تعلیم وتربیت کا معیار بلند کرنے کی ضرورت

15

اللہ رب العزت نے ملت کی سر بلندی اور قوموںکے عروج کا جو نسخہ ہمیں دیا ہے ، ان میں ایمان اور علم بنیاد اور اساس ہے ،قرآن کریم میں ہے :اللہ ایمان اور علم والوں کو اوپراٹھا تا ہے ، ایمان پر محنت مختلف طرح سے کی جار ہی ہے اور بڑی تعداد میں افراد پوری دنیا میں اس کو مضبوط بنانے اور شرعیت کا مطلوب یقین پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، یہ ایک بہتر اور اچھی کوشش ہے ، تعلیم کے میدان میں بھی کام ہو رہا ہے ، مدارس ملحقہ وغیر ملحقہ سرکاری وغیر سرکاری اسکول ، پر ائیوٹ کنونٹ اور مختلف ادارے ، تنظیموں اور گاؤں والوں کی طرف سے چلائے جانے والے مکاتب اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور کہنا چاہے کہ بعضوں نے اسے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے ، جو لائق ستائش بھی ہے اور قابل تقلید بھی اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میںمعیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے ، مقابلاتی دور میں کاغذ کے سر ٹیفیکٹ کا حصول کافی نہیں ہے، بلکہ اس سر ٹیفکٹ کے پیچھے صلاحیت کی مضبوط طاقت ہونی چاہئے ، تبھی ہمارے طلبہ آگے بڑھ سکیں گے ، اس کے لئے غیر معمولی محنت اور جد وجہد کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلم ہے وہ ہمیں د بانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے ، غیر ضروری شرطیں لگا کرہمارے بچوں کوملازمتوں سے دور رکھنے کی سعی مسلسل کی جاتی رہی ہے ، ایسے میں ضرورت ہے کہ جب دوسرے لوگ مقابلے میں ستر فی صد صلاحیت ( نمبرات کے علاوہ) لے کر جائیں تو ہمارے طلبہ نوے اور پنچانوے فی صد صلاحیتوں کے ساتھ میدان میںآئیں ، کوشش سو فی صد صلاحیت کی، کیجائے گی تب کہیں یہ نشانہ پورا کیا جا سکے گا ، ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ بڑے پیمانے پر بد عنوانی اور جانب داری کے باوجود صلاحیتوں کو زیادہ دنوں تک دبا یا نہیں جا سکتا ہے ، عامر سبحانی ، افضل امان اللہ عبد الکلام وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، خصوصا سابق صدر جمہوریہ ہند عبد الکلام کی زندگی کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کو بتا تا ہے کہ عزم جواں اور حوصلے بلند ہوں ، تو منزل تک پہونچنے میںنہ مفلسی حائل ہوتی ہے اور نہ ہی منصفی ، عصری تعلیم گاہوں میں مسلم طلبہ کی بڑی تعداد ہے ، سچر کمیٹی رپورٹ کی روشنی میںپڑھنے والے مسلم طلبہ کی چھیانوے فی صد تعداد ادھر کا ہی رخ کرتی ہے ، جن میں تربیت یافتہ اور اعلی تعلیم یافتہ حضرات مسند تدریس پر متمکن ہوتے ہیں ، بڑی بڑی تنخواہیں انہیں اس کام کے لئے دی جاتی ہیں، لیکن تعلیم کا معیار گرتا چلا جا رہا ہے ۔
اس معیار کو اونچا کرنے کے لئے ان دنوں کوچنگ سسٹم رائج ہے ، تاکہ پیشہ وارانہ مقابلہ جاتی امتحانات میںکامیابی حاصل کی جا سکے ، لیکن کوچنگ کی فیس اس قدر ہے کہ غریب اور متوسط خاندان کے لڑکوں کے لئے اس سے فائدہ اٹھانا تقریبا نا ممکن سا ہو گیا ہے ، رحمانی ۔۳۰ ، رہبر کوچنگ اور اس جیسے دوسرے ادارے فری کو چنگ کا نظم کر رہے ہیں ، جس کے نتائج بڑے حوصلہ افزا ہیں، لیکن کتنے طلبہ کے لئے ایسا ممکن ہے ، ار ان اداروں کے وسائل کتنوں کے لئے یہ سہولت فراہم کرسکیں گے ، اس لئے بات جا کر وہیںپر ٹکتی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بنیادی تعلیم سے ہی اس کام کو اولیت دینی ہوگی تاکہ طلبہ میں مطلوبہ صلاحیتیں پیدا ہو سکیں ، اس کے لئے حکومت اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ان لوگوں کو آگے آنا ہو گا ، جو اس میں رضا کارانہ تعاون کر سکیں ، پنچایت اور اسکول کی سطح پر جو کمیٹیاں دیکھ ریکھ کے لئے بنائی گئی ہیں ، انہیں سیاسی وفاداریوں سے اوپر اٹھ کر اس کام کو کرنا ہو گا ، اساتذہ سے غیر تدریسی کام جس قدر لئے جار ہے ہیں ۔اس سے وہ اپنے اداروں سے غیر حاضر ہوتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ان اساتذہ سے مردم شماری سے لے کر گھر شماری اور جانور شماری تک کا کام لیا جا تا ہے ، پنچایت سطح سے لے کر ریاستی اسمبلی اور پارلیامنٹ کے انتخابات میں بھی انہیں اپنی خدمات فراہم کرنی پڑتی ہیں ، پھر یہ سلسلہ ترتیب و ار مختلف مراحل میں انتخابات کی وجہ سے اتنا طویل ہو تا ہے کہ کار طفلاں تمام ہو تا جا رہا ہے ، دن کی خوراک ملنے کی وجہ سے بچوں کی پوری توجہ تعلیم کے علاوہ دیگ کی طرف رہتی ہے، تدریسی اساتذہ کا بڑا وقت اس کے حساب ، کتاب اور لیکھا جو کھا میں چلا جا تاہے ، اس کے لئے کوئی دوسری شکل سوچنی چاہئے یہ انتہائی ضروری ہے ۔
فرصت اور غیر حاضری کے ایام کے بعد اسکول میں حاضری کی پابندی کی وجہ سے طلبہ کا نقصان ہو تا ہے ، اس میںسارے اساتذہ کی شرکت لازم کرنے کے بجائے اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو بلا کر کام چلا یا جاسکتا ہے۔ پھر اساتذہ جتنے دن اسکول رہتے ہیں ان کی توجہ طلبہ پر صحیح انداز میں مرکوز ہو تو کام اچھا ہو گا اور بڑی حد تک تلافی ہوگی،لیکن احساس ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے وہ ایام بھی گپ شب میں گذر جاتے ہیں، ان حالات میں صرف غرباء کے بچے ہی سرکاری اسکولوں میں رہ جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کو ئی متبادل نہیں ہوتا ، جن کے پاس متبادل ہے وہ غیر سرکاری اداروں میںبچوں کو داخل کرتے ہیں، موٹی موٹی فیس بھرتے ہیں ، دیہات میں رہنا ضروری ہے تو ٹیوشن کا نظم کرتے ہیں اور کسی طرح اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن کلاس کی کمی کلی طور پر پوری کی ہی نہیں جا سکتی ، اس لئے ہمیں اگر سب کے لئے تعلیمی معیار کو اونچا کرنا ہے تو لازما رسمی تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کو اونچا کرنا ہو گا ، اور اس راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنا ہو گا ، تدریسی عملہ کو صرف تدریس کے لئے خاص کرنا ہو گا ، اور بقیہ ضروری کام کسی رضا کارانہ تنظیم سے لینا ہو گا تاکہ اساتذہ یک سو ہو کر اس کام کو کر سکیں اور ہم سب مل کر اس ملی وملکی ذمہ داری میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
تعلیم کے اس انحطاط کو دور کرنے کے ساتھ ہمیں ان کی اچھی تربیت کا بھی نظم کرنا ہوگا ، بڑوں کا ادب واحترام ، اساتذہ کے تقدس وعظمت کا احساس ، کمزوروں اور بے کسوں کی مدد کا جذبہ ، جسمانی رکھ رکھاؤ اور وضع قطع سب پر خاص توجہ کی ضرورت ہے ، اب جو نسل تعلیمی اداروں سے نکل رہی ہے ، اس میں ان چیزوں کی کمی کا احساس ہر کس وناکس کو ہے ، توڑ پھوڑ اور تعلیمی اثاثہ جات کو تقصان پہونچانے کا معاملہ بار بار سامنے آرہا ہے ، احتجاج ، ہڑتال اور تشدد کے واقعات بھی کثرت سے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم گاہوں کا تعلیمی ماحول ختم ہو رہا ہے ، تعلیمی ماحول کی بقا کے بغیر تعلیم کا کام ہو ہی نہیں سکتا ، اس لئے تعلیمی اداروں کے تربیتی نظام کو چوکس اور درست کرنا ہو گا ، ایسا طریقہ رائج کرنا ہو گا ، جس کی وجہ سے طلبہ کو شکایت کے مواقع کم ملیں اور اگر شکایت ہو ہی تو ادب واحترام کے دائرہ میں اس کے حل کی جد وجہد کی جائے ۔
معاملہ تعلیم کا ہویا تربیت کا ، گارجین کا رول ہر حال میںاہم ہے ، تعلیمی اداروں سے بچے جب گھر جاتے ہیں تو اپنے شب وروز کا بڑا حصہ گھر پر گذارتے ہیں، اس لئے گارجین کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے ماحول کو پاکیزہ بنائے رکھیں میاں بیوی کے جھگڑے ، پڑوس سے سخت کلامی ، گالی گلوج، غیبت اور جھوٹ کا ماحول اگر ہمارے گھر وں میں رہے گا تو ہم بچے کی تربیت صالح قدروں کے مطابق نہیںکر سکیں گے ، اس لئے گارجین حضرات کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہو گی ، خود بھی پاکیزہ رہنا ہو گا اور ماحول کو بھی پاکیزہ رکھنا ہوگا ، اخلاقی قدروں کی پامالی پولوشن اور فضائی آلودگی کی طرح ہے ، اسے پردہ لٹکا کر نہیں روکاجا سکتا ہے ، اس لئے ہمیں خانگی اور سماجی سطح پر ایسے انتظامات کرنے ہوں گے ،جہاں بچوں کو صاف ستھر اور پاکیزہ ماحول مل سکے۔
اس کام کے لئے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے عصری تعلیمی اداروں کے لئے ایسی اقامتگاہوں کے قیام پر زور دیا تھا ، جہاں طلبہ کے لئے یہ ماحول فراہم کیا جاسکے ، ان اقامت گاہوں میںایسے نگراں رکھے جائیں اور ایسے لکچر اور محاضرے کا نظم کیا جائے ، جس میں طلبہ کی صلاحیت صالحیت کے ساتھ پروان چڑھ سکے ، سرکاری سطح پر یہ کام اقلیتی ہوسٹلوں کے ذریعہ لیا جاسکتا ہے ، ہر ضلع میںاقلیتی ہوسٹل بنائے گئے ہیں، ان کا مصرف ہم اس کام کے لئے لے سکتے ہیں۔
مجھے احساس ہے کہ تجویز کی حدتو بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے، لیکن عمل ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ، اور اس میںبہت ساری دشواریاں ہوتی ہیں، ان دشواریوں کو عبور کرنے کے لئے ایسے جیالوں کی ضرورت ہے جن کے بارے میں کہا گیا ۔
ع۔ کسی دیوار نے سیل جنوں روکا نہیں اب تک