امارت شرعیہ کی تعلیمی مہم ایک انقلاب آفریں قدم:احمد حسین قاسمی

24

(نمائندہ بھبھوا,کیمور03/فروری 2021ء)
اسلام وہ مذہب ہے جس کی ابتداء لفظ "اقرأ”یعنی پڑھنے کےحکم سے ہوئی یہ اس دین برحق کاخصوصی امتیاز ہے جس کے پیچھے ہزاروں رازپوشیدہ ہیں جس کا واضح اشارہ یہ تھا کہ اس امت کےہاتھوں میں علم وحکمت کی شاہ کلید دیدی جائے تاکہ وہ قیامت تک اس خزانے سے دنیاء انسانیت کومالا مال کرتی رہےاور اسے اپنا فرض منصبی سمجھ کر قیامت تک مطلوبہ کردار اداکرتی رہے مگر ہائے افسوس ابتدائی چند صدیوں کے بعدتعلیم کےحوالےسے یہ امت غفلت کی شکار ہوگئی اور آج نوبت یہاں تک پہونچ آئی کہ تعلیم میں دوسری اقوام کی محتاج ہوکررہ گئی جس کاکام دنیا میں علم کی شمع کوفروزاں کرنا تھا آج خود اس کےدرودیوار پرجہالت کی تاریکی چھائی ہے صد حیف کہ جس کے علم کی روشنی سے کل تک ایک بڑی دنیانےاپنی زندگی کی منزلیں تلاش کی تھیں اور غفلت وجہالت کی ظلمتوں سےنجات پائی تھی آج وہ قومیں اس کی ناخواندگی کی شرح بیان کرتی نظر آرہی ہیں اور اس کے تعلیمی گراف کوبلند کرنے کے مشورے دےرہی ہیں یہ ہمارے لئےآج مقام عبرت ہے۔صدیوں پہلے ہمارے آباء واجداد نے ماضی میں نئی تعلیمی ترقی کی بنیاد ڈالی تھی جس پر موجودہ سائنس وٹکنالوجی کی فلک بوس شاندار عمارت قائم ہے مگر ہم کیسے ناخلف ثابت ہوئے کہ ان کی علمی وراثت کی حفاظت نہ کرسکے اقبال مرحوم نے اسی کا رونارویاہے:
گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی
ثریاسے زمیں پر آسماں نے ہم کودےمارا
چنانچہ ملک وملت کی صورت حال کودیکھتے ہوئےحضرت امیر شریعت مفکراسلام مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے یہ فیصلہ لیاہے کہ چل پھر کر امت کو دینی وعصری ہردو علم کےلئے بیدار کیا جائے اسے تعلیم کے تمام میدانوں میں آگے آنے کی ترغیب دی جائے اور اس جانب ہونے والی غفلت کے خطرناک نتائج سے بھی ہرفرد کوآگاہ کیا جائے اسی غرض سے امارت شرعیہ نے مستقبل پرگہری نگاہ رکھتے ہوئےپیشگی تحفظ کےطور پر نسل نوکےدین وایمان کی حفاظت اور ملک میں باوقارزندگی گذارنے کےلئے تعلیم کواپنامشن بنایا ہے اسی کے ساتھ اپنی زبان وتہذیب کی سلامتی کابیڑابھی اٹھایا ہے اسی پیغام کولےکر امارت شرعیہ آپ کی سرزمین بھبھوا کیمورمیں حاضر ہے کہ ان مقاصد کوزمین پراتارنے کی عملی کوشش کی جائےاور بلاتاخیرترجیحی بنیاد پر ملت کےخواص حضرات ان تین کاموں کےلئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کریں لہذا ہرچھوٹی بڑی آبادی میں مسجد کے تحت دینی مکتب کا خود کفیل نظام قائم کیاجائے جہاں سے ہماربچے دین اسلام کے سانچے میں ڈھل سکیں کم عمری میں ان کے لوح دل پر توحید ورسالت کےپاکیزہ کلمات نقش کردئے جائیں تاکہ وہ ہرقسم کے حالات کا مقابلہ پوری جرأت ایمانی کے ساتھ کر سکیں اس نظام کومستحکم طور پرپھیلانےکےلئے اہل مدارس بھی توجہ دیں اور مسجد کے تمام ذمہ داران بھی۔ خصوصامتولیان وائمہ کرام اس مکتب کےنظام کو مسجدوں میں نماز کی طرح جاری کریں ورنہ بےدینی کے اس سیلاب میں موجودہ اور آنے والی نسل کےایمان کی بقا مشکل نظرآرہی ہے دوسری جانب ہمیں اس ملک میں یہاں کاعزت دار اورباکمال شہری بن کررہناہے اس کےلئےہمیں دوسری جانب عصری تعلیم میں خاصی محنت وتوجہ کی ضرورت ہے امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ آپ حضرات اس کام میں آگےآئیں کم از کم اپنی آبادی کی تعلیمی ضرورت پوری کرنےکےلئے ایک معیاری اسکول قائم کریں آپ کےمال کا بڑاحصہ آج شادی بیاہ کی رسومات وخرافات کی نذر ہورہاہے اگر اسے ہی بچالیاجائےتو ہمارامستقبل محفوظ اور مضبوط ہوسکتا ہے ایک بات یادرکھیں کہ دنیا کے تمام کارخانوں میں سب سے قیمتی کارخانہ سونااور ہیراکانہیں بلکہ مردم گری وانسان سازی کاکارخانہ ہے جس قوم کے یہ کارخانے زیادہ ہوں گے پروڈکٹ بھی اسی کےزیادہ ہوں گےاسی کی تہذیب دنیا میں قانون کادرجہ اختیار کرے گی انہیں کی فکر کےسانچے میں دنیا ڈھلتی چلی جائےگی آپ ذرا سوچیں کہ آپ کی نسل کن کے ہاتھوں میں ہے اگر آپ اسے محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے ادارے ہرحال میں آپ کو قائم کرنے ہوں گے اسی طرح اردو زبان ہماری تہذیب ہے ہمارا سارا دینی سرمایہ اس زبان میں محفوظ ہے اس کی حفاظت ایک طرح دین کی حفاظت ہے اپنے گھروں میں اردو بول چال اس کے لکھنے پڑھنے کوعام کریں بچے بچیوں کو اس کی لازمی تعلیم دیں مذکورہ باتیں امارت شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی نے کہیں پروگرام کےآخر میں پورے ضلع میں اس مہم کوعملی شکل دینےاور ان عظیم مقاصد کو زمین پراتارنے کیلئے باصلاحیت افرادپرمشتمل ایک تعلیمی مشاورتی ضلع کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جوہربلاک میں اس کام کومنظم انداز میں انجام دےگی اگلے ہفتے اس کی مٹنگ کی تاریخ بھی اسی مدرسہ قاسم العلوم ببورا بھبھوامیں طئے کردی گئی ہے شہرسمیت ضلع کے زیادہ تر بلاک کے علماء کرام ودانشوران نے اس اہم خصوصی مشاورتی اجلاس میں حصہ لیا اور امارت شرعیہ کے اس انقلاب آفریں اقدام کی ستائش کی اور تمام حاضرین نے ان خاکوں میں رنگ بھرنے کاعزم ظاہر کیاامارت شرعیہ کےمبلغین مولانا فیروز رحمانی, مولانا وسیم صاحب نےاس اجلاس کو منظم کرنےمیں اپنی خدمات پیش کیں اس کے اہم شرکا میں مولانا رئیس الاحرار مولانا مجاھد الاسلام صاحب الحاج اشتیاق خان صاحب اسلم صاحب اور ہر بلاک سے کم وبیش دس دس درمند علماء ودانشوران کےعلاوہ سینکڑوں خواص حضرات مجلس میں موجود تھے اخیر میں دعاء پر اس مشاورتی اجلاس کااختتام ہوا