غزل نصیرنورالحق شیرشاہ بادی دوحہ قطر

21

نشانی میرے آباء کی مٹایئں گے یہاں کب تک
حقیقت کو چھپایئں گے یہ ظالم حکمراں کب تک

ضرورت کے مطابق ہم نے چمن کی آبیاری کی
ہمارے خوں سےہولی لوگ کھیلیں گے یہاں کب تک

یہاں آثار جوبھی ہیں میرے پرخوں کی منت ہے
کتابوں سے ہٹایئں گے ہماری داستاں کب تک

نشیمن کوجلاکرکے وہی چپ چاپ بیٹھا ہے
رہے گا میرے باغوں میں ہی ایسا باغباں کب تک

یہاں کے ذرے ذرے میں مرے اسلاف رہتے ہیں
یہاں صبر وتحمل سے رہیں گے بے زباں کب تک

غریبی دیکھ کر اپنے پرائے ہوہی جاتے ہیں
یہاں مظلوم کی سنتےرہیں آہ و فغاں کب تک

یہاں حق بات کہنے کی جسارت کھو گئ سب میں
نصیر آخررہے گا مہرباں یہ آسماں کب تک