لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ دینی تعلیم کا نقصان، مسلمان غفلت کی نیند نہ سوئیں، مفتی رضوان قاسمی.

31

( کوئی بھی تحریک مسلکی مفاد کے کھول میں کامیاب نہیں ہوسکتی ) ڈومریا/ ارریہ ( پریس ریلیز) ضلع ہیڈ کوارٹرز ارریہ کے مغرب میں واقع رانیگنج بلاک کے تحت مشہور و معروف بڑی مسلم آبادی موضع ڈومریا کے مسجد بیت الحمد میں ایک روزہ عظیم الشان مسابقتی اجلاس مرکزی جمیعت علماء سیمانچل کے صدر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ کی صدارت میں منعقد ہوا جبکہ بطور مہمانان خصوصی سیمانچل کے مشہور عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین صاحب ندوی ناظم تعلیمات مدرسہ فیض المنت ڈومریا ، حضرت مولانا محمد عباس صاحب قاسمی سابق ناظم مدرسہ اصلاح المسلمين رانی بستی نیپال ، جناب قاری شہنواز احمد صاحب بانی اسماء پبلک سکول ڈومریا ، جناب مولانا عقیل احمد ندوی چیف ایڈیٹر نوائے ملت ڈاٹ کام شریک ہوئے مسابقتی اجلاس کا آغاز حافظ محمد شاہنواز بن عبدالقدوس سلمہ کی تلاوت اور چاندنی و رحمتی کی حمد ونعت اور حضرت مولانا حافظ و قاری محمد داؤد ندوی امام محترم مسجد بیت الحمد کے تحمیدی کلمات سے ہوا بعدہٰ مسجد بیت الحمد میں زیر تعلیم بچے بچیوں نے بھرپور تیاری کے ساتھ بہترین انداز میں تلاوت ، نعت ، حمد ، تقریر ، مکالمہ پیش کیا مقابلے میں اول دوم سوم پوزیشن لانے والے بچے بچیوں کو خصوصی انعامات کے ساتھ ہی مقابلہ میں شریک تمام بچوں کو مہمانان خصوصی علمائے کرام کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا بعدہْ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین صاحب ندوی نے کہا کہ ہمارے نونہالوں نے جتنا خوبصورت پروگرام پیش کیا مجھے اس کا تصور بھی نہیں تھا اس کیلئے میں اس دینی مکتب کے ذمہ دار اور مسجد بیت الحمد کے امام محترم جناب حافظ و قاری مولانا محمد داؤد ندوی صاحب اور محلے کے تمام ہی لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ماشاءاللہ یہ ایک بہترین قدم ہے اللہ تعالیٰ نے دینی تعلیم کو فرض کیا ہے لیکن دنیاوی علم بھی منع نہیں ہے ہمارے بچے ہر میدان میں محنت کریں اور کامیاب ہوں حضرت مولانا محمد عباس صاحب قاسمی سابق ناظم مدرسہ اصلاح المسلمين رانی بستی نیپال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماشاءاللہ ہمارا گاؤں شروع سے ہی علم کا گہوارہ رہا ہے ڈومریا کی آبادی کافی پھیل گئی ہے یہاں21 / مساجد ہیں تمام مساجد میں اس طرح کے مکاتب کھولنے کی ضرورت ہے آج یہاں مسجد بیت الحمد میں بچوں کے پروگرام نے بے حد متاثر کیا اور خوشی ہوئی اسماء پبلک اسکول ڈومریا کے بانی و مینیجنگ ڈائریکٹر قاری محمد شہنواز صاحب نے کہا کہ مختصر وقت میں مسجد بیت الحمد کے بچوں کی شاندار علمی کارکردگی در اصل ان کے اساتذۃ کی محنت کا اثر ہے اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل و استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ مذہب اسلام نے علم حاصل کرنے پر جتنا زیادہ زور دیا شاید کسی اور مذاہب میں اس کا تصور بھی نہیں ، مذہب اسلام کے پانچ بنیادی فرائض ہیں لیکن قرآن پاک کی سب سے پہلی سورہ علم حاصل کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اسی سے مسلمان علم کی اہمیت کا اندازہ لگائیں اس تاکید کے باوجود اگر کوئی مسلمان بچہ جاہل رہ جائے دین کی بنیادی تعلیم حاصل نہیں کر سکے تو پوری مسلم قوم کیلئے یہ بد قسمتی اور شرمندگی کی بات ہے انہوں نے کہا کہ قابل مبارکباد ہیں مسجد بیت الحمد کے امام محترم جناب حافظ و قاری مولانا محمد داؤد ندوی صاحب جن کی محنتوں اور توجہ خاص سے یہ سب ممکن ہو سکا انہوں نے جاری اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مدارس و مکاتب کا نظام تقریباً ٹھپ ہو جانے کی وجہ کر سب سے زیادہ نقصان دینی تعلیم کا ہوا ہے مسلمان غفلت کی نیند سے بیدار ہوں آنے والے دنوں ميں نہ جانے یہ دنیا کس کس پیچ و خم سے گزرنے والی ہے ایسے میں علماء کرام اور عام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اپنے محلہ کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں کم از کم علوم عصریہ اور درجہ حفظ کے ساتھ بنیادی دینی تعلیم کے مکاتب قائم کریں تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ اس وقت مسلمان روز بروز زوال اور پستی کی طرف جارہے ہیں اس سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ اپنے معاشرے سے بے دینی ، جہالت ، جھوٹ ، نفرت ، عداوت ، فریب ، بغض و حسد کو مٹائیں اور صلہ رحمی ، محبت ، شفقت اور آپسی بھائی چارگی کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ہی اپنے اپنے قرب و جوار کے بھائیوں کی خبر گیری کریں خود غرض ، موقع پرست ، چاپلوسوں اور استحصالی ذہنیت کے لوگوں سے دُور رہیں مفتی قاسمی نے جاری اپنے درد مندانہ خطاب میں کہا کہ اس وقت عمومی مسائل میں مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ مسلکی گروپ بازی یا اپنے اپنے حلقہ بندی کی شکل میں کام کرنا ہے یاد رکھیئے کوئی بھی تحریک مسلکی مفاد کے کھول میں کامیاب نہیں ہوگی آج ضروت ہے کہ ملت کے مفاد میں چلنے والی ہر تحریک مسلکی مفاد سے اوپر اُٹھ کر کلمہ واحد کی بنیاد پر چلائی جائے میدان اور سڑکوں پر سب ایک ساتھ کھڑا نظر آنا چاہئے انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج اپنا مونچ اونچا اور اپنی اَنا باقی رکھنے کیلئے مسلمان کیا کیا کر رہے ہیں جائیئے عدالتوں میں ، محلوں اور گاؤں میں اداروں میں دیکھیئے! آج کیسے آپس میں باہم دست گریباں ہیں اِدھر بھی داڑھی اُدھر بھی داڑھی ، اِدھر بھی ٹوپی اُدھر بھی ٹوپی ، اِدھر بھی نماز اُدھر بھی نماز ، اِدھر بھی مسلمان اُدھر بھی مسلمان درمیان میں کہیں بھی آر ایس ایس ، بی جے پی نہیں ؟ اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے سارا الزام اپنے سے کمزوروں پر یا کسی پارٹی کو فرقہ پرست بتا کر اس پر ڈالدیتے ہیں میں ایسے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں یہ سب نادانی اب بند ہونا چاہئے ہم سے بھی چھوٹی چھوٹی اقلیتیں اور مذہبی اِکائیاں برسوں سے اس ملک میں آباد اور باوقار زندگی جی رہی ہیں ہمیں اب ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے اس موقع پر سخت سردی کے باوجود بڑی تعداد میں سامعین موجود رہے آخر میں صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی کی پرسوز دعا اور جناب مولانا عقیل احمد ندوی چیف ایڈیٹر نوائے ملت ڈاٹ کام کی خوبصورت نظامت میں یہ پر پروگرام ختم ہوا