یہ وطن کبھی ہمیں فراموش نہیں کر سکتا

32

اس کائناتِ آب و گل میں جتنی بھی بڑی سی بڑی شخصیات اپنی ردا کو پھیلایا ، انہیں کچھ نہ کچھ درد والم اور مصائب ومشكلات کا سامنا کرنا پڑا، دشمنوں کی دشمنی اور قاتلوں کی شازشیں انہیں ہر طرح غم و اندوہ میں ڈالے رکھا، لیکن وہ ان تمام تر مصائب و مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی عزت و ناموس کو سدا بہار رکھا ، اور اپنے حوصلے کو بلند وبالا رکھا، اپنے عزائم کو کبھی جھکنے نہیں دیا، چاہے لاکھ دشمن اپنی طاقت وقوت کا مظاہرہ کریں، پھر بھی انہوں نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور اس طرح وہ کامیاب ہو گئے، لیکن زندگی میں کچھ ایسے بھی مواقع رونما ہوئے، جس کی تاب نہ لاکر وہ بے ساختہ یہ اظہار کرنے لگے، کہ جس چمن اور جس گلستان کی آبیاری ہم ہی نے کیا ہے، آج وہ گلستان کے مالی وباغ بان کوئی اور ہیں، جس کی ترقی واستحکام کے لئے ہم نے جیلوں کے سلاخوں اور پھانسی کے پھندوں کو بہ خوشی منظور کیا، اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر میدان کارزار میں کود پڑے، جس کی کامیابی کو اپنی کامیابی تسلیم کیا، لیکن افسوس کہ آج ہمیں ہی اس دیار سے جدا کیا جا رہا ہے، ہماری کوشش کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ہے، ہمارے عزائم کو سرد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ہماری پاسبانی اور نگہبانی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جب ان تمام باتوں پر غور وفکر کریں تو پتا چلے گا، کہ واقعی ہمارے ساتھ نا انصافی و بد سلوکی و ظلم وزیادتی اور نارواسلوک کیا گیا ہے، اسی چیز کو بہادر شاہ ظفر نے اپنے اشعار میں پیش کیا ہے، کہ” *لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں* "اور پورے ملک عزیز کے باشندوں کو یہ دکھ درد کی کہانی بتا گئے ہیں، کہ جس وطن عزیز میں کبھی ہمارے اسلاف کی طوطی بولا کرتی تھی، جس نے انگریزوں کی سزائیں برداشت کر کر وطن عزیز پر اپنی جان ومال کو قربان کر دیا، آج وہی وطن ہمیں گھر واپسی اور دیش دوروہی، اور غدار وطن کہنے میں عار بھی محسوس نہیں کرتے، اور کالا پانی کی سزائیں کھا کھا کر وطن عزیز سے غداری کا لبادہ اپنے سر ہونے نہیں دیا، پھر بھی ہمیں غلط نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ” *سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا”* پڑھنے والا کوئی اور نہیں تھا، بلکہ قوم اور ملک عزیز کے نہایت ہی عظیم سپہ سالار ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہی تھے، اور اسی طرح جیل کے اندر چکی پیسنے والے کوئی اور نہیں تھے بلکہ ایک عظیم شہسوار بہادر شاہ ظفر ہی تھے، اور وطن عزیز کی پاسداری کرنے والا وہ مرد مجاہد مولانا ابو الکلام آزاد ہی تھے جنہوں نے دیش کی پوزیشن کو کبھی برباد ہونے نہیں دیا، اور پورے ملک ہندوستان کو دنیا میں متعارف کرانے والا کوئی اور نہیں تھا، بلکہ وہ اے پی جی عبدالکلام ہی تھے، اور ان کے علاوہ بھی بہت سارے سپہ سالار ملک ہیں، جنہوں نے اس وطن کی مٹی کو زرخیز بنانے میں اپنا تن من دھن سارا کچھ قربان کر دئے تھے، جن کو دیش کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا ہے، تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھئے تو پتا چلے گا، کہ وطن عزیز کی سلامتی وتحفظ میں سب سے زیادہ قربانیاں کس نے پیش کی ہیں، تو یہ عیاں وبیاں ہو جائے گا، کہ وہ کسی اور کا خون نہیں تھا، بلکہ اس ملک کے باعزت مسلمان شہری ہی کا خون تھا، جس سے پورے ملک رنگین تھا،
لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے، کہ ہم اور آپ اپنے بچوں کو تاریخ سے روشناس کرائیں، انہیں ہمارے اسلاف کی قربانیوں کے بارے میں بتائیں، تاکہ یہ بات پورے ملک میں آشکار ہو جائے، کہ وطن عزیز آپسی محبت واخوت کا خوگر بنا چاہتا ہے، انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے، کہ وطن عزیز میں ہر طرح کے لوگ اپنی آزاد زندگی گزار سکتے ہیں، اور ہر کسی کو بولنے اور اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے، کیونکہ ہمارا ملک جمہوری نظام پر قائم و دائم ہے،

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرما آمین ثم آمین یا رب العالمین.