ایک بلند آواز خاموش ہوگئی

32

عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا انتقال شعر و سخن کی دنیا میں ایک ایسا خلا ہے جس کا پر ہونا بہت مشکل ہے ادب کی دنیا کا ایک ایسا خسارہ ہے جسے مستقبل قریب میں پورا نہیں کیا جاسکتا راحت اندوری کی گرجدار آواز تو ضرور ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی لیکن انکے نغمات،ان کے اشعار ہمیشہ گونجتے رہیں گے انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ بیباکی کا اظہار کیا ہر موقع پر جرات و جواں مردی کا ثبوت دیا انکے اشعار سے گنگا جمنی تہذیب اور حب الوطنی کی بو آتی ہے وطن کی شان میں انہوں نے ایسے ایسے اشعار کہے ہیں کہ ہر ہندوستانی کا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کا سینہ چوڑا ہوجاتا ہے انکے کلمات و اشعار جہاں ایک طرف لوگوں کے دلوں میں وطن پر مرمٹنے کا جذبہ پیدا کرتے رہیں گے وہیں دوسری طرف فرقہ پرستوں کے چہروں پر طمانچہ بھی مارتے رہیں گے

مرحوم  کہا کرتے تھے کہ میں مرجاؤں تو میری الگ پہچان لکھ دینا،، لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا
راحت اندوری ایک ایسا نام ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وطن کی خوشحالی اور عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنا ان کی نس نس میں شامل تھا

ادب کی دنیا میں راحت اندوری کا مقام بہت بلند تھا حالات سے گھبرانا تو وہ جانتے ہی نہیں تھے بلکہ حالات سے گھبرانے والوں کے ساتھ بھی ڈھال بن کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے ان کا اسٹیج پر آنا، مائک پر کھڑے ہونا اور انداز بیاں کبھی بھلایا نہ جائے گا جب حالات حاضرہ پر مشاعروں میں انکی آواز گونجتی تھی تو سامعین محو حیرت ہوجاتے تھے یہ خوبیاں یہ کمالات ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتے کبھی کسی محفل میں وہ گھبرائے نہیں، ڈرے نہیں تسلی بخش اشعار، للکار نے والے اشعار، نصیحت آمیز اشعار یعنی انکے پاس ذخیرہ تھا شعرو  سخن کا اور بے مثال انداز تھا حالات اور ماحول کے سانچے ڈھل جانے کا آج اس بلند ترین آواز کی ضرورت تھی تو افسوس صد افسوس کہ ضرورت کے موقع پر وہ آواز خاموش ہوگئی اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ موت اس کی ہے جس کا زمانہ کرے افسوس یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے راحت اندوری بذات خود ایک انقلاب تھے، ایک تحریک تھے، انصاف پسند عوام کی آواز تھے، شعر و سخن کی دنیا کے بلند ترین مینار تھے اور ظلم و جبر و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے تھے جب مشاعروں کی محفل کا انعقاد ہوگا تب راحت اندوری کی یاد آئے گی بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب مشاعروں کی محفل سجے گی تو راحت اندوری کی کمی محسوس کی جائے گی، ملک و ملت کے مفاد میں کوئی تحریک چلے گی تو راحت اندوری کی یاد ضرور آئے گی جب وہ گرجدار اواز سنائی نہیں دے گی تو ایک سنسان سا ماحول کا احساس ضرور ہوگا اکثر و بیشتر وہ یہ شعر کہا کرتے تھے کہ دو گز ہی سہی اپنی ملکیت تو ہے،، اے موت تونے مجھے زمیندار کردیا،، آخر وہ دن آہی گیا سب کو روتا بکتا چھوڑ کر اسی ملکیت یعنی قبر میں دفن کر دیئے گئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم راحت اندوری کی کی مغفرت فرمائے آمین –