نظم:ریحان فلکؔ ممبئی مہاراشٹر

41

نظم
مرشد سلام عرض ہے خدمت میں آپکی
مرشد بتاؤ کیسی طبیعت ہے آپکی
مرشد نہ پوچھو پھر بھی بتاتا ہوں آج سب
مرشد مجھے پتا ہے اجازات ہے آپکی
مرشد میں بےوفا ہوں یا شاید ہوں باوفا
مرشد میں جیسا بھی ہوں عنایت ہی آپکی

مرشد زمانہ ہو گیا تم سے ملے ہوئے
یعنی کہ عرصہ ہو گیا دل کو جلے ہوئے

مرشد تم آج پھر سے مجھے یاد آ رہے
مرشد پرانے زخم سبھی تازہ ہو چلے
مرشد یہ زخم وہ ہیں جو اب تک نہیں بھرے
مرشد خدا کا شکر قدم آگے بڑھ چکے

مرشد مرا تو حال اب اتنا بدل گیا
دل میرا اپنے دل سے ہی بیزار ہو چلا
مرشد تمھارا نام بھی اب یاد نا رہا
اور میں بھی اپنے دل کا گنہگار بن گیا

مرشد ہمیشہ کہتے ہو سب ہے پتا مجھے
پھر دل کا حال آج سناؤ ذرا مجھے
مرشد چلو بتاؤ کہ کیا تم کو یاد ہے
مرشد امید کرتا ہوں سب یاد ہو تمھیں
مرشد تمھیں پتا ہے کہ روتا بہت ہوں میں
حالانکہ لوگ کہتے ہیں ہنستا بہت ہوں میں

مرشد وہ کال چیٹ، وہ میسج وہ دل لگی
مرشد سبھی ہیں نقش مرے دل میں آج بھی
مرشد نہ جانے کس کی ہمیں نظر بد لگی
مرشد ہمیں عروج بھی حاصل تھا کیا کبھی

مرشد زوال وہ کہ تصور تلک نہ تھا
مرشد کوئی تو لمحہ ہو ایسا بھی آپ کا
مرشد کہ جس میں آپ کو احساس ہو ذرا

مرشد مجھے تو آپ نے برباد کر دیا
مرشد یا ایسا بولو کہ آزاد کر دیا

مرشد وہ یار جن کے لیے آپ ہیں کھڑے
مرشد وہ آپ کو ہیں حقیقت میں لوٹتے
مرشد وہ ہمسفر ہیں مگر چند لمحوں کے
مرشد وہ لمحوں میں ہی ہیں دیکھو جدا ہوئے

مرشد کبھی جو صدقے اتارے تھے آپکے
مرشد وہ جذبے خاک میں سب میرے مل گئے

مرشد یہ دل کا کھیل نہ کھیلو سنو ذرا
مرشد خدارا بند کرو یہ معاملہ
مرشد یہ شدتوں کا صلہ مجھکو مل گیا
مرشد جو ڈر تھا کھونے کا وہ اب نہیں رہا
مرشد میں سہہ گیا ہوں مگر سہہ نہیں سکا
مرشد ہے باتیں اور بھی پر کہہ نہیں سکا

مرشد میں خاندانی ہوں بدلہ تو لوں گا میں
مرشد بروز حشر تو تم سے ملوں گا میں

مرشد بیاں کروں گا میں درد نہاں مرا
مرشد کرے گا خود ہی خدا میرا فیصلہ
مرشد نہیں ہے تم سے کوئی شکوہ اور گلہ
مرشد کیا جو تم نے بہت اس کا شکریہ

ریحان فلکؔ ممبئی مہاراشٹر