میرا وہ دوست جو جیتے جی مر گیا

61

کورونا مہاماری سے قبل جنت نشاں ” کشمیر” میں لگے ایک طویل لاک ڈاؤن کے تناظر میں لکھا گیا خصوصی افسانہ

آج کی فرخندہ فال شام بھی کیا خوب تھی! دن بھر ہواؤں کے نرم نرم جھونکوں نے جھوم جھوم کر انسانی طبیعت کو جو نشاطگی بخشی تھیں، اس کی گلوکاریاں تو رہنے دیجیے، مت ہی پوچھیے صاحب! یقیناً راحیل نامی ایک کوئی دس بارہ سال کا ننھا منھا سا گورا و چوڑی ناک والا لڑکا، جس کے اپنے بال و پر تولنے کا شاید آج کل ایک موسم سا چل رہا تھا. وہ ابھی ابھی ہی شام کی ڈھلتی چھاؤوں میں اپنے دوستوں کے ہمراہ خوشی خوشی گھر کی طرف آ رہا تھا. حسبِ معمول ابھی وہ اپنے گھر کا صدر دروازہ عبور کرنے کے بعد جوں ہی ڈیوڑھی پر سے صحن تک جا پہنچنے کے لیے پھلانگ لگانے ہی والا تھا کہ برآمدے سے متصل ایک چھوٹے سے کمرہ کی کھڑکی سے یہ مدھم مدھم سی آواز "بیٹا! ذرا اِدھر سننا” چھنتی ہوئی باہر آئی اور اس کے پردہ سماعت سے ایسی ٹکرائی کہ جیسے قدموں میں قدرے توقف کی بیڑیاں ڈال دی ہو.
راحیل :- جی دادا جان! کہیے کیا بات ہے، آپ نے مجھے آواز لگائی؟
دادا جان :- بیٹا! بیٹا سب خیریت تو ہے نا، کیا بات ہے آج تم کچھ پھولے نہیں سما رہے ہو، کوئی لوٹری لگی ہے کیا?؟
راحیل :- ایک گہری آرام دہ سانس کھینچے ہوئے گویا ہوا : دادا جان! آج میرے اسکول میں ایک فنکشن تھا، جسے انگریزی میں ” Friendship day” کہتے ہیں. آپ تو جانتے ہی ہیں نا اس دن طلبہ کی اپنے نیے اور من کے سچے و دل کے پکے دوستوں سے آشنائی ہوتی ہے.
دادا جان :- کیا تمھارا بھی کوئی دوست بنا کہ نہیں؟
راحیل : – جی دادا جان! بالکل؛ کیوں نہیں؟ میں نے بھی ایک پیارا سا "اسلم” نامی بھائی کو اپنا دوست بنایا ہے. وہ وادی جنت نشان” یعنی خطہ کشمیر” کا باشندہ ہے. دادا جان! ان کے امی ابو تو وہیں سکونت پذیر ہیں، پر ان لوگوں نے اسلم کے تئیں بڑے سنہرے نرالے خواب دیکھے ہیں.
دادا جان :- بیٹا! یہ نرالے و سنہرے خواب کیا ہوتے ہیں،کیا ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ یہ کسی ایسے پرندے کے نام ہیں، جو شاید اب خاکدان گیتی سے کہیں عنقا ہو گیے ہیں؟
راحیل : – ایک دو بالشت قریب ہوتے ہوئے عرض کناں ہوتا ہے :” آپ بھی کتنے بھولے اور من کے کتنے پرانے لوگ ہیں نا دادا جان! یہ سنہرے اور نرالے خواب کا اَرتھ بھی نہیں جانتے؟ سنیں! اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے امی پاپا یہ چاہتے ہیں کہ” اسلم” پڑھ لکھ کر ایک بڑا انسان بنے اور ڈھیروں نام کمائے”.
یہ سنتے ہی دادا جان فوراً راحیل کی بات کاٹتے ہوئے، اپنی بوسیدہ سی آواز میں کہنے لگتے ہیں :” ارے میرے پْتّر! یہی تو میں بھی چاہتا ہوں کہ تم پڑھ لکھ کر ایک بڑا سا آفیسر بن جاؤ، تب ہم دونوں ایک چمکتی چارپہیہ پہ بیٹھ کے خوب مزے کریں گے.( اوہ؛ دیکھیں تو سہی ضعیفوں کے بھی کیا ان کے اپنے انوکھے انوکھے سپنے ہوتے ہیں نا!) اچھا چل اْٹھ کر بستہ رکھ اور فریش ہو کر ناشتہ پانی کر؛ اور ہاں یہ نئی دوستی مبارک ہو.
راحیل : – آج بڑا خوش تھا، مانیں تو ایسا کہ جیسے اس نے کوئی بڑی سی تیر مار لی ہو. خیر؛ آٹھ دس سال کے بچوں کی عقلی پختگی ہی کیا ہوتی ہے کہ وہ دوستی کے اچھے اصول و ضوابط سے کما حقہ آشنا ہو، ہاں! بس دوست مل گیا، کافی ہے… اگرچہ گزرتے ایام کے دھاروں میں مخالف رو ہی کیوں نہ بہنا پڑے… اسے تو یہ بھی منظور ہے…
اب تک تقریباً راحیل کی اسلم سے دوستی ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، دونوں آٹھویں کلاس سے پاس آؤٹ ہو کر نویں کلاس میں اپنا نَماکن بھی کروا چکے تھے. اسلم ہر روز اس سے دوپہر لنچ کے وقت اپنے گھر کے تمام نشیب و فراز سے پردہ اٹھاتا، امی ابو کی مشفقانہ نرم کلامی سے اسے آگاہ کرتا، گھر اور ایام طفلی سے جڑی وہ اپنی ہر یادوں کو ایک ایک کر کے اس اہتمام شوق سے راحیل کو سناتا کہ جیسے کوئی عاشق اپنی معشوقہ سے جڑی ہر یادوں کا دفتری مجموعہ لیے بیٹھا ہو اور ہر چیپٹر خوب مزہ مزہ لے لے کر سنا رہا ہو، ہاں! اسلم تو جنت نشان کشمیر کی رعنائی و دلکشی، مناظر قدرت سے لطف اندوز ہونے کی تمام حسن کیفیات اور اس سے لگی تمام رازہائے سربستہ سے ایک ایک کر کے جس خوبصورتی کے ساتھ نقاب کشائی کرتا چلا جاتا کہ راحیل بھی سنتے سنتے کسی دوسری خیالی دنیا میں تصوراتی تاج محل تعمیر کرنے لگ جاتا… کرشمہ بھی بس یہی تھا کہ دونوں کی friendship بڑی جم تھم سی گئی تھی. دونوں ایک دوسرے پہ جان تک چھڑکنے کے لیے تیار رہتے. اسلم ہاسٹل ہی میں رہ جاتا، پر اب راحیل کے اہل خانہ سے بھی اس کی تال میل اس قدر گہری ہوتی چلی گئی تھی سب اسے گھر کا ایک فرد تصور کرنے لگے تھے. ہر آن ہنسی مذاق سے پْر باتیں، کبھی کبھار تو داستانوں کی بھی روپ دھار لیتیں…
اسلم کی ” بْشری” نامی ایک چھوٹی بہن بھی تھی، جو کشمیر ہی کے ایک چھوٹے سے اسکول میں زیرِ تعلیم تھی. وہ تو چھٹویں کلاس کی طالبہ تھی، بس اپنے کام سے کام رکھتی. جب کبھی بھیا "اسلم” کا فون آتا تو وہ بھائی کے دو میٹھے بول سننے کے لیے بیچین ہو جایا کرتی تھی، یہاں تک امی
ابو کو ٹھیک طرح سے اسلم کی خبر خیریت لینے بھی نہیں دیتی کہ وہ جھٹ فون چھین کر بات کرنے لگ جاتی. بھائی جان! کیسے ہیں، گھر کب آ رہے ہیں، آپ کی چھٹی کب ہوگی؟ کھانا کھائے کہ نہیں (اگرچہ کوئی بھی وقت ہو) وغیرہ وغیرہ. بشریٰ تھی بڑی چنچل ، اسے اردو لکھنے پڑھنے کا بڑا شوق تھا، ہر وقت اسلامی ہی باتیں کیا کرتی تھی، اس چھوٹی سی عمر ہی میں صوم و صلاتہ کی بڑی پابند ہو گئی تھی. باتوں ہی باتوں میں اسلم نے اسے اپنے جگری دوست "راحیل” سے آگاہ کیا… بشری! مجھے یہاں خوب من لگ رہا ہے، دل و جان سے پڑھائی کرتا ہوں. راحیل کے گھر والے راحیل ہی کی طرح مجھے بھی اپنا بیٹا تصور کرتے ہیں. بڑی اپنائیت سا برتاؤ کرتے ہیں، اس کے گھر والے بڑے ہی سنسکاری لوگ ہیں، کسی سے بھید بھاؤ نہیں رکھتے، ہاں راحیل میرا کھانے سے لے کر کھیل تک، ہر لمحہ خیال رکھتا ہے…
بشری :- بھائی! آپ کو اتنا سچا پکا دوست مل گیا اور اب تک آپ مجھے بتائے تک نہیں؟ اور پھر وہی نوک جھونک شروع ہو جاتی.
اسلم : – جی میری پیاری بہن! میں تو بس یہی سوچ ہی رہا تھا کہ میں تمھیں یہ خوش خبری سناؤں، اور دیکھو! آج سنا ہی دیا… اوہ؛ چھوڑیں، چلیں میری ان سے بات کرائیں…
راحیل : – سلام مسنون…
بشری : – وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ…
راحیل : – کیسے ہیں آپ؟
بشری : – جی! اللہ کریم کا کرم ہے… آپ کو بھائی کی دوستی بہت بہت مبارک ہو… اور اس پہ مزید ڈبل مبارکبادی، کہ آج سے آپ میرا بھی بھائی بن گیے… اوہ… خیر؛ شکریہ… جزاک اللہ خیرا.. اور اس کے بعد بشری نے فون کٹ کر دی.
اب تک تو غالباً بشری کی راحیل سے اچھی خاصی شناسائی بھی ہو گئی تھی.کبھی ایسا ہوتا ہی نہیں تھا کہ بشری اپنے سگے بھائی” اسلم” سے گفتگو کرے اور اس کے جگری دوست "راحیل "کی خبر خیریت نہ لے. جہاں بشری اسے بھائی کی طرح مانتی وہیں راحیل بھی اسے چھوٹی بہن کی طرح عزت و سمان سے گفتگو کرتا. راحیل کا گھرانہ چونکہ شروع ہی سے علمی رہا ہے اور اردو پڑھنے پڑھانے کا حسن رواج بھی؛ اس لیے وہ اچھی خاصی اردو پڑھنا لکھنا جانتا تھا.
ایک دن بھائی کے واٹشپ پر راحیل کی تحریر دیکھ کر بشری جھٹ سے پوچھ ہی بیٹھی کہ :” بھائی! آپ کتاب لکھتے ہیں کیا؟ مجھے بھی سکھا دیں نا، میں اردو سے بہت محبت کرتی ہوں، میں لکھنا چاہتی ہوں”. راحیل، بہن (بشری) کا اردو سیکھنے تئیں یہ امنگ و حوصلہ اور وافر جوش و جذبہ دیکھ کر پھولے نہیں سما رہا تھا. راحیل نے جھٹ سے ہاں می بھر لی اور ایک عنوان پہ بشری سے لکھنے کی گزارش بھی کر دی…
بشری :- جی ٹھیک ہے راحیل بھائی! میں لکھنے کے بعد اسلم بھائی کے واٹشپ پر ارسال کر دوں گی، آپ چیک کر دیجیے گا..
اب تک تو دو ڈھائی مہینہ کا عرصہ گزر چکا تھا. بشری ہر ہفتہ لکھ کر واٹشپ کر دیتی اور راحیل اسے چیک کرنے کے بعد اردو قواعد و ضوابط سے بھی آگاہ کر دیتا. پر ہاں!!! جب کبھی کبھار تاخیر ہو جاتی اور راحیل کسی مصروفیت کی بنا پر اس طرف توجہ نہیں کر پاتا تو بشری کے ناراض ہونے اور نوک جھونک کرنے کا انداز بھی بڑا بھولا بھالا ہوتا. پھر اوپر سے راحیل کے منانے کا انداز بھی کیا کہنے! در اصل اس کی کوئی اپنی سگی بہن نہیں تھی، اس لیے راحیل اسے اپنی بہن کی جگہ مانتا اور پھر خوب خوب عہد و پیمان ہوتے… اِدھر اسلم کو تو وہ ٹوٹ کر چاہتا ہی تھا. رفاقت اتنی عروج پر تھی کہ اسلم راحیل سے ہر روز دن بھر میں ایک دفعہ تو اس بات کی گزارش کر ہی لیتا کہ وہ اپنے امی ابو سے جنت ارضی "کشمیر” جانے کی اجازت لے لیں. پر راحیل کسی تعطیل کے موقع پہ جانے کا وعدہ کرکے خاموش رہ جاتا .اسے بھی خواہش تھی کہ کشمیر کا نظارہ کرے اور اپنی چھوٹی بہن بشری سے مل کر سگی بہن نہ ہونے کا سارا غم دور کرے ..پر ہاں!!! آخر وہ جاتا بھی کیسے؟ ایک تو جہاں وہ گھر کا اکلوتا وارث تھا وہیں اس کیسر پہ ذمہ داریوں کا پہاڑ بھی.
خیر؛ گزرتے ایام کے ساتھ دونوں پروان چڑھتے رہے اور تعلیمی سفر کٹتا رہا. مگر، مگر… مگر ایک شام تو کچھ عجیب ہی منظر رونما ہو گیا، اچانک نگاہوں کے سامنے تاریکی سی چھا گئی. اسلم مارے خوف و دہشت کے لرز کر ہی رہ گیا، جسم کپکپیوں کے حصار میں بندھ گیا،… یہ دیکھ کر راحیل کی کیفیت تو ایسی ہو گئی جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین ہی کھسک گئی ہو. وہ جگر گردہ سنبھالتے ہوئے، لرزتے ہونٹوں کے ساتھ جب کہ زبان ساتھ دینا چھوڑ دیا ہو، وہ کسی طرح اپنی بچی کھچی ہمت و توانائی یکجا کرتے ہوئے گویا ہوا : ” بھائی! آخر کچھ بتائیں گے بھی؟ آخر لب کو جنبش تو دیں کہ آخر اچانک کیا حادثہ فاجعہ پیش آ گیا؟
راحیل کے والدین نے جب اسلم کو کچھ ڈھارس بندھائی تو پھر اس نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا :” بھائی! میرے ابو امی اور میری پیاری بہن آج اپنے ہی گھر میں محصور کر دیے گیے ہیں، گھر کے اطراف و جوانب کا پورا حصہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ… سبب پوچھا گیا، تو پتہ چلا کہ حکومت نے اس کے ضلع کی تمام خصوصیات و حقوق سلب کر لیا ہے. در اصل اسلم تھا بڑا کمزور دل کا… پاپا امی یا
پھر بہن ہی پر جب کبھی کوئی ناگہانی صورت پیش آتی تو وہ پامردی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے ہمت ہار بیٹھتا… اور وہ بھی آج تو اپنے وطن مالوف سے کوسوں دور تھا.
آج راحیل کے لیے بڑا کٹھن دن تھا. دوست کی یہ حالت زار اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی . اسے تسلی دلاتے دلاتے شام ڈھل چکی تھی. مغرب کی آذان ہوتے ہی دونوں نے باجماعت نماز مغرب ادا کی اور رب کی بارگاہ بینیاز میں حالات کی بہتری کے لیے خوب خوب رو رو کر دعائیں کیں، دونوں کی پلکیں بھیگ چکی تھیں. دعا سے فارغ ہو کر امام مسجد سے مصافحہ و معانقہ کیا اور ہلکے ہلکے قدموں سے گھر کی اور چل دیے. آج بعد مغرب چائے نوشی کی محفل کہاں سجی تھی؟ آج تو چہاردیواری کی ساری رونقیں ہی جیسے ماند پڑ گئی ہوں. بحکم سرکار کشمیری نیٹ ورکنگ سسٹم بند ہونے کی بنا پر گھر پہ بھی بات چیت نہیں ہو پا رہی تھی . نہ جانے امی ابو اور چھوٹی پیاری بہن بشری کس حالت میں ہیں…یہ سوچ سوچ کر تو اسلم نڈھال سا ہوا جا رہا تھا. رہ رہ کر غشی طاری ہو رہی تھی، پر کسی طرح راحیل نے ہمت سے کام لیا، سرکاری عملہ سے بات چیت کی اور صبح سویرے ہی اْڑان بھرنے والی ایک فلائٹ سے اپنے بھائی اسلم کے لیے سری نگر ائرپورٹ کی ٹکٹ بْک کروا دی…
علی الصباح دونوں نیند سے جلد ہی بیدار ہو گیے، نماز فجر ادا کی اور ایک چھوٹا سا سْٹکیس لیے ایئرپورٹ کے لیے روانے ہو گیے. سات بجے کی فلائٹ تھی. فلائٹ آ تے ہی اسلم اپنے جگری دوست راحیل کی طرف بڑھا اور خوب پھوٹ پھوٹ کر گلے ملا، دوسرے راہی راہ چلتے ہوئے دونوں کو عجیب نگاہ سے دیکھتے جا رہے تھے ، پر ان راہگیروں کا یہ دیکھنا ان دونوں جانوں پر کچھ اثر نہ کرتا،کسی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی راحیل نے ڈوبتی آنکھوں اور شکستہ دلوں کے ساتھ اسلم کو سلام الوداع اور امی ابو و اپنی چھوٹی بہن ” بشری” کے خاطر "سلام” کا خوبصورت نذرانہ پیش کیا. آخر اس کے علاوہ راحیل اس ننھی سی مورت کے لیے دے بھی کیا سکتا تھا کہ سر تا پیر تو دوست کے جدا ہونے کا خوف برابر چکر کاٹ کاٹ کر اسے ڈنس رہا تھا اور وہ اسلم کو کسی طرح سنبھالہ دے کر سفر کے لائق بنایا تھا… خیر؛ راحیل نے دل ہی دل میں ایک لمبی آہ بھری کہ "اگر زندگی سلامت رہی تو میری پیاری بہن بشری! میں آپ کے لیے ایک بھائی پر عائد ہونے والی تمام ذمہ داریاں نبھاؤں گا”.
اسلم کو رخصت ہوئے آج تقریباً ۲۷/۲۸ دن کا عرصہ گزر چکا تھا، پر اب تک راحیل کی اسلم سے ایک دفعہ بھی گفتگو نہیں ہو پائی تھی. پتہ نہیں میرا دوست اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کس حالت میں ہے، کہاں ہے،حالات تو ٹھیک ہے نا، کوئی پریشانی تو نہیں ہے،انھیں لوازمات زندگی تو میسر ہیں نا، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہر دن اس پر مثل عذاب گزر رہا ہے. آخر حکومت کو اس وادی و اہل وادی سے پریشانی کیا ہے، یہ دنیا تو آزاد ہے نا، تو پھر انھیں لوگوں پر ظلم و ستم کے شکنجے کیوں کسے جاتے ہیں، آج انسانی حقوق کے علمبردار لب کشاں کیوں نہیں ہیں؟ آخر یہ سربراہان مسلم ممالک دو جسم ایک جان کی طرح کیوں نہیں ہیں، یہ کب ان مظلوموں کی فریاد رسی کریں گے، آخر وہ بھی تو انسان ہی نا، کوئی اور دوسری مخلوق تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ بے شمار اوہام و خیالات رات کی تنہائی میں راحیل کو سونے نہیں دیتے. کبھی کبھار تو وہ بیچین ہو کر یکا یک چیکھنے چلانے سا لگ جاتا. کہ ہائے! اب میرے دوست کو کیا ہوگا؟ میری پیاری بہن! کہیں تو کھلنے سے پہلے ہی مسل تو نہیں دی گئی ہو؟ ہائے! میرا دوست تو جیتے جی مر گیا!!!.
دن بدن کی بڑھتی اداسیاں اور تنہائیاں راحیل کے لیے کسی زہر ہلاہل سے کم نہیں ثابت ہو رہیں تھیں. نہ پڑھنے میں دل لگتا اور نہ ہی کھانے، کھیلنے، کودنے اور دوڑنے بھاگنے میں. اکثر اوقات تو یوں ہی بغیر کوئی لقمہ لیے دن کے دن گزار دیتا. اور ہر شب رات کی تاریکی میں اپنے من کے مفتی اعظم سے یہ دردناک و کربناک سوالات کر ہی بیٹھتا :
” جی ہاں! آپ مکمل ایک گھنٹہ نہ سہی، بس پل بھر ہی کے لیے ذرا اپنی گہما گہمی عالم حیات سے تو نکلیں، ضروریات و حاجات کی الجھنوں سے کہیں دور نکل کر تسکین و تمکنت اور اطمینان و شانتی پْروک جگہ ، جہاں نہ کسی انسان کا گزر ہو، نہ پرندوں کے سائے نظر آتے ہوں اور نہ ہی کسی دیگر مخلوقات کی آوازیں پردہ سماعت سے ٹکراتے ہوں، بلکہ وہ تو جگہ ہی ایسی خاموش اور مثل سنسان آبادی ہو جہاں بود و باش کی ہلکی پھلکی لکیروں کے نشانات سے بھی ذرہ برابر اس کی زمین خراش زدہ نہ ہوئی ہو، ہاں اگر ایسی دنیا میسر نہ ہو اور آپ مصروف ترین آبادی کے باسی ہیں تو پھر رات کے اس سناٹے میں، جب کہ پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے اور چہار دانگ عالم میں سکوت کی چادر تنی ہوتی ہے؛ آپ شہر کے نشیب و فراز کی واقفیت کے حوالے سے ایک اس اجنبی آدمی کے بارے میں تصور کریں، جس کو ذرا سی آواز پید ہو جانے سے یکا یک لہرا اٹھنے والے خوف و ہراس کے مہیب سائے اپنے حصار میں لے لیتی ہو اور اس کے قریب جا کر اس سے یہ دلخراش خبر بیان کریں کہ : تمھارے والدین کریمین اور تم پہ اپنی ننھی جان نچھاور کرنے والی پیاری بہن کو کسی اوباش نے گرفتار کر لیا ہے، اسے نظر بند کر دیا گیا ہے، ارد گرد کرفیو کا دور دورہ ہے، پیلٹ گنوں سے ان کے پورے وجود کو چھلنی چھلنی کیا جا رہا ہے، آنسو گیس سے انھیں دن کے اجالے میں بینائی کی دولت کمال سے یتیم کر دیا جا رہا ہے، اور تو اور.. ان پر تقریباً پچیس دنوں سے غلہ و راشن فراہمی، طبی امداد، لوازمات زندگی کی تکمیل کی تمام شاہراہیں اور نقل و حرکت وغیرہ کے تمام ممکنہ ذرائع مسدود کر دیے گیے ہیں تو اس اجنبی پہ کیا قیامت گزرے گی؟کیا وہ جیتے جی مر نہیں جائے گا اور کیا ایسے کربناک و جاں گسل وقت میں وہ یہ تمنا نہیں کرے گا کہ "زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ".
یہ وہ سوالات تھے جو راحیل پر ہر لمحہ کاری ضرب لگاتا رہتا اور جس کی وجہ سے راحیل تو اندر ہی اندر ٹوٹ کر بالکل بکھرتا سا چلا جا رہا تھا. وہ اسلم کی سچی پرانی دوستی، بہن بشری کو اردو سکھانے کا منظر اور اس کی من موہنی چنچل چنچل آواز کا تصور کر کے اکثر پاگلوں جیسی ٹھاٹھیں مارنے لگتا، قہقہہ لگاتے ہوئے پوری توانائی کے ساتھ یہ آواز "ہائے!!! میرا دوست تو جیتے جی ہی مر سا گیا ” دیتا اور آواز آسمان میں گونجنے کے ساتھ ہی فوراً فضا میں تحلیل ہو جاتی؛ پر اب تک ایک دفعہ بھی اسلم سے اس کی گفتگو نہیں ہو پائی تھی۔۔۔