شانِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حقیقت کے آئینہ میں

53

( 6فروری2021 کو وصال صدیق اکبر کے موقع پر ایک تحقیقی مضمون)

تحریر: محمد اورنگ زیب مصباحی گڑھوا جھارکھنڈ(رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ)  رب کی نعمتوں ، احسانوں، اورغفران و درگزر کا شمار کرنا چاہیں تو یہ ہمارے ذہنی وسعت سے مرتفع ہے، مگر افضل المخلوقات والنعم حضور ﷺ ہیں ، ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم ان کی امت میں پیدا ہوئے اور کم نصیبی کہ ہم ان کے امتی ہو کر بھی ان کے دیدار سے محروم ہیں۔

مگر وہ خوش نصیب بھی گزرے ہیں جو اس نعمت سے سرفراز ہوئے جنکے زمانے کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا” خیر القرون قرنی”۔ اور جن کے بارے میں ارشاد فرمایا "اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم”(دار قطنی) یعنی میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی اقتداء کرو راہ یاب ہوگے۔

آج اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے تقریباً تہتر سے زائد فرقے وجود میں آچکے ہیں جن میں سرفہرست رافضیت، قادیانیت اور گستاخان رسول اور صحابہ ہیں، جو متعدد ناموں سے مشہور ہیں اور وقت ضرورت اپنی پہچان چھپانے اور فرقے بدلنے میں ماہر ہیں، لعنت اللہ علیھم اجمعین ، ان فرقوں کی خصلت رذیلہ ہی کا حظ و حصہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی صحابی رسول کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ علمائے اہلِ سنت کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ سارے صحابہ عادل اور ستاروں کے مانند ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء و رسل کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں، چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا "ابوبکر ن الصدیق خیرالناس الا أن یکون نبیاً”یعنی ابوبکر لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ اس کے کہ وہ نبی نہیں ہیں، ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق افضل الناس یعنی لوگوں میں سب سے افضل ہیں، اگر کسی شخص نے اس کے خلاف کہا تو وہ مفتری اور کذاب ہے، اس کو وہ سزا دی جائے گی جو افترا پردازوں کے لیے شریعت نے سزا مقرر کی ہے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ "خیر ھذہ الأمـة بعد نبیھا ابو بکر وعمر” یعنی اس امت میں حضور ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر و عمر ہیں، علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کا یہ قول ان سے تواتر کے ساتھ مروی ہے (تاریخ الخلفاء)

ابو بکر صدیق کا ایمان سارے صحابہ میں سب سے کامل و اکمل تھا اسی قدر ان کی شان بھی بلند و بالا ہے، واقعہ معراج کی صبح بہت سے مشرکین حضرت ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو کچھ خبر ہے؟ آپ کے دوست محمد( ﷺ) کہہ رہے ہیں کہ انہیں رات کو بیت المقدس اور آسمان وغیرہ کی سیر کرائی گئی ہے ۔ آپ نے کہا واقعی وہ ایسا فرما رہے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہاں! وہ ایسا ہی کہہ رہے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا "انی لأصدقہ بأبعد من ذلک” یعنی اگر وہ اس سے بھی زیادہ بعید از قیاس اور حیرت انگیز خبر دیں تو بیشک میں اس کی بھی تصدیق کروں گا۔ اسی طرح جنگ بدر میں عبدالرحمن بن ابی بکر کفار مکہ کے ساتھ تھے اسلام لانے کے بعد ایک دن اپنے والد ابو بکر سے کہنے لگے کہ جنگ بدر میں آپ کئی بار میری زد میں آگئے تھے مگر میں نے والد سمجھ کر چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا۔ جوابا صدیق اکبر نے کہا کہ اگر تم میری زد میں آتے تو محبت رسول اولاد کی محبت پر غالب ہوتی اور میں تمہیں قتل کردیتا۔ اور بھی کئی ایسے واقعات ہیں جس سے آپ کے کمال ایمان اور عظمت شان کا پتہ چلتا ہے۔

*صدیق اکبر کی اولوالعزمی اور شجاعت*

آپ سارے صحابہ میں سب سے زیادہ شجاع اور بہادر تھے اس تعلق سے علامہ بزار رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں تحریر فرماتے ہیں کہ "حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ ان لوگوں نے کہا کہ آپ ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تو ہمیشہ اپنے جوڑ سے لڑتا ہوں پھر کیسے ہوا؟ وہی سوال پھر پوچھا لوگوں نے عدم علم میں سر ہلایا ۔ آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، کیونکہ جنگ بدر میں ہم لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک عریش بنایا تھا تاکہ گرد و غبار اور دھوپ سے محفوظ رہیں ، ان لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟ کہیں کوئی حملہ نہ کر دے تو خدا کی قسم سوائے حضرت ابوبکر صدیق کے کوئی آگے نہ آیا ”

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد غم فرقت حضور میں بہت سے بہادروں کی بہادری نڈھال ہوگئی ، ان کے حوصلے پست ہوگئے تھے، بعض لوگ پاگل ہو گئے تھے اور ایسے میں فتنہ ارتداد بھی رونما ہوا کہ لوگ اسلام سے برگشتہ ہونے لگے اور اس کے احکام کا انکار کر مرتد ہونے لگے اور زکوۃ جیسے اہم رکن اسلام کے منکر ہوگئے تھے اس فتنہ ارتداد میں وہ حضرت ابوبکرصدیق ہی تھے جنہوں نے پرچم اسلام کو سربلند کیا اور علم جہاد اٹھایا اور اس فتنہ ارتداد پر سد باب کیا حضرت عمر اور چند دیگر صحابہ نے کہا کہ اس وقت زکوۃ کے منکرین اور مرتدین سے جنگ کرنا مناسب نہیں ، آپ نے کہا رب ذوالجلال کی قسم اگر وہ لوگ ایک رسی یا بکری کا ایک بچہ بھی حضور ﷺ کے زمانے میں دیا کرتے تھے اور اب دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا (تاریخ الخلفاء) اس طرح کی صدہا واقعات ہیں جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اولوالعزمی، شجاعت ، سوجھ بوجھ اور اصابت رائے کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف کلمہ نماز مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں بلکہ ضروریات دین کی ساری باتوں پر ایمان بھی ضروری ہے ، ضروریات دین میں یہ بات بھی ہے کہ تمام صحابہ عادل اور ہدایت کے ستارے ہیں اس لیے کسی صحابی نبی کی شان میں گستاخی اور ان کو گالیاں دینا ان سے بغض رکھنا بربادئ ایمان کے لیے کافی ہے۔

 

*رافضیوں کا آپ پر الزام و افتراء اور اس کا جواب*

 

روافض ہی وہ فرقہ ہے جو اکثر معززین صحابہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں، اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ جو شیر خدا ،داماد مصطفی اور باب مدینۃ العلم ہیں(جنہیں وہ اپنا پیشوا ظاہر کرتے ہیں ، دن رات جس کے نام پر کماتے کھاتے ہیں) ان پر یہ تقیہ پسندی اور بزدلی کا الزام لگاتے ہیں۔

اسی طرح روافض حضرت ابو بکر صدیق پر بھی افتراء کستے ہیں کہ انہوں نے حضورﷺ کے باغ فدک کو غصب کر لیا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا۔ تو اس کا جواب ہے کہ انبیاء کرام کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے وہ جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں سب صدقہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر سے حدیث مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” لا نورث ما ترکناہ صدقۃ” ترجمہ :ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں سب صدقہ ہے (بخاری، مسلم ، مشکوۃص550) اور حضرت مالک بن اوس سے روایت ہے کہ مجمع صحابہ میں حضرت عمر نے اسی حدیث کو سنایا اور صحابہ نے تصدیق کی جن میں حضرت علی بھی تھے۔ پھر حضرت علی کے دور خلافت میں بھی انہوں نے باغ فدک کو نہیں لیا اور نہ ہی لینے کا ارادہ جتایا۔

پھر روافض یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ سب سے پہلے خلافت کا حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے مگر لوگوں نے ان کے حق کو غصب کر لیا کہ پہلے حضرت صدیق اکبر پھر عمر فاروق بعدازاں عثمان کو خلیفہ بنایا اور مسلسل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حق تلفی کی گئی۔ اور روافض اسی بہانے حضرات خلفائے ثلاثہ اور دیگر اجلۂ صحابہ کرام جنہوں نے ان کو خلیفہ منتخب کیا ان سب سے بغض و عداوت رکھتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جنہوں نے خلفائے ثلاثہ کی حمایت کی وہ اجلۂ صحابہ میں سے تھے اور قرآن و حدیث میں ان کی مدح فرمائی گئی پھر حضرت علی بھی ان کی خلافت کے حامی و ناصر تھے اور ان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانتے تھے جو کہ ان کے اقوال و افعال سے واضح ہے۔ اللہ تعالی ان کے بارے میں فرماتا ہے” رضی اللہ عنہم و رضو عنہ”یعنی اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے۔

اس تعلق سے علامہ ابو زراعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نہایت عمدہ بات فرماتے ہیں "إذا رایت الرجل أنه ینقص احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم أنه زندیق” (الاصابۃ ج1ص11) ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کی تنقیض کرتا ہے ان میں نقص نکالتا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق اور بے دین ہے اس لئے کہ قرآن اور فرمان رسول ہمیں صحابہ ہی کے توسط سے ملا ہے تو ان کی ذات میں برائی ثابت کرنا اور ان کو غلط ٹھہرانا قرآن و حدیث کو باطل قرار دینا ہے معاذاللہ۔

*صدیق اکبر کی خلافت اقوال علی کی روشنی میں*

حضرت علی نے خلفائے ثلاثہ میں سے ہر ایک کی خلافت کو بخوشی قبول فرمایا اور کسی کے خلافت سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی مزاحمت کی کوئی صورت پیش آئی جیسا کہ ابن عساکر نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب حضرت علی بصرہ تشریف لائے تو ابن الکواء اور قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہوکر آپ سے پوچھا کہ آپ ہمیں یہ بتائیے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ ہو گے تو یہ بات کس حد تک سچ ہے اس لیے کہ آپ سے بہتر اس معاملہ میں صحیح بات اور کون بتا سکتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا یہ غلط ہے کہ اللہ کے رسول نے ہم سے کوئی وعدہ فرمایا تھا جب میں نے سب سے پہلے( بچپن ہی میں)آپ کی نبوت کی تصدیق کی تو اب میں غلط بات آپ کی طرف منسوب نہیں کرسکتا اگر حضور نے اس طرح کا کوئی وعدہ مجھ سے فرمایا ہوتا تو میں حضرت صدیق اکبر و عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضور کے ممبر پر کھڑا نہ ہونے دیتا میں انہیں ہاتھوں سے قتل کرڈالتا چاہے میرا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہوتا۔ (تاریخ الخلفاء)

حضرت علی کا یہ قول بھی واضح کرتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت انتہائی ناساز ہوگئی تو انہوں نے نماز پڑھانے کے لئے ابوبکر کو چنا بس ہم نے سمجھ لیا حضور نے ہمارے دین کے معاملے میں ابو بکر کو چنا ، تو ہم نے اپنے دنیا کے لیے بھی انہیں کو چنا۔

اس طرح کے ہزاروں واقعات و احادیث ہیں جن میں مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے نہ کسی کی حق تلفی کر خلافت چھینی اور نہ ہی کسی کی ذاتی ملکیت کو غصب کیا بلکہ حضرت علی ، صدیق اکبر ہی نہیں بلکہ عمر و عثمان کی خلافت کے بھی حامی و ناصر رہے ، جن کی شان میں روافض تنقید وتنقیص کرتے ہیں ان کی شان میں گالیاں بکتے ہیں پھر انہیں شرم بھی نہیں آتی کہ باب مدینۃالعلم اور شیر خدا حضرت علی سے ان کا حق کوئی کیسے چھین سکتا ہے۔

اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان سارے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہاں ان بہانوں سے روافض گمراہیت و بے دینی کا رواج دیتے ہیں اور مسلمانوں کو جذباتی ہوا دے کر انتشار پیدا کرتے ہیں اور قرآن و حدیث میں تحریف کا کوئی بھی پہلو نہیں چھوڑتے ۔ انہیں دعوت ہے کہ اگر وہ ایمان والے ہیں تو جھوٹ کا سہارا چھوڑ سچوں کے ساتھ ہو جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر ہی ہیں اور ان کے بعد عمر پھر عثمان اور شیر خدا علی کے لیے کہنا کہ انہوں نے تقیہ کیا یا ڈر کر چپ رہے یہ ایسے الزامات ہیں جو علم کے شہر کے دروازے شیر خدا کی شان میں توہین ہے۔