عورت مرد کے لئے ڈھال یا وبال جا ن شیبا کوثر(آرہ)

23

عورت مرد کے لئے ڈھال یا وبال جان

شیبا کوثر(آرہ)

عورت کی کہانی ایک ایسی داستان ہے جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے عورت ذات پر کتنا لکھا جاچکا ہے لیکن عورت ایک ایسی پہیلی ہے کہ نہ سمجھنے کی نہ سمجھانے کی، آخر کوئی نہیں جان سکا کہ عورت کیا چیز ہے ایک بہن ہے توگھر کی مہک ہے، ماں ہے تو جنت کی خوشبو ہے، بیوی ہے تو دنیا کا سکون ہے،بیٹی ہے تو دنیا دولت ہے، لیکن اگریہ بگڑ جائے تو پھر عذاب ہی عذاب ہے بس اسے کہاں تک لکھا جائےقلم ساتھ چھوڑ دیتا ہے الفاظ ختم ہوجاتے ہیں لیکن حتمی طورپر عورت کے بارے میں کوئی بھی نہیں لکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں تاحیات رہتے ہوئےسمجھا جاسکتا ہے بیوی کی صورت میں وہ ایک نعمت سے کم نہیں سکون دینے میں اور چھیننے میں بھی پیچھے نہیں ہےلیکن ایک پھول ہے جس کو جدا نہیں کیا جاسکتا اس کو سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے کہ اس کی تازگی ختم نہ ہوجائےورنہ دوسرا پھول کہاں سکون دیتا ہے۔ عورت کو سمجھنا ہے تو اس کو پہلے انسان تسلیم کریں ۔ جیسے مرد انسان ہے اسی طرح عورت بھی انسان ہے اور انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا ہے اس میں اچھائی اور برائی دونوں ہوتی ہیں جس میں اچھائی ہو برائی کو ڈھانپ لیتی ہے وہ اچھا انسان ہوتا ہے اچھے انسان میں بھی برائی موجود ہوتی ہے بس چھپی ہوتی ہے عورت کو فرشتہ یا شیطان سمجھنے کے بجائے اس کو انسان سمجھیں۔ عورت اور مرد یہ دو ذاتیں اللہ نے بنائی ہے عورت سے ہی حسن کائنات ہے اگر عورت نہ ہوتی تو دنیا کا حسن مانند پڑجاتا عورت ذات ایک خوشبو ہے جو اپنے آنگن کو ہر پل مہکاتی رہتی ہے عورت وہ محبت عظیم ہے جس کے سامنے پہاڑ بھی ریزہ ہوجاتا ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترم اللہ کو پیاری ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے حضرت موسیٰ علیہ السلام جلیل القدر غصہ والے پیغمبر تھے جب اللہ پاک سے ہمکلام ہونے لگے تو آواز آئی کہ "موسیٰ سنبھل کر اب تمھارے لئے دعاء کے لئے اٹھنے والے ہاتھ اب نہیں رہے” مطلب کہ جب حضرت موسیٰ کوہ طور پر جاتے تھے تو ان کی والدہ ان کے لئے دعاء کرتی تھیں جب وہ ہاتھ نہیں رہے تو ہھر حضرت موسیٰ کو تنبیہہ ہوئ۔۔۔۔

ایک واقعہ سے عورت کے اچھائی اور برائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔۔

ایک دلچسپ واقعہ
ایک ﻣﺴﺎﻓﺮ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﺗﯽ ہوئی ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﻣﮩﺬﺏ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻃﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺑﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
اُس شخص ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ کیا ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ہے؟
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺩﮬﺎﮌ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ اتنے ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘُﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﮦ ﻭ بکا ﺳُﻦ ﻟﯿﮟ۔
اُس شخص نے ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﺁﺩﻣﯽ گڑگڑاتے ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳُﻨﻮ، ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﺎﺅﮞ ﮔﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ تھا،
ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺸﮑﯿﺰﮦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍُﻧﮉﯾﻞ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﺮﺑﺘﺮ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗُﻢ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﻮ ﻟﯿﺎ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣُﺴﺎﻓﺮ ﯾﮩﺎں نہ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﺎ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍُﺳﮯ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻭ حوصلہ افزائی کی اور ﺟﻮﺍﻧﻤﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻮﺭﺕ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ موقع پاکر ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺮﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﺟﺎﺅ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﮨﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ تم ﺍُﺳﮯ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ وہ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻢ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ تم ﺁُﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ وہ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻡ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﯽ اور تمہارے خاندان کو بھی خوش رکھے گی۔اِس عورت کے دونوں پہلووں کو آپ نے دیکھا عورت ٹھان لے پھِر کسی گھر میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔