زبیرالحسن غافل کی یاد میں دعائیہ نشست کا اہتمام

26

ارریہ (معراج خالد)

سبکدوش جج اور سینئر شاعر زبیر الحسن غافل کے انتقال سے علمی ادبی دینی اور سماجی حلقوں میں سوگواری چھائی ہوئی ہے, واضح ہوکہ گذشتہ 26 جنوری کی شام زبیرالحسن غافل کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ان کی رحلت کے بعد سے ہی مختلف اداروں اور سماجی وادبی تنظیموں کی طرف سے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے اسی کڑی میں گذشتہ روز شہر کے میر نگر میں واقع معروف دینی ادارہ جامعہ تجوید القرآن کے احاطہ میں ایک دعائیہ نشست کا اہتمام ہوا جس کی صدارت مولانا طارق ابن ثاقب اور نظامت ادارہ کے ناظم قاری نیاز احمد قاسمی نے کی اس موقع پر "چشمۂ رحمت ارریہ” کے ایڈیٹر مفتی حسین احمد ہمدم نے زبیرالحسن غافل رحمہ اللہ کی کہی ہوئی نعت کے اشعار اپنی پرسوز آواز میں پیش کئے,اور پھر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہر آدمی دوسرے کو اپنی نظر اور نظریئے سے دیکھتا ہے میں چونکہ دینی علوم کا طالب علم ہوں اس لئے زبیرالحسن غافل صاحب مرحوم کی شخصیت کے دینی وایمانی پہلو پر میری نظر زیادہ رہی ,میں نے آپ کو فروعی مسائل میں ایک وسیع القلب مگر ایمان وعقائد کے معاملے میں بہت مضبوط اور مستحکم پایا, عشق نبی آپ کی زندگی کا سرمایہ تھا,آپ کی کہی ہوئی نعتوں میں بےحد سوز و گداز ہے, عالم اسلام کی صورتحال سے غمزدہ رہتے مگر یقین کی حد تک پرامید بھی تھے کہ بہت جلد مشرق کے جیالوں سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہوگی, مرحوم وسیع المطالعہ اور اعلی ظرف انسان تھے, شہر ارریہ کے علمی و ادبی حلقوں کے سرپرست و مربی تھے ان کی رحلت ارریہ اور سیمانچل ہی نہیں ملک کی علمی وادبی دنیا کا بڑا نقصان ہے اللہ انہیں غریق رحمت کرے” . اس موقع پر مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا کہ "زبیر الحسن غافل ایک عظیم انسان اور عظیم فنکار تھےایک بڑے عہدے سے ریٹایرڈ ہونے کے باوجود ان کے اندر مثالی تواضع اور انکساری تھی ,ان کے گذرنے کے بعد ہم سب پر ان کا حق ہے کہ ہم انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھیں اور خاص طور پر مرحوم کے صاحبزادگان و پسماندگان پر لازم ہے کہ انتقال کے بعد بھی ان کی فرمانبرداری کرتے رہیں یعنی ان کے بتائے ہوئے اچھے کاموں کو کرتے رہیں ,ان کے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک کریں اور صرف ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی لئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام ہو”. مرحوم کے بھانجے اور سینئر صحافی پرویز عالم علیگ نے مرحوم کی شفقت وعنایت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "ان کے بغیر ہمارے گھر کوئی تقریب مکمل نہیں ہوتی تھی ہر خوشی وغمی میں بطور سرپرست موجود ہوتے تھے , علمی طور پر آپ نے اپنے وسیع مطالعہ سے ایک خاص فکری توازن کا احساس کرایا اور نئے زاویوں پر سوچنے کی رہنمائی کی” . مرحوم کے ایک اور بھانجے مفتی انتخاب عالم قاسمی نے حدیث پاک کی روشنی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ "انسان کے وفات پاجانے کے بعد اس کی نیکیوں کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے مگر تین قسم کے اعمال کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہتاہے: صدقۂ جاریہ, علم نافع اور نیک اولاد جو اپنے والدین کے لئے دعائیں کرتی رہے ماموں جان مرحوم تینوں باتوں میں بڑے خوش قسمت ثابت ہوئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور بلندئ درجات سے نوازے.
se
ریٹائرڈ ہیڈماسٹر ظفرالحسن نے کہا کہ ” مرحوم صرف میرے بڑے بھائی ہی نہیں تھے ایک دوست بھی تھے ہم لوگ ہمیشہ ایک چھت کے نیچے ایک ساتھ رہے آپ کبھی میرے بغیر کسی پروگرام میں جانا پسند نہیں کرتے اور نہ مجھے کبھی اکیلا چھوڑتے,بھائی جان کی رحلت نے مجھے آدھا کردیا, آپ ہر طبقے کے لوگوں کی نظر میں یکساں طور پر بےحد محبوب و محترم ہیں اس کا اندازہ مجھے آپ کی حیات سے زیادہ وفات کے بعد ہوا” . مرحوم کے صاحبزادے ارشد حسن معلم گورنمنٹ اسکول نے اپنے والد حضرت غافل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا "آپ کا تخلص غافل تھا مگر آپ حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے تھے” انہوں نے سفر حج میں مرحوم کی شیفتگی اور عزیمت کا جذباتی تذکرہ بھی کیا. مرحوم کے صاحبزادے اسلم حسن جو ممتاز ادیب اور اہل قلم ہونے کے ساتھ کمشنر بھی ہیں انہوں نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ” والد محترم بہت محبت کرنے والے انسان تھے , اپنی تکلیف کو بھلاکر دوسروں کے آرام کاخیال رکھنا ان کی خاص ادا تھی , دین کی معنویت اور ادب کی اہمیت کا سبق مجھے اپنے والد محترم سے ملا ہے انشاءاللہ میں والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی اور ادب کے منازل طے کرنے کی کوشش کروں گا” اخیر میں پروگرام کے صدر عالمی شہرت یافتہ خطاط اور معروف شاعر قاری طارق ابن ثاقب نے کہا کہ "میں جب ایک طویل عرصے تک دارالعلوم دیوبند کے جوار میں مقیم رہنے کےبعد آج سے چند سال پہلے ارریہ میں مقیم ہوا تو وہ حضرت زبیرالحسن غافل کی قدآور شخصیت اور سراپا خلوص ذات ہی تھی کہ اس شہر سے دل بستگی پیدا ہوئی, بلاشبہ آپ ایک عظیم انسان تھے آپ کی وفات ناقابل تلافی نقصان ہے” .
پروگرام کا اختتام جامعہ تجوید القرآن کے ناظم اعلی قاری نیاز احمد قاسمی کی رقت آمیز دعاء پر ہوا.
دعائیہ نشست میں اشرف حسن,احمر حسن نقیب الظفر مولانا مجیب الرحمن مفتاحی قاری جسیم الدین حسامی مولانا انظر ربانی رحمانی مولانا فراز ذکی ندوی حاجی فیروز احمد وغیرہ بھی موجود تھے.