جنگ آزادی میں سمریاواں بلاک کے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا

35

چھ ماہ تک جلتا رہا تلجا گاؤں سمر یاواں ۔سنت کبیر نگر
پہلی جنگ آزادی کے دوران ، ضلع کا سمر یا واں علاقہ انگریزوں کی مخالفت کرنے میں پیش پیش رہا۔
سمر یا واں اور تلجا کے زمینداروں کی سربراہی میں انگریزوں سے ملک کی آزادی کے خاطر لڑائی لڑی گئی۔بغا وت کرنے پر انگریزوں نے تلجا گاؤں کے پانچ افراد کو پکڑ لیا اور انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔

آج ان کو کو یہاں کی عوام و نو جوان طبقہ یاد کر رہا ہے۔ ان بہا در مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کر کے فخر محسوس کرتا ہے جنکی بدولت ہمیں آزادی نصیب ہوئی۔
اعجاز احمد کرخی نے بتایا کہ سمر یا واں کے شیخ محب اللہ نے بستی جیل میں انگریزوں کے ہاتھ کا بنا کھا نا کھانے سے انکار کے دیا تھا۔یہ جنگ آزادی میں پیش پیش رہے۔ملک کی آزادی کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہیں کی ۔اور جیل میں ہی شہید ہو گئے۔

تلجا گائوں کے پردھان نمائندہ انعام اللہ نے بتایا کہ پہلی جنگ آزادی کے دوران ہمارے تین بڑے دادا ، شیخ ولی محمد ، شیخ سلطان ، شیخ طالب اس خطے کے زمیندار تھے۔ ہمارے ان بزرگوں نے پہلی جنگ آزادی کے دوران ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ اس میں اہل علاقہ بھی شامل ہوئے۔ روز بروز جنگ آزادی کی گونج بڑھتی جا رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تپہ اجیا ر اور سمر یا واں کا یہ علاقہ ضلع گورکھپور کی تحصیل بستی حصہ تھا۔ یہاں کے مجاہدین آزادی کو زیر کرنے و دبانے کے لئے تحصیلدار آگے آیا۔ اس نے زمینداروں کو دھمکی دی تھی کہ اگر بغاوت نہ روکی گئی تو پوری زمین ضبط کر لی جائے گی۔ اس پر شیخ ولی محمد نے اس وقت کے تحصیلدار کو قتل کردیا۔ اس کا بدلہ لینے کے لئے برطانوی اور نیپالی فوج نے تلجا گاؤں میں تباہی مچا دی۔ انگریزوں نے گاؤں کو جلا کر تباہ کردیا تھا۔ لوگوں نے کھیتوں میں چھپ کر اپنی جان بچائی تھی۔
یہ گاؤں کو چھ ماہ تک جلتا رہا۔
انعام اللہ نے بتایا کہ گاؤں میں ہونے والے تباہی سے دیہاتی متاثر ہوئے تھے۔ برطانوی فوجیوں کی تباہی کو دیکھ کر ، وہ چھ ماہ تک گاؤں میں نہیں آئے۔ گاؤں چھ ماہ تک جلتا رہا۔ آج بھی پرانے مکانوں میں جلی ہوئی باقیات پائی جاتی ہیں۔ بیشتر مکانات تباہ ہوگئے۔ان مجاہدین آزادی کو بستی واقع ولی باغ میں پھانسی دی گئی تھی۔
انعام اللہ نے بتایا کہ تحصیلدار کے قتل کے بعد گاؤں پہنچنے والے انگریزوں نے تینوں زمینداروں اور ان کے دو محافظوں کو گرفتار کرلیا۔ زمیندار کی گرفتاری کے بعد اہلکار خود انگریز کے ساتھ چلے گئے۔ انگریزوں نے ضلع بستی کے ولی باغ میں پانچوں کو کھلے عام پھانسی دے دی۔
برطانوی فوجیوں نے گاؤں کے لوگوں پر تباہی مچا دی تھی۔ ایک ساتھ مل کر گاؤں میں بہت ساری لوٹ مار ہوئی۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ انہوں نے بغاوت میں انگریزوں سے لڑنے کے لئے جو ہتھیار رکھے تھے وہ بھی چھین کر لے گئے۔ انگریزوں نے گاؤں کے شمال میں واقع کنواں میں ہتھیار کو پھینک دیا۔ وہ کنواں آج بھی موجود ہے۔ جو بہادر مجا ہدین آزادی کی قربانی کی گواہی دے رہے ہیں۔

تپہ اجیار کے ایک درجن مجاہدین آزادی کے نام بلاک ہیڈ کوارٹر پر ملک کی آزادی کے پچیس سال مکمل ہونے پر 1972 میں لگے پتھر پر نام جلی حروف میں لکھے ہوئے ہیں۔ جسمیں مولانا عبدا لوہا ب،شیخ محمد طالب،شیخ محب اللہ،شیخ ولی محمد،شیخ سلطان،نظام الدین،اشرفی لال سریو استو ،امئی،بدل،بجھا رت ،ما تا بدل اور للت رام کے نام قابل ذکر ہیں۔

آزادی تہتر سال مکمل ہونے کے بعد بھی ان مجاہدین آزادی کا علاقہ ترقّی کے لحاظ سے بہت پسماندہ ہے۔اعلیٰ تعلیم،بہترین صحت کے سہولیات،ٹرانسپورٹ ،سڑک بجلی، پانی سے گاؤں کے لوگ محروم ہیں۔ان مجاہدین آزادی کے نام پر امسال مقامی ایم ایل اے جے چو بے اور ممتاز احمد بلاک پر مکھ کے ذریعہ شہید اسمار ک کی تعمیر کرائی گئی ہے۔جو کو ویڈ 19 کے چلتے ابھی افتتاح نہیں ہو سکا۔
پندرہ اگست کے موقع پر علاقے کے علمائے کرام سیاسی سماجی تعلیمی اور سرکردہ لوگوں میں شامل گوہر علی خان،ابو الکلام، افسر یو احمد،محمد احمد،حاجی مشہور عالم چو دھری،انوار عالم چودھری،اعجاز احمد کرخی,اخلاق احمد خان، سید فیروز اشرف،مفتی افروز احمد قاسمی،مبین خان، ظفیر علی، الدین چو دھری،وکیل احمد پردھان، منیر احمد پردھان،وکیل انصاری، منیر الحسن چو دھری،مو لانا مجیب الرحمن قاسمی ،فضیل ندوی ،افضل کرخی،شمشیر احمد،مجیب اللہ پرنسپل،فیضان احمد،افضال احمد پردھان،انظر حسین قاسمی،مہتاب عالم لڈو،محمد مکرم ایڈو کیٹ بشیر احمد پردھان ،محمد اعظم ، محمود احمد چو دھری،فیروز احمد ندوی محمد نذیر،دلشا د افسر،احتشام چو دھری،ابو بکر چو دھری ،مسرور خان،منور خان،نفیس صدیقی نور عالم صدیقی، سلمان کبیر نگري، اطہر کرخی،اعجاز منیر،رضوان منیر ،ابو ذر چودھری،محمد عدنان،وسیم خان،ہارون ساحل،خیر البشر،مقصود ندوی، نے بزرگ مجاہدین آزادی کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ۔