کچے مکان پختہ صورت

42

گہرے سیاہ بادلوں نے آسمان کو ڈ ھا نپنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسم کا رنگ نکھر گیا۔عاشر رضوی اپنے کمرے میں کھڑے کھڑکی کے شیشے سے باہر کا دل فریب منظر دیکھ رہے تھے۔جب کبھی ایسا موسم ہوتا اس کے دل کی کیفیت کچھ عجیب سی ہو جاتی ،خوشی اور شادمانی کا احساس ہلکا پھلکا کر دیتا اور وہ چند لمحوں کے لئے دنیاوی غم کو بھول کر فطرت کے اس حسین اور دلکش نظارے میں ڈوب جاتا۔
وہ سوچنے لگا بارش کچھ ہلکی ہے اگر یہ تھوڑی تیز ہو جائے تو موسم کا لطف دو بالا ہو جائے گا ۔پھر اسے آچانک چائے کی طلب محسوس ہوئی ۔اس نے ملاز مہ کو بلایا اور اسے چائے بنانے کو کہا ۔جب وہ چائے بنا کر لائی تو اس نے کھڑکی کے قریب بلایا اور کہا۔۔۔۔۔دیکھو بوا کتنا خوبصورت سماں ہے لیکن اگر بارش کچھ تیز ہو جاۓ تو مزا ہی آ جائے ۔۔۔۔ہر طرف ہریالی ہمیں دیکھنے کو ملے گی ۔۔۔۔ موسم کتنا سہانا ہو جائے گا ۔” جواب میں اس کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔
"۔ارے کیا بات ہوئی آپ رو رہی ہو بوا ۔۔۔۔۔۔۔واہ کمال ہے لوگ اس موسم میں تو خوشی سے پھولے نہیں سما تے اور آپ آنسوں بہا رہی ہیں ۔”
صاحب جی ! آپ او نچے لوگ ،محلوں میں رہنے والے لوگ اس موسم میں تو خوشی سے پھولے نہیں سما تے۔۔۔۔آپ ہم غریب لوگوں کے دکھ کو کیا جانیں۔۔۔۔۔؟آپ ان مظبوط مکانوں خوش اور مطمئن ہیں۔ہمارے گھر کچی انیٹوں اور پھو نسوں سے بنے ہیں ۔۔۔۔۔ان کی چھتیں نا پا ئیدار اور دیوار یں کمزور ہیں۔۔۔۔۔۔جب بادل گرجتے ہیں تو ہمارے دل مارے خوف کے کانپ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔بارش آپ کے لئے شادمانی کا سامان لے کر آتی ہے اور ہمارے لئے یہ لمحات اذیت سے بھر پور ہوتے ہیں "۔
"اچّھا ۔۔۔۔اچّھا ٹھیک ہے،اب آپ جاؤ "۔اس نے جلدی سے کہا ۔اور وہ اپنے ساڑی کے پلو سے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
"۔بڑی غلطی ہوئی نشیمن بوا جو آپ سے بات کی ۔اچّھے بھلے موڈ کو خراب کر دیا۔پھر اس نے سر جھٹک کر خود کو اس خیال کی گرفت سے آزاد کرایا اور قدرت کا کرشمہ دیکھنے میں منہمک ہو گیا۔بارش اس کی خواہش کے مطابق کچھ اور زیادہ تیز ہو چکی تھی ۔وہ اس منظر میں کھویا ہوا تھا کہ نشیمن بوا نے اسے اطلاح دی کہ” باہر کھڑا کوئی آدمی آپ سے ملنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
"کون ہے جو اس طوفانی بارش میں مجھ سے ملنے چلا آیا ۔۔۔۔۔؟”اس نے بے دلی سے پوچھا،کیونکہ اس کے خوبصورت خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا تھا۔

"آپ ہی کے گاؤں مدھے پورا سے آیا ہے ۔”
"معلوم کیجئے کیا چاہتا ہے”۔
"شاید وہاں آچا نک باندھ کا پشتہ ٹوٹ جانے سے پورا گاؤں سیلاب کے زد میں آ گیا ہے،وہ چاہتا ہے کہ آپ منتری جی کو فون کرکے فوراً کشتی کا انتظام کروا ئیں۔
"اوہ۔۔۔۔۔ہو ۔۔۔ یہ لوگ بھی کسی کے آرام کا خیال نہیں کرتے۔۔۔۔۔؟”
"نہیں بابو جی خدا کے لئے ایسا نہ کہئیے۔ ۔۔۔۔بس فون کر دیجئے ۔۔۔۔۔۔آپ کا ایک فون لاکھوں انسانوں کی زندگی بچا سکتا ہے ۔۔۔۔۔!”
وہ دانت پیستا ہوا آگے بڑھااور کوسی کےا پھان کو روکنے کیلئے ۔۔۔۔۔۔اور کشتی کے لئے فون کر دیا۔اس کا نام شہر کے معزز لوگوں میں سر فہرست تھا اور اسے تقریباً سب لوگ جانتے تھے۔
ایمبولینس وقت پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ۔مگر عاشر کا موڈ آف ہو چکا تھا ۔اس ماحول کی جادوئی کیفیت ٹوٹ چکی تھی اور وہ تھک کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔
کبھی کبھی تو موسم اچّھا ہوتا ہے اور یہ لوگ اسے بھی فنا کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ موبائل کی بپ بج اٹھی وہ چونک پڑا ،اب کس کا فون ہو سکتا ہے۔۔۔؟وہ یہی سوچتا ہوا موبائل کی طرف لپکا "۔ہیلو عاشر رضوی اسپینگ۔ ۔۔۔؟”
"یس "۔
"عاشر صاحب میں ڈاکٹر رنجن پر ساد بول رہا ہوں ۔۔۔۔۔ابھی ابھی آپ کی وائف اور سات سالہ بچے کو ہسپتال لایا گیا ہے۔
انفارمیشن ملی ہے کہ کچے مکان کے ملبے سے نکالے گئے ہیں ۔میں نے انہیں دیکھا تو فوراً آپ کو ابھی کال کیا ۔آپ جلدی ہسپتال پہنچیں۔”
اف یہ آچا نک کیا ہو گیا وہ لوگ اس کچے مکان میں کیسے پہنچ گئے،وہ تو شا پنگ کرنے گئے تھے ۔
"کیا بات ہے صاحب جی ۔۔۔۔؟ آپ بہت پریشان لگتے ہیں۔”اس نے کوئی جواب دئے بغیر باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔گاڑی نکالی اور ہسپتال پہنچا۔ اس کی بیوی کو اس وقت ہوش آچکا تھا مگر بچے کی حالت بہت نازک تھی ۔

"۔کیا ہوا تھا افراح ۔۔۔۔بولو ۔۔۔۔۔میرا سبطین کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟اس نے بڑی بے چینی سے اپنی بیوی سے پوچھا ۔
"۔ہم شاپنگ کر کے واپس آ رہے تھے کہ آ چا نک سے کار خراب ہو گئی۔ہم نیچے اتر کر رکشہ دیکھ رہے تھے کہ بارش شروع۔ ہو گئی ۔بارش سے بچنے کیلئے قریبی گلی میں گھس گئے۔وہاں ایک گھر میں پناہ لی۔۔۔۔۔بارش ہر لحظ تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔میں اس کے تھمنے کی دعا کر رہی تھی ،مگر اسی لمحے مکان کی چھت گر گئی ۔۔۔۔۔ہمارے علاوہ وہاں دو بچے اور ایک بچی بھی شامل تھی۔مجھے اب ہوش آیا ہے مگر میرا بچہ سبطین کہاں ہے۔۔۔۔؟وہ جلدی سے اٹھا اور اِدھر اُدھر ڈاکٹر کو دیکھنے لگا ۔ایک ڈاکٹر اسے راہداری میں مل گئے ،وہ تیزی سے اس کی طرف لپکا اور اپنے بچے کے متعلق پوچھا ۔۔۔۔
"وہ ڈاکٹر بولے ۔۔۔۔بچے کی حالت بہت نازک ہے ہم لوگ اسے بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔”
"۔جتنا پیسہ درکار ہو میں دوں گا مگر اسے ہر حال میں بچنا چاہئے ڈاکٹر ۔”
"عاشر صاحب !دولت سے زندگی نہیں خریدی جا سکتی یہ تو بھگوان کے ہاتھ میں ہے،آپ دعا کریں ۔”اس نے اپنی بات کہ کر (O.T)میں گھس گیا ۔
عاشر باہر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اس کا پورہ وجود مانو جیسے آندھیوں کی زد میں آگیا تھا۔اتنے میں ڈاکٹر رنجن پر ساد وہاں سے گزرا ،دُور ہی سے اُسے حو صلے کی تلقین کی۔

"مگر وہ اسے کیسے سمجھاتا کہ جب چوٹ اپنے دل پر پڑتی ہے تو جسم کے ہر عضو کا تار تار لرز اٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔انسان کا احساس اس وقت بیدار ہوتا ہے جب اپنے آشیا نے پر بجلی گرتی۔ ہے۔” وہ چیئر پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔۔۔۔اس نے بڑے بڑے شہروں اپنی کوٹھیاں بنا رکھی ہیں۔اگر اسے ایک دن کے لئے بھی ممبئی جانا پڑا تو وہاں اس کی کوٹھی موجود ہے۔۔۔۔دہلی اور چنئی میں بھی اسکا خود کا بنگلہ ہے،جبکہ ان میں رہتا کوئی نہیں۔۔۔۔۔؟اور اسے ان غریب لوگوں کا کبھی خیال نہیں آیا جو کچے مکانوں کے خوف کے سائے میں پرورش پاتے ہیں انکی خوشی میں اسے کوئی خوشی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔؟ان کے دکھ کا اسے کوئی ملال نہیں ہوتا۔۔۔۔۔وہ کیسا انسان ہے۔۔۔۔۔؟اسکے سینے میں بھی دل ہے یا نہیں۔۔۔۔؟اگر ہے تو کہا ہے۔۔۔۔۔؟کیا صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے۔۔۔۔اس کی دھڑکنوں میں دوسروں کا غم شامل کیوں نہیں ہوتا۔۔۔۔۔؟”
"وہ دل ۔۔۔۔۔دل نہیں جو صرف اپنے لئے دھڑ کے ۔۔۔۔۔وہ انسان۔۔۔۔۔انسان نہیں جس میں احساس کی تما زت نہ ہو۔۔۔۔وہ لوگ بےحس ہوتے ہیں،جن کے دل میں ہمدردی کا جذبہ نہ ہو۔۔۔۔۔؟لیکن وہ تو بے حس نہیں ۔ہے ،وہ تو درد کو محسوس کر سکتا ہے۔۔۔۔کرب کی کیفیت کو جان سکتا ہے۔۔۔۔دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔۔۔۔تو ۔۔۔۔۔پھر وہ دوسروں سے اتنا ماورا کیوں ہے۔۔۔۔۔؟وہ بیچینی سے اٹھ کھڑا ہوا اور پھر ٹہلنے لگا۔۔۔۔وہ دل ہی دل۔ روتے ہوئے دعا کر رہا تھا کہ”اے پر ور دگار !مجھے معاف فرما۔میں واقعی بھٹک گیا تھا۔تونے مجھے سیدھے راستے پر لایا۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس محلے کے سارے مکانو ں کو پختہ بنواؤ نگا۔۔۔۔۔تو مجھے میرا بچہ لوٹا دے۔۔۔۔۔اسے زندگی بخش دے۔۔۔۔۔میں غریبوں کی، جب تک زندگی ہے میری میں مدد کرتا رہونگا۔۔۔۔تاکہ پھر کوئی بچہ کچے مکانوں تلے دب کر ہلاک نہ ہو ۔۔۔۔۔میں اپنی کوٹھیاں بیچ کر اس رقم سے کچے مکانوں کو پختہ بنوا وں گا ۔اس کی پلکوں سے آنسوں ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔

آج پہلی بار اس کا دل بڑے خلوص سے خدا کے دربار میں سجدہ ریز تھا۔کچھ گھنٹے کے بعد ڈاکٹر نے اسے خوشی کی خبر سنائی ۔جسے سن کر وہ ایک بار پھر اپنے آنسوں ضبط نہ کر سکا۔یہ خوشی اور تشکر کےآنسو تھے۔یہ آنسو اس کے دل کی کدورتوں کو اپنے ساتھ بہ لے گئے ۔اب اس کا دل کچے مکانوں کو پختہ ہونے کی صورت میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔!!