یوم آ زادی ہمارے لیے قومی محاسبے کا دن

25
ملک وقوم کی خوش قسمتی کہیں کہ 2020/میں ہم لوگ 74/ ویں یوم آ زادی منارہے ہونگے ۔ ان تہتر سالوں میں ملکی فضا نے کتنے رنگ بدلے یہ تاریخ کا حصہ  بن چکا ہے ۔ سیاست کے گلیاروں سے  بھانت بھانت کی آ وازیں اٹھیں اور معاشرے کا ناسور بن گئی ۔کتنے ہی فتنوں نے جنم لیا اور وقت گزرنے کے ساتھ دفن ہوگئے ۔بحیثیت قوم ہر دن ہم آزادی کو ترستے رہے ،پریشانیوں میں ہماری آواز تک کسی کو سنائی نہ دی ۔ ہماری آ نکھوں میں سیکڑوں دفعہ آ نسو آئے اور بنا کسی کی ہمدردی حاصل کئے ہی خشک ہوگئے ۔ نفرت کی دیواروں نے ہمارا راستہ روکا ،ہماری زندگی اجیرن کردی گئ، ہماری ہر وفاداری کو غداری کا رنگ دیا گیا ۔ نت نئے الزامات نے ہماری نسلوں کی زندگی برباد کی ۔ اس تہتر سالوں میں فرقہ وارانہ فسادات کے سب سے زیادہ شکار بھی ہم ہوئے ۔ ہماری ہی گردنیں کٹی ،ہماری ہی بہو بیٹیوں کی عزتیں سر عام لٹیں  اور ہماری ہی ماؤں کی کوکھ اجڑی اور ہم ہی مجرم بنائے گئے ۔ ہم اپنے ہی گھر میں بے وطن کئے گئے ، ہماری تجارت تباہ ہوئی، ہمارے مال واسباب لوٹے گئے ، ہمارے ہی مکان نذر آتش ہوئے ، ہماری ہی عبادت گاہیں  توڑی گئیں اور ہمارے ہی جوانون نے قید و بند  کی صعوبتیں برداشت کی ۔ ہمارے ہی رہنما پابہ زنجیر ہوئے ۔پھر بھی اس خوف  سے کہ  کہیں ہم پر غداری کے الزام نہ لگیں ہم سب ظلم سہتے رہے ۔ ہمارے جذبات اور ہمارے جوش نے ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف اپنوں کی حماقت اور دوسروں کی چالاکی کی وجہ سے سب سے زیادہ فرقہ پرستی کے شکار بھی  ہم ہی ہوئے۔دوسروں کو اپنی محبت ، یگانگت اور گنگا جمنی  کا یقین دلانے کے لیے ہم نے بڑے سمینار اور سمپوزیم منعقد کئے  ۔ لیکن اسی محبت کی تہذیب  کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے ہمیں کبھی کوئی پروگرام کرنے کی توفیق نصیب  نہیں ہوئی۔ بحیثیت قوم ہم اس ستر سال  کا جائزہ لیں تو ہم کسی بھی فیلڈ میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ تن آ سانی کے ایک بیماری اور ہمارے درمیان پنپ کر جوان ہوگئی کہ ہم اپنی پس ماندگی کا ٹھیکرا دوسروں کے سر باندھنے لگے ۔ حکمت وتدبیر کی جگہ  جذباتیت سے ہر مسئلے کا حل ڈھونڈتے رہے ۔ ہمارے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم دوسروں پر بھروسہ کرتے رہے ۔  اسے ہم قومی بدقسمتی نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے؟.  ایک صدی کے قریب اپنی زندگی گزار کر بھی ہم نے اپنی قوم کو کوئ اچھی سوجھ بوجھ کا لیڈر نہیں دیا ۔اگر کسی کی سوچ وفکر اس لائق تھی بھی تو صرف اپنے خاندانی وقار کے بچاءو کے لیے ہم نے  ایسے ابھرتے ہوئے لیڈر کو دوسروں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کے لیے کچل دیا ۔ ہم کہلانے کو تو ایک امت کہلاتے رہے لیکن ہمارے کردار نے کبھی بھی ہماری وحدت کا ثبوت نہیں دیا ۔ ہر دوچار سال بعد ہماری اپنی بے وقوفی اور غیروں کی سازش کی وجہ سے ہم کہیں نہ کہیں ظلم وبربریت کے شکار بنے ، جن علاقوں میں ہماری قوم نے ترقی کی اسے پری پلان فرقہ وارانہ فسادات کا شکار بناکر سب کچھ چھین لیا گیا اور ہم ان فرقہ پرست ذہنیت کا توڑ بھی نہ کرسکے ۔ ہر وہ کام جس سے ملک کو نقصان نہ پہونچے ہم کرنے کے لیے آزاد تھے اور آ زاد ہیں لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا ۔ ہمیں تعلیم کی مکمل  آزادی تھی اور   ہم نے سالانہ کئی سو کروڑ روپے خرچ کرکے صرف مسلکی تعلیم کا انتظام کیا ۔ ہمارے سماج کا اشرافیہ طبقہ کسی سیاسی پارٹی سے منسلک ہوکر ہمارے سماج پر اپنی ہیکڑی تو ظاہر کرتارہا لیکن قومی مفاد کے لیے کبھی ایک اینٹ کی کوئ تعمیر نہ کرسکا ۔ ہمیشہ دوسروں پر تکیہ کئے رہے کہ ہمارے مفاد کے لیے فلاں شخص کام کرےگا ۔ کبھی کام کرنے کا موڈ بھی بنا تو  اس قدر شور مچایا کہ سب کچھ تباہ ہوگیا ۔ سب سے زیادہ ہمارے ہی  سماج میں تفریقی ذہنیت کو فروغ ملا۔ مدرسے والوں کی ذہنیت الگ بنی ، کالج اور یونیورسٹیز کے لوگوں کی سوچ مدرسوں کی سوچ سے بالکل الگ تھلگ رہی ، ذات پات اور مسلک ومشرب کی فکر نے اپنی الگ دنیا آ باد کی ۔ اگر گہرائ سے ہم اپنی حقیقت کا جائزہ لیں تو ہمیں کہنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ "ہم  نے خود اپنی تباہی کے لیے کم  زمینیں نہیں کھودی ہیں” ۔ ہم سے ہمارا سب کچھ چھینا جاتا رہا اور ہم اس خیال میں رہے کہ ابھی تک ہماری نوابی ہے اور سب کچھ ہماری مرضی سے ہوگا ۔ریشم ،کپڑا،  قالین ، تالا، پیتل اور چمڑے کے ہم سب سے بڑے کاروباری تھے اور اس راستے سے دولت آ رہی تھی تو ہم فرعون بن گئے تھے ۔ عیاشی ، غنڈہ گردی، ظلم وجبر سب کچھ کرتے تھے ۔ یہ احساس بھی نہیں تھا کہ ہمارا کوئ  مالک ہے اور ہم کسی کی نظر میں ہیں، وہ جب چاہے گا اپنا نظام درست کرنے کے لیے ہماری لگام کھینچ لےگا ۔ آ ج جب کہ سب کچھ چھن چکاہے ہمارے پاس سوائے مدرسے کی عمارت اور مسجد کی بلڈنگ کے کچھ نہیں بچاہے ۔کیا ہماری مساجد اور مدارس کے ذمہ داران اپنے ماتحتوں پر ظلم نہیں کرتے ہیں ؟ کیا لگتا ہے کہ اللہ ہمارے ظلم کو نہیں جانتا اور وہ ظلم کے باوجود ہماری حالت اچھی کردےگا ؟۔ تجارت ، عصری تعلیم ، سیاست میں ہم مان سکتے ہیں کہ سازش کے شکار ہوگئے لیکن دینی "تعلیم میں ” دینی تعلیم کا کنٹرول تو ہمیشہ ہمارے ہاتھوں میں رہا، وہاں تو کسی نے کوئ مداخلت نہیں کی پھر کیوں اس فیلڈ میں ہمارے پاس سوسال میں سوائے مسلکی لٹریچر کے اور کچھ سامنے  نہیں آ یا” ۔ یہ دن ہمارے لیے محاسبے کا دن ہے ۔ ہم نے تعلیمی ،تجارتی ، مذہبی ، معاشرتی اور معاشی میدان میں آ زادی  کا کتنا فایدہ اٹھایا ؟ تہتر سال بعد ہمارے قائدین کو یہ سوال خود سے بھی کرنی چاہیے اور اپنی قوم سے بھی ۔
                                       "تجارتی فیلڈ میں پس ماندگی کے اسباب "
آ ج کی دنیا میں جب کہ ایک فرد اپنے بل بوتے پر اپنی تجارت کو آسمان کی بلندیوں پر پہونچارہاہے ۔ تجارت کی نئی منڈیاں سج رہی ہیں ۔ نئے راستے اور جدید سہولیات میسر ہیں ، مارکیٹنگ کا نیا ڈھب اور نئے گلائمرز دریافت ہوچکے ہیں لوگ گھر بیٹھے کروڑوں کا انکم کررہے ہیں ۔ صرف ایک ایپ کی مدد سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کو اپنے ساتھ جوڑ کر تاریخ انسانی کا تجارت میں نیا باب رقم کر رہے ہیں تو ہماری قوم کے  موٹی عقل رکھنے والے تجار آ ج بھی "کھرپی سے کھیت کی صفائ کرکے اناج پیدا کرنے کے چکر میں ہیں” ۔ تجارتی  میدان میں کچھ حد تک میں سازش قبول کرنے کو تیار ہوں لیکن پچاس فیصد اپنی حماقت کے حوالے کرونگا ۔ اس میدان میں بھی منظم طریقے سے  کوئ کام نہیں کیا گیا ۔ مثال کے طور پر ریشم کی تجارت تباہ ہورہی تھی تو اسی وقت اس کے لیے کوئ بہتر ترکیب نہیں نکالی گئی یا اس کے نعم البدل کو نہیں اپنایا گیا ۔ ایسے ہی ہر تجارت کے لیے اپنی الگ منڈی تلاش نہیں کی گئی  ۔ یہ سب اس نشے کی سزا تھی جو دولت کی وجہ سے  ایک طبقے میں گھس کر فرعونیت مچارہی تھی ۔  چمڑے کا کاروبار اب بھی پوری دنیا میں ہورہاہے لیکن ہماری اس تجارت کا آ خری جنازہ نکل چکاہے  اور ہم لاکھوں کروڑ کا مال کباڑا بنانے اور دفن کرنے کو تیار ہوگئے ،لیکن سب مل کر اسی میدان میں کچھ نیا کرنے کی نہیں سوچ سکے ۔  آپس میں مشورہ کرنے کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ کیا کسی نے کچھ نیا کرنے سے بھی روک دیا تھا ۔ پوری قوم جن کے پیچھے ڈگ ڈگی بجاتی رہی انہوں نے ہر موڑ پر ٹھینگا ہی دیکھایا ۔اب بھی اگر متحد ہوکر تجارت کے میدان میں قدم بڑھائیں تو ہمارا بھلا ہوگا ۔
” تعلیمی میدان میں پس ماندگی کے اسباب "
ملک کی "دوسری بڑی اکثریت ” جسے اقلیت کا لیبل دے کر احساس کمتری کا شکار کیا گیا ۔ جس قوم کے پاس پہلے سے مدارس تھے ، تعلیم آ شنا لوگ تھے وہ قوم تعلیم میں دنیا کی ساری قوم سے پیچھے ہوگئی ۔ کبھی ایسا سننے میں بھی نہیں آیا کہ ہماری قوم سے ہونے کی بناء پر  کسی کو تعلیمی ادارے سے بھگادیاگیایو؟ بھید بھاءو سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر قوم کے ساتھ بھید بھاءو ہوتا ہے اور پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن ہم ہی تعلیمی میدان میں کیوں پیچھے ہوگئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لیے قوم کے بلند پایہ افراد نے قوم کے بچوں کو جاہل رکھا "دلت کے رہنما گھر گھر جاکر ذہنی اعتبار سے پس ماندہ قوم میں تعلیم کی تبلیغ کررہے تھے اور ہمارے رہنما یا تو سیاست میں "پارٹی پارٹی کھیل رہے تھے یا پھر مذہبی دنیا میں مسلک مسلک کی چونچیں لڑا رہے تھے ” ۔
دوسری خاص وجہ یہ رہی کہ ہمارے مذہبی رہنماءوں نے "مذہبی تعلیم میں ایسا گوشہ رکھاہی نہیں تھا جسے حاصل کر کے کوئ انسان باعزت  روزگار حاصل کرسکتا تھا ” مسلکی اور مشربی چپقلش سے کبھی چھٹی نہیں ملی کہ اس طرف بھی کچھ سوچ لیتے ۔  مذہب پر کچھ  خاندان کی اجارہ داری رہی چاہے اس کے افراد جس قدر ناکارہ ہوگئے ہوں ، ایک عام اسلامی اسکالر  کی رائے  چاہے جتنی قیمتی رہی ہو خاندانی تحفظات کے پیش نظر اسے دفن کردیا گیا ۔ اسلام کے نام پر جو کچھ ہوگا وہ ہر مسلک کے چند افراد ہی کریں گے باقی سب لوگ غلاموں کی طرح دم ہلائیں گے ان افکار ونظریات نے تعلیمی میدان میں بھی ہمیں پس ماندہ کیا ۔۔ یہی حال سیاست کا رہا ۔ذاتی مفاد پر قوم  قربان کی جاتی رہی ہے  ۔ پوری قوم کو سیاست داں اور مذہبی مقررین نے عقل و خرد سے اندھا بنا دیا ۔ نوے فیصد مسلمان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے ہی معذور ہو گئے ۔ کب کون سا فیصلہ لینا ہے اور کس طرح کی آ ئیڈیالوجی قبول کرنی ہے ان سب سے نابلد اگر کوئ قوم ہے تو وہ ہم ہی ہیں ۔ آ ئیے! اس یوم آ زا دی میں ہم عہد کریں کہ اپنی آ زادی کا بھر پور فایدہ اٹھائیں گے ۔ پچھلے ستر سالوں میں ہم نے جو کھویاہے  آئندہ تیس سالوں میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ عقیدت کے نام پر فکری غلامی کی زنجیریں توڑ پھینکیں گے ۔