"نیپوٹزم” (Nepotism) نظم

29

زہر آلود فضاؤں میں
دائرے میں سمٹتے لوگ
پگھلتے برف کی طرح
وجود اپنا کھو تے ہوئے
موسم کی تبدیلی کے
یہ ہیں گواہ سارے
لیکن ! یہ تبدیلی
بہتر نہیں کسی کے لئے
فنا ہو جاۓگی
کتنی ہی بستیاں
ہیں اثرات اسکے جہاں جہاں
بہتر یہی تھا کہ
موسم نہیں بدلتے
جیسے بھی تھے جو کچھ
ویسے ہی رہتے سب کچھ
کھلا کھلا سا آسمان ہوتا
روشن ہر ایک مکان ہوتا
سارا شہر ایک جسم ایک جان ہوتا
چہرہ گلاب کوئی یوں نہ ہلکان ہوتا
بہتر یہی تھا کہ
موسم خوشنما ہی رہتا
گلاب گلاب رہتے سورج سورج ہی رہتا
اگر یہ "نیپو ٹزم” نہ آتا
سکون زندگی کا یوں رائیگاں نہ جاتا۔ ۔۔!!