جنگ آزادی میں مسلم گُمنام شہداء۔۔۔۔شیبا کوثر (آرہ)

ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی عظیم قربانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے بلاشبہ اگر ملک کے آزادی کی لڑائی میں مسلمان آگے نہیں بڑھتے تو ہندوستان کی آزادی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا سیکڑوں مسلمانوں نے آزادی کے لئے جام شہادت نوش فرمایا لیکن آج ہم ان کے کارنامے سے غافل اور بے خبر ہوتے جارہے ہیں ہمیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کن کن مسلمانوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے آج بھی کتنے شہداء ایسے ہیں جن کے نام ہمیں نہیں معلوم ہیں ان ہی کا پتہ لگانا ان کے بارے میں جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے جنگ آزادی میں مسلم شہداء میں کچھ ان گمنام ہستیوں کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں اور ان کی زندگی کو اختصار کے ساتھ قلم بند کرنا چاہتی ہوں جنگ آزادی کے تمام شہداء کا تذکرہ اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے پھر بھی اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوشش کر رہی ہوں کئی مصنف کی کتاب زیرِ مطالعہ ہے جس میں ایم ایس ابراہیمی صاحب کی کتاب جنگِ آزادی کے مسلم شہداء نے زبردست معانت کی ہے۔ ہماری آج کی جو نسلیں ہیں اُن کو یہ سب بالکل معلوم نہیں۔میں قارئین کرام سے بھی گزارش کرتی ھوں کہ وہ جنگ آزادی کے مسلم شہداء کی فہرست تیار کریں اور اس پر ایک مستقل مطالعے کی ضرورت ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے آزادی کی مقدس جنگ میں کروڑوں ہندوستانیوں کا حصہ رہا ہے خصوصی طور پر علماء کی لمبی فہرست رہی ہے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار علماء کی شہادت ہوئی ہے۔مُسلم خواتین کی بھی لمبی فہرست رہی ہے۔ اس میں ہندو مسلمان سکھ عیسائی اور تمام فرقہ بھی۔۔جن میں عام مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد شامل ہیں جنہیں مادر وطن سے بیش بہا محبت اور عقیدت تھی وہ کسی قیمت پر اپنے وطن کو غیر ملکی حکومت کے توسط سے اس کو برداشت نہیں کر سکتے تھے انہوں نے وطن کو آزاد کرانے کی خاطر جام شہادت خوشی خوشی نوش فرمایا جس میں کُچھ مسلمانوں کے نام انڈیا گیٹ پر لکھے ہوئے ہیں تمام مذاھب کے لوگوں میں انڈیا گیٹ پر نام نسب ہیں اُس میں بھی مسلمان سر فہرست ہیں جن میں شہید ہونے والے شہداء جو گمنام ہیں وہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں جن کا اب تک پتہ ہی نہیں ہے ان کی اچھی خاصی ایک فہرست بنانے کی ضرورت ہے۔۔۔

جنگ آزادی میں احمد اللہ صاحب شہید ہوئے جنگ آزادی میں علماء کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن ایک عام بہادر ہندوستانی کی تعداد کافی ہے ۔۔ احمد اللہ صاحب آپ 1808 عیسوی میں پٹنہ میں پیدا ہوئے جناب الہی بخش کے صاحبزادے تھے جو ممتاز شہریوں میں تھے کچھ عرصے تک آپ ڈپٹی کلکٹر بھی رہے آپ نے وہابی تحریک میں حصہ لیا 1857 میں گرفتار ہوئے تین ماہ بعد تمام سرکاری عہدوں سے برطرف کردیئے گئے نومبر 1864میں دوبارہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا حکومت کے خلاف سازش کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا 27 فروری 1865 کو آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا بعد میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور آپ کی ساری جائیداد ضبط کر لی گئیں آپ کو سزا میں کالا پانی بھیج دیا گیا تھا 1865 میں انڈمان جیل میں قید کردیا گیا اکیس نومبر 1881 کو انڈومان جیل میں آپ نے شہادت پائی آپ کی تدفین میں کسی کو شرکت کرنے نہیں دیا گیا۔۔

اسی طرح سے دوسرے احمداللہ ہیں آپ امرت سر پنجاب میں 1884ءمیں پیدا ہوئے آپ جناب کریم بخش کے صاحبزادے تھے آپ نے برطانوی حکومت کے خلاف قومی سرگرمیوں میں حصہ لیا جالیان والا باغ امرتسر میں برطانوی حکومت کے خلاف ایک جلسہ عام میں شریک ہوئے اُس جلسہ میں لوگوں پر مشین گنوں سے اندھا دھند گولیاں برسائی آپ گولیوں سے شدید زخمی ہوئے اور 25 مئی 1919 کو آپ نے شہادت پائی….

تیسرے احمد اللہ خان یہ بدایوں یو پی کے باشندے تھے انقلابی حکومت کے تحت بدایوں کے نائب ناظم رہے 1857 کی جنگ آزادی میں زبردست حصہ داری لی،5 اگست 1857 میں ہی موت کی سزا دے دی گئی گی
اسی طرح سے چاند خان مدھیہ پردیش کے باشندے 1857 کی تحریک میں حصہ لیا انہیں پھانسی دے دی گئی دوسرے چاند خان ہریانہ کے باشندے تھے تھے برٹش آرمی کے فوجی بھی تھے 1857 کی تحریک میں حصہ لیا سری رام کی قیادت میں لڑائی لڑی 2 جنوری 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔۔

چراغ خان آپ موضع کپورتھلا پنجاب میں پیدا ہوئے محمد علی کے صاحبزادے تھے ہوئے ملایا میں آزاد فوجی میں شامل ہوئے اسی معرکہ میں شہید ہوئے ہوئے۔۔
دوسرے چراغ دین آپ انیس سو ایک میں موضع مراد خان ضلع لاہور پنجاب میں پیدا ہوئے جناب محمد بخش مزدور کے صاحبزادے تھے قومی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے 13,اپریل 1919 کو جالیاں والا باغ امرتسر میں ایک جلسہ عام میں شریک لوگوں پر برطانوی فوجی نے مشین گنوں سے اندھا دھند گولیاں برسائیں اور آپ جام شہادت پائی۔۔

ہارون حامد آپ 1931 میں پیدا ہوئے رائل انڈین نیوی کے سپاہی کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مشہور اور مقبول عام مظاہرے میں شریک ہوئے 22 فروری 1946 میں ممبئی پولیس فائرنگ کے دوران زخمی ہو کر شہید ہو گئے۔۔

ہاشم محمد آپ انیس سو بائیس میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئے تیسرے درجے تک تعلیم پائی ہندوستان چھوڑو تحریک انیس سو بیالیس میں حصہ لیا 12 اگست 1942 کو پولیس فائرنگ میں گولیوں سے شدید زخمی ہوئے اور اسی دن شہادت پائی۔۔

جنگ آزادی میں شہداء ملک و قوم کے لئے جان نچھاور کرنے والے مسلم نام اور شہداء کی حیات اور شخصیت کا نام و خدمات قربانی کے سلسلے کئی کتاب پڑھی ہے جنگ آزادی کے مسلم شہدا کی کتابوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہم اُن تمام مصنف کی شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ ذخیرہ ہم لوگوں تک اکٹھا کیا ہم اپنے قوم کے بچوں کو مسلم شہداء کے بارے میں ضرور بتائیں تاکہ ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو پتہ چل سکے کتنی قُربانی ہوئی ہے۔۔۔

ایسے ہی تھوڑے کہا جاتا ہے کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑے ہی ہے