یہ چمن ہمارا ہے…!

36

دیکھا یہ جانے لگا ہے، کہ اپنے ہم وطنوں سے شکایت ہوتے ہی، ہمارے اندر کچھ اس طرح بددلی پھیلنے لگتی ہے، کہ ہم اپنی مٹی پر دوسروں کا حق اپنے سے زیادہ تسلیم کرنے لگتے ہیں، اور خود کو حاشیے پر رکھ کر دیکھنے لگتے ہیں.. شہری اور مدنی حقوق پر اپنا 100٪کلیم اور اپنی پیدائشی دعویداری سے ذہنی طور یر دستبرداری اختیار کرنے لگتے ہیں.. ہمارے رویوں سے ایسا لگنے لگتا ہے کہ کوئی ہمیں حق دے گا تو ملے گا، اور اتنا ہی ملے گا جتنا کوئی بخش دے گا.. یہ بے لڑے ہتھیار ڈالنے اور کاغذی شیروں سے ڈر جانے والی کیفیت ہے.. یہ نفسیات ہی اپنی تباہی ہے.. اور ہار نے سے زیادہ ہار مان لینے کی پوزیشن ہے، جو سامنے والی بدنیت قوتوں کو حوصلہ دے دیتی ہے.. حق کا حق سے زیادہ طلبگار جھوٹا ہوتا ہے، اور کسی کے حق کا انکاری مکار اور غاصب ہوتا ہے.. وہ ہر طرح کمزور ہوتا ہے، طاقتور نہیں ہوتا.. صرف آپ کی کمزوری، سپراندازی، متذبذب استحقاق کی سوچ اسے آپ سے زیادہ مضبوط بنادیتی ہے،اور کچھ نہیں..وزیراعظم ہندوستان کی آج کی تقریر میں کچھ نہیں تھا.. سوائے ایک مزعوم فتح مندی کے احساس کے.. 15 اگست کے قومی خطاب سے، رام مندر اور تین طلاق کا کیا تعلق ہے..؟ رام مندر ایک طویل تنازعہ کے بعد، جو دو فرقوں کے درمیان تھا، عدالتی یکسوئی کے بعد بن رہا ہے. اور تین طلاق کا مسئلہ ایک حساس مذہبی مسئلہ ہے جس کو قانون سازی کے ذریعہ متعلقہ فرقے کی مخالفت کے باوجود یکسو کیا گیا.. کیا کسی جمہوری سیاسی سیٹ اپ میں، قومی تقریبات کے موقع پر یہ مشترک قومی موضوع بن سکتا ہے؟ یقیناً یہ سن کر ایک مٹاثرہ فریق کے دل و دماغ میں تشویش، ناگواری، کبیدگی اور کسی قدر مایوسی اور زخم پر نمک پاشی کا احساس ضرور ہوتا ہوگا،لیکن ان احساسات سے نکل جانے کی ضرورت ہے.. اور اسے ذہنی سطح پر بالکلیہ مسترد کردیا جانا چاہئے.

وزیراعظم کے خطاب کی میں کچھ نہیں تھا.. اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا چاہئے.. ایف ڈی آئی 18٪ بڑھنے کی حقیقت دیکھ لیں.. قومی سلامتی اور داخلی سیکورٹی کے نام پر دہائیوں سے دفاعی پیداوار کے اداروں میں بیرونی سرمایہ کاری پر امتناع تھا اور بہت محدود سطح پر اجازت تھی،، اب بیرونی سرمایہ کاری کے لئے پورا سیکٹر پوری طرح کھول دیا گیا ہے.. اتفاق سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہمارا ہے.. اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کم حساس دفاعی مواد اندرون ملک بنایا جائے گا.. اب دفاعی پیداوار کا سیکٹر بیرونی سرمایہ کاری کے لئے انتہائی پرکشش ہوگیا ہے. اس صورت حال میں، ایف ڈی آئی 100 گنا بڑھ جانا چاہئے تھا، 18٪کا کیا شمار.؟ سرمایہ کاری کا ایک اور نہایت پرکشش شعبہ انشورنس کا ہے جو پوری طرح بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا گیا ہے، اتنی بڑی اوپننگ کے باوجود 18٪ اضافہ، اور اس پر وزیر اعظم کا مگن ہونا، ملک وقوم سے ایک بھدا مذاق ہے… شاید وزیراعظم اپنی طرح سب کو پانچویں پاس سمجھتے ہیں.. معیشت پر بات کرتے وقت ان کو منفی شرح فروغ، افراط زر، اور بےروزگاری کی 50 سال کی بدترین سطح یاد نہیں آتی.. یا شاید ان کو وہ معیشت کے بجائے، ویدک سرجیکل اسٹرائک سمجھتے ہیں.. ہمیں ان تمام واہموں سے باعزت گزرجانا چاہئے اور یہ خیال عقیدہ کی طرح راسخ کرلینا چاہیے کہ کوئی کچھ سمجھے یہ ملک ہمارا ہے، یہ چمن ہمارا ہے ،ہم اس کے سچے باغبان ہیں.. ہم اسے سچائی کا سہارا لے کر پھر سینچیں گے.. اور تخریب کی قوتوں کو پسپا کریں گے.. ڈٹ جائیں تو ریگستان میں بھی پھول کھل اٹھتے ہیں، جیسا کہ اسی موسم خزاں میں راجستھان میں کھلے .. مایوسی کیوں؟ سیاست کا پاؤں انگاروں پر رہتا ہے اور وہ اپنا پاؤں بدلتی رہتی ہے..