قرآن پاک کو قواعدکی رعایت کے ساتھ سنوار کر پڑھنا بہت محبوب عمل ہے. مفتی حسین احمد ہمدم

35

ارریہ (معراج خالد) روز نامہ نوائے ملت
جامع مسجد صدیقیہ مرزا بھاگ شہر ارریہ میں قرات نعت اور خطابت کے زمروں میں ایک انعامی مسابقتی پروگرام کا انعقاد ہوا پروگرام کے علمی رہنماء مفتی حسین احمد ہمدم مدیر چشمۂ رحمت ارریہ اور انتظامی سرپرست مولانا سعود عالم رحمانی رہے . مسابقہ کے الگ الگ زمروں کی صدارت ماسٹر بختیار احمد ہاشمی مولانا زبیر عالم مظاہری اور مفتی علیم الدین نے کی جبکہ حکم کے فرائض زمرۂ اول میں قاری نیاز احمد قاسمی, مفتی غالب, زمرۂ ثانی میں قاری عبدالباری زخمی, مفتی حسان جامی اور زمرۂ ثالث میں مفتی ہمایوں اقبال ندوی, مفتی مشرف قاسمی نے ادا کئے. ہر زمرے کے اول دوم اور سوم پوزیشن لانے والے مساہمین کو نقدی اور کتابیں انعام کے طور پر دی گئیں جبکہ دیگر مساہمین کو بھی تشجیعی انعامات سے نوازا گیا.
اس موقع پر مولانا زبیر عالم مظاہری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ارریہ کی سرزمین پر ایک تاریخی پروگرام ہے اس کے لئے تمام انتظامی اراکین بےحد مبارکباد کے قابل ہیں . انہوں نے کہا کہ آج مساہمین طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کے حیرت انگیز مظاہرے کئے ہیں جو ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں .

مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کا انعقاد علاقے میں ایک بہترین اور مفید شروعات ہے. ان بچوں کے تیور سے اور لہجوں سے ہمارے ان بزرگوں کی یاد تازہ ہوگئ جنہوں نے اسلام کی حفاظت واشاعت کے لئے اپنی بہترین صلاحتیں اور زندگی نچھاور کیں اللہ ان مساہمین کو اور ہم سب کو بھی اپنے دین کے لئے قبول فرمائے. مفتی حسین ہمدم نے مساہمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ افضل الذکر قرآن پاک کو قواعدکی رعایت کے ساتھ سنوار کر پڑھنا بہت محبوب عمل ہے اور شرعی دائرے میں رہتے ہوئے نعت رسول پڑھنا بڑی سعادت کی بات ہے جس سے عشق نبی کے پاکیزہ جذبات ابھرتے ہیں جبکہ تقریر اسلام کے دفاع کا ایک ذریعہ ہے لہذا ان چیزوں سے دلچسپی بھی بہت مبارک ہے . انہوں نے مساہمین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ … تاہم آپ کے لئے اول ترجیح تعلیمی استعداد پیدا کرنے کی ہونا چاہئے کیونکہ ایک عمدہ حافظ اور باصلاحیت عالم ہی بہترین قاری اچھا نعت گو اور باوقارخطیب ہوتا ہے. اسباق کے اوقات میں یا درسی مطالعہ ومذاکرہ کے متعین اوقات میں نصابی سرگرمیاں ہی اچھے طالب علموں کا معمول ہونا چاہئے, البتہ ہفتہ واری انجمن کی بڑی اہمیت ہے اس کی تیاری خالی اوقات میں ضرور کرنا چاہئے تاکہ آپ کے اندر کی خفتہ و خوابیدہ صلاحتیں بیدار ہوں بلکہ ان میں نکھار بھی آئے.انہوں نے کہا کہ آج کا یہ مسابقہ دراصل ضلع سطح کا نہیں بلکہ ملکی سطح کا مسابقہ ہے جس میں بہار کے علاوہ مہاراشٹر,دیوبند,سہارن پور,لکھنؤ, سورت ,بنگلور کرناٹک,مغربی بنگال اڈیشہ اور جھارکھند کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے حصہ لیا.
پروگرام کے انعقاد میں حافظ انیس الرحمن کے ساتھ مرزا بھاگ کے تمام نوجوانوں کی کوششوں کوخوب سراہا گیا اور حوصلہ افزائی ہوئی. بطور مہمان خصوصی ماسٹر عابد مرزابھاگ, ماسٹر محمد محسن, قاری محمد امتیاز امام الہند اکیڈمی, اصحاب الدین,انوار عالم, قاری نوشاد عالم حاجی جاوید عالم مولانا صدام مفتاحی،حافظ عبدالحمید،حافظ اوصاف، حافظ انیس الرحمن، حافظ ناصر، حافظ آغاز، مومون الرشید،کامران،ماسٹر ظفر اور دیگر اہم شخصیات کی آخر تک موجودگی رہی .