ہو یا تحریرا ہہر صورت حرام ہے اور اسکا مرتکب قابلِ سزا ہے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن ایک عام مسلمان بھی گستاخئ پیغمبر برداشت نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لیے ہمہ وقت قربانی دینے کو تیار رہتا ہے خود آقا نے فرمایا کہ کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا اس وقت تک جب تک کہ وہ اپنے والدین سے بھی زیادہ ہم سے محبت نہ کرنے لگے جب ایک غیرت مند شخص والدین کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا تو وہ اس نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی توہین کیسے برداشت کرسکتا ہے جس نبی نے اپنی روشن تعلیمات کے ذریعہ دنیا کو فلاح آخرت کا راستہ دکھایا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا ملکی اور عالمی قانون کی رو سے قابل گرفت عمل ہے جس پر انتظامیہ کو فوراً نوٹس لیکر جو لوگ بھی اس میں ملوث تھے ان پر فوری کاروائی کرنا تھا لیکن پولیس تھانے پر اطلاع کے باوجود کاروئی نہ ہونے پر اپنے جائز مطالبات کے خاطر پر امن احتجاج کرنے والوں پرگولیاں برسانا اور انکو موت کے گھاٹ اتاردینا پولیس کے اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے توہین پیغمبر پر سخت قانون نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن اسی قسم کے مفلوج العقل نکمے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے رہتے ہیں اور مسلمان چند دن احتجاج کر کف افسوس ملتے رہتے ہیں اس لئے ہم تمام مسلمان انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ توہین رسالت پر سزائے موت یا عمر قید کا قانون بنائے اور مرتکب کو کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ پھر اس قسم کا واقعہ رونما نہ ہو اور کوئی بدذات لعین شخص نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان درازی کرکے ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ملک کے امن وامان کو نقصان نہ پہنچائے!