روٹی کپڑا اور مکان

19

تحریر :خورشید انور ندویخ

سیاسی نعرہے سے معاشی پروجکٹ تک..

کل بجٹ ہے.. جو ہر ایک شہری کے لئے اہم ہوتا ہے.. اس کے لئے بھی جو اس میں کچھ دلچسپی لیتا ہے، اور اس کے لئے بھی جو زندگی گزارتا ہے جیتا نہیں.. آپ کی زندگی کا ہر پہلو اس سے مربوط ہے.. آپ کا معیار زندگی، آپ کی صحت کے وسائل، آپ کے بچوں کی تعلیم اور ان کا معاشی مستقبل.. حتی کہ آپ کے ملک کی سرحدوں کی حفاظت، اور داخلی امن و سلامتی کی ضمانت.. سب کچھ بجٹ سے مربوط ہے.. لیکن عام آدمی، کارپرداز حکومت اور انتظامی مشنری، اور سیاسی قیادت جو ملک کی روپ ریکھا طے کرتے ہیں، سبھی دہائیوں سے حقیقت پسند، اور معروضیت پسند نہیں رہے.. بجٹ اچھا بنانے سے زیادہ اچھا دکھانے کی فکر حاوی رہتی ہے.. اس لئے بجٹ حقائق منعکس کرنے کے بجائے اعدادوشمار اور مصنوعیت کا گورکھ دھندا بن گیا ہے.. دنیا میں کہاں یہ ممکن ہے کہ 25٪ معیشت نیچے آئے(_) اور ایک سال میں 11٪ اوپر (+) ہوجائے.. اگر معیشتیں اس طرح اوپر نیچے ہوں، تو پھر وہ معیشت کے سوا اور کچھ بھی ہوسکتی ہے ، معیشت نہیں ہوسکتی.. جو سورج، چاند اور زمین کی گردش کے باریک اور دقیق حسابی نظام سے بھی زیادہ حسابی اصولوں پر مبنی ہوتی ہے.. ہاں یہ ضرور ہے کہ دھوکہ دینے اور دھوکہ کھانے دونوں کی اپنی تھیوری ہے.. اور دینے والے اور کھانے والے دونوں کے پاس اپنی اپنی حدود جواز ہیں… نئی معیشتوں میں چین اور جنوبی کوریا کی مثالیں دی جاتی ہیں.. مثالیں ٹھیک ہیں لیکن یہ نکتہ مس کردیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہر چیلنچ کو موقع میں تبدیل کیا.. اور بیجا افتخار کا سر نیچا رکھا.. عوام کو سنہری خواب نہیں دکھائے، کڑوے گھونٹ پلائے، اور آسمان تک لے گئے…ساٹھ سال سے ہمارا نعرہ ہے.. روٹی کپڑا اور مکان.. آج تک روٹی گارنٹڈ نہیں.. خوش لباسی عام رجحان نہیں بن سکی.. اور آدھی سے زیادہ آبادی، میٹرو پولیٹن شہروں میں بے گھر ہے.. پھر ہر سال ہر بجٹ میں ہم امیدوں کے آسمان کی نئی بلندی چھولیتے ہیں.. ملک کی معیشت کا سب سے بڑا حصہ دار کسان ہے.. جس کو ہم سڑکوں پر پامال کررہے ہیں.. زراعت ہماری معیشت کا 60٪ حصہ شئیر کرتی ہے.اور ہماری مجموعی قومی پیداوار کا 18٪فیصد حصہ، اسی شعبہ سے آتا ہے . اسی کام میں ہماری 50٪ ورکس فورس استعمال ہوتی ہے، یعنی آدھائی آبادی کی گزر بسر اسی سکٹر کی مرہون ہے، جس کی افراتفری، بدانتظامی، بچولیوں کے بدترین استحصال کی اپنی کہانی ہے.. اور حیرت ہے کہ ستر سال سے ان سنی ہے.. شہر میں جب زرعی محصول پیاز 80 سے 150 روپیہ کلو تک بک جاتی ہے تو اسی زرعی سیزن میں نیمج مدھیہ پردیش اور ناسک مہاراشٹرا میں پیاز 45 پیسہ فی کلو کی بک چکی ہوتی ہے.. آپ اس پر یقین کریں گے؟ آلو جب شہروں میں 40 روپیہ کلو بکتا ہے تو کسان کولڈ اسٹوریج کی فیس 20 روپیہ کلو ادا کرچکا ہوتا ہے اور براہ راست شہر کی منڈی نہیں آسکتا .. کھیت سے دس نئے پیسے کا خریدا گیا آلو پروسیسنگ اور خوشنما پلاسٹک ریپر کا گھونگھٹ اوڑھنے کے بعد 20 روپیہ میں بکتا ہے.. اور ہم آپ خریدتے ہیں.. گنے کو تین تین چار چار دن کریشر کے پاس روک کر گنے کا وزن آدھا کیا جاتا ہے اور لدائی کے چارجز ڈبل سے زیادہ کردیئے جاتے ہیں، اور ادائیگی سیاسی سطح پر کئے گئے فیصلے کے تابع ہوتی ہے..ایک حقیقت کا اضافہ اور فرمالیجئے کہ گنا کریشرز زیادہ تر سیاسی لیڈروں کی نجی ملکیت میں ہیں..ہم کنٹراکٹ ایگریکلچر کی بات کرتے ہیں لیکن فورڈ پروسیسنگ یونٹس میں کسانوں کی شراکت داری کی پالیسی کیوں نہیں بناتے؟ اس کو صنعتکاروں اور بیرونی سرمایہ کاروں کا پسندیدہ بلکہ اجارہ داری کا سکٹر کیوں بناکر رکھا ہوا ہے.؟ اس روٹی کا یہ حال ہے جو ستر سال سے بدمستوں کو سیاسی ایوان میں پہونچا رہی ہے… کپڑا اس سے بھی گیا گزرا ہے..45 ملین (ساڑھے چار کروڑ لوگوں کو روزگار دینے والا شعبہ، 13٪مجموعی صنعتی پیداور کا حصہ دار، جو 2.3٪ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، برآمدات میں جس کی شرکت کوئی 12٪کی ہے جس کے ذریعہ قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے اور جومقامی زرعی پیداوار کا بڑا حصہ بطور خام مال استعمال کرتا ہے اور اپنی مصنوعات کو ویلو ایڈڈ (قیمت اضافی) بناتا ہے، کسمپرسی کا شکار ہے.. بڑی بڑی ملیں کپڑا کو سستا کرنے کے لئے لگائی جاتی ہیں تاکہ پیداوار تیز ہو، زیادہ ہو اور کم لاگت ہو.. لیکن یہاں بڑی بڑی ملوں کے کپڑے بیس بیس ہزار روپئے میٹر کے دستیاب ہیں، ریمنڈ، ڈگجام ،دنیش ،سینچری ٹکسٹایل کے ایک ایک سوٹ کی قیمت متوسط آمدنی والے ملازم کی دو یا تین تنخواہ کے برابر ہے.. دستکاری برباد ہے.. مارکیٹنگ کا میکانزم نہیں.. مودی جی کے اپنے انتخابی حلقے بنارس کے 4000 سے زیادہ ماہر دستکار جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں مہاجر بستی بسا کر رہ گئے ہیں..ایک ارب تیس کروڑ آبادی کا ملک روئی ایکسپورٹ کررہا ہے.. اس کا صاف مطلب ہے کہ کپڑے کی صنعت زوال پذیر ہے اور روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں اور خام مال صنعتوں میں کھپنے کے بجائے، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے، کچا باہر بیچا جارہا ہے، جب کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش، اپنی معیشت کو ٹیکسٹائل کے سہارے ہم سے زیادہ مضبوط کرچکا ہے اور جی ڈی پی 8٪+پر پہونچا چکا ہے..اس سکٹر کے بارے میں حکومتی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اس کی منسٹر شریمتی سمرتی ایرانی ہیں.. جن کے دماغ کی کوئی کل نہیں ہے..، مکان کا حال یہ ہے اربن سب اربن میں (شہری اور نیم شہری) تعمیر شدہ مکانوں کی 60٪ انونٹری پڑی ہے، مکان ہے کوئی لینے والا نہیں ہے.. 42 بلین ڈالر کا راست بیرونی سرمایہ کاری کا فنڈ کھینچنے والا شعبہ، صارف کی قوت خرید نہ ہونے اور بہتر مالیاتی بہاؤ کی کمی کی وجہ سے اپنی پیداوار لوگوں کے ہاتھ تک پہنچانے میں ناکام ہے. بڑے بڑے ساہوکاروں صنعتی گھرانوں کو بڑے بڑے مخدوش قرضے دئے گئے اور 14 لاکھ کروڑ بینکوں کی بیلنس شیٹ سے خارج کردیئے گئے.. مالیاتی اداروں کی این پی اے 13٪ تک پہونچ گئی اور عام لوگوں کو غیر سودی قرضوں کا کوئی آپشن نہیں دیا گیا.. اگر سرکاری ملازمین کی انشورنش پریمیم اور پی ایف کی رقم کو ضمانت تسلیم کرکے غیر سودی قرضے فراہم کردیئے جائیں تو چند ماہ میں رئیل اسٹیٹ انونٹری ختم ہوسکتی ہے اور تعمیراتی شعبے میں ایک جان آسکتی ہے.. یاد رہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں دوسرا سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والا شعبہ یہی ہے….51 ملین (پانچ کروڑ دس لاکھ) افراد کو روزگار دینے والا، مجموعی قومی پیداوار میں 9٪ کی شرکت کرنے والا، اور 45 ملین راست یا بالواسطہ اضافی روزگار پیدا کرنے والا شعبہ، بے اعتنائی کا شکار ہے.. جس پر ہم ابھی تک کمیٹی کمیٹی کا گھٹیا کھیل کھیل رہے ہیں.. اگر تعمیر شدہ مکانات کی نکاسی ہوجائے تو تعمیراتی کمپنیوں کی طرف سے مالیاتی اداروں کے بقایہ جات فوری ادا ہوسکتے ہیں.. مضبوط مالی موقف کی صورت میں آر بی آئی کو شرح سود کم سے کم تر کرنے میں مدد ملے گی اور افراط زر کا اندیشہ نہیں رہے گا…. کمتر شرح سود پر اشیائے صرف اور اشیائے آرائش کی خرید بڑھنے سے درمیانے درجے کی صنعتوں کا فروغ شروع ہوجائے گا..نوٹ بندی کی مار اور جی اس ٹی کے جن نے اس شعبہ کا ستیا ناس کرڈالا.. ڈی ایل ایف، اور جے پی جیسی کمپنیاں آج عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں.. کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک محفوظ طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ پہلے گھر کی خریداری پر رقم کا ذریعہ نہ پوچھا جاتا اور اسٹامپ ڈیوٹی پر 50٪ کی تخفیف کردی جاتی.. گرین ٹربیونل کی دہشت گردی کو لگام لگائی جاتی اور ضرورت کے علاقوں میں استثنائی نرمی کی ہدایت دی جاتی.. جس نے بڑے بڑے پروجکٹوں کو تاخیر کا شکار کیا.. اور ڈیزائن پر من مانی اعتراضات عائد کئے…

چند دلیرانہ فیصلوں کے ذریعے چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر کرنے کی ہمت ہو…..