جنگ آزادی اور مسلم مجاہدین

12

روزنامہ نوائےملت{سیدہ تبسم منظور ناڈکر ممبئی}
ہم ہندوستانی اس سال 73/واں جشن آزادی منائیں گے. حسبِ روایت 15 اگست کی صبح لال قلعے پر ترنگا لہرایا جائے گا. ایک بار پھر آزاد فضاؤں میں سانس لینے کے فخریہ احساس سے ہر ہندوستانی کا دل خوشی سے جھوم اٹھے گا. سیاسی ، سماجی تنظیمیں اہتمام کے ساتھ جلسے منعقد کریں گی . اسکولوں ، کالجوں میں خصوصی پروگرام ہوں گے . شہیدوں کی بہادری کی داستانیں بیان کی جائیں گی…. لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے ہی مسلمانوں کو آزادی کے لیے دی گئیں قربانیوں کے عوض زمین کا ٹکرا دے کر ان شہدا اور قوم مسلم کے حقوق کی مکمل ادائیگی سمجھا جاتا رہا ہے!

اور اسی متعصب فکر ہی کی بدولت ہر معاملے میں مسلمانوں سے اجتناب برتا جاتا ہے. یوم آزادی کے اس موقع پر بھی عظیم مسلم مجاہدین آزادی کو سراسر نظر انداز کیا جاتا ہے جوجنگ آزادی میں اپنے ہم وطن بھائیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے. مسلم مجاہدین آزادی جنگ آزادی میں معاون ہی نہیں بلکہ جنگ آزادی کا اصل محرک تھے . جنہوں نے حصول آزادی کے لئے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں. لیکن انکی جدوجہد آزادی کو فراموش کیا جارہا ہے انکے دلیرانہ کارناموں اور شجاعت کی داستانوں کو دہرانا ضروری نہیں سمجھا جارہا ہے.! حالانکہ نئی نسل کو ان سے واقف کروانا بے حد ضروری ہے. انہیں حقائق سے باخبر کرنا اور احساس کمتری سے بچانا ضروری ہے اور یقیناً ہم ایسا کرکے ہمارے ملک کی یکجہتی کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں. جو کچھ سیاسی مفاد پرستوں اور فتنہ پروروں کی جانب سے کھوکھلی کی جارہی ہے. حقیقت یہ ہے کہ مسلمان محب وطن تھا ، ہے اور رہے گا. غدار وطن کے خطاب سے نوازنے والوں کو ایک بار ان شہیدوں کی سوانح حیات پڑھنی چاہئے یا پڑھانی چاہئےجو کالا پانی کی کال کوٹھڑیوں میں رقم کی گئی. جہاں انہیں دی گئی اذیتوں کے نشاں اب بھی باقی ہیں. جن کی جوانیاں خون میں نہائی گئیں . انگریزوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے صبح آزادی کا خواب دیکھتے رہے. حقیقت پسند ، سیکولرزم کے علمبردار دوسرے مذاہب سےتعلق رکھنے والے بھائی تاریخ کے ان اوراق سے واقف ہیں مگر وہ بھی اسکا اظہار نہیں کرتے!

1857 کے غدر سے کئی سال قبل ہی دو مسلم نوابوں نے انگریزوں کے خلاف عملاً جنگِ آزادی کا اعلان کر دیا تھا. بنگال میں نواب سراج الدولہ اور میسور میں حضرت ٹیپو سلطان شہید… دونوں ہی انگریزوں کے ناپاک ارادوں کو بھانپ چکے تھے اور ہندوستان پر حکومت کرنے کے انکے خواب کوکبھی پورا نہ کرنے کا عہد کر چکے تھے. لیکن سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کے سبب پلاسی کی جنگ میں شکست فاش ہوگئی اور وہ شہید کردئیے گئے. بنگال میں انگریزوں نے قدم جمالئے. پھر شیر میسور ٹیپو سلطان کے ساتھ بھی غداری کا کھیل کھیلا گیا اور اس محب وطن کو بھی شہید کردیا گیا. جسکی بہادری سے انگریز بھی خوفزدہ تھے . انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ” جب تک ٹیپو زندہ ہے ، وہ میسور پرحکمرانی کا خواب دیکھنے کی بھی جراءت نہیں کرسکتے .” ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ ان دو عظیم جانبازوں کی قربانیوں اور جام شہادت پینے کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر جن کی قیادت میں 1857 کی پہلی جنگ آزادی لڑی گئی. بغاوت کے اس طوفان نے انگریزوں کو بھی بوکھلا کر رکھ دیا تھا. ہزاروں جیالوں کا جوش اور ولولہ ، وطن کے لئے جان دینے کا جذبہ ، حصول آزادی کا جنون دیکھکر انگریزوں کے ہوش اڑ گئے تھے. انہوں نے پوری طاقت سے اس جنگ کو ناکام کردیا . ہندوستانی سپاہیوں کی نعشوں کے ڈھیر لگ گئے. انگریزوں نے ظلم وستم کی انتہا کردی. شہنشاہ کو قید کرکے رنگون بھیج دیا اور لال قلعے پر انگریزی پرچم لہرا دیا. مغلیہ دور کے اس آخری چشم وچراغ کی جلاوطنی ، انکے شہزادوں کا سفاکانہ قتل، محل میں شہزادیوں کی بےپردگی اور بےبسی کا عالم….. دیار غیر میں مغل حکمران نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں. اور اپنی آخری خواہش جو حسرت بن گئی اس شعر میں بیان کی جو انکی بےبسی کا حال سناتا ہے کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں اسی قید میں انکی وفات ہوگئی اور انہیں رنگون میں دفن کردیا گیا. وطن کی خاک بھی انہیں نصیب نہ ہوئی… لکھنئو کے نواب واجد علی شاہ کی رنگین مزاجی کا چرچا تو کیا جاتا ہے لیکن انکی وطن پرستی اور جذبہ ایثار کو اجاگر نہیں کیا جاتا! بھوپال کی بیگم حضرت محل نے پردے میں رہ کر جنگِ آزادی میں نمایاں رول ادا کیا. لیکن نواب واجد علی شاہ اور بیگم حضرت محل کے نام فراموش کردئیے گئے ! 1857 کی پہلی جنگ آزادی تو ناکام ہوگئی مگر ہندوستانیوں کے دلوں میں آزادی کی لگن کو اور شدید کردیا. انکے عزائم اور پختہ ہوگئے. مسلمان اپنی سرفروشی کا ثبوت دیتے رہے. بے شمار علماء نے برطانوی حکومت کے خلاف آواز بلند کی. حضرت مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی ، علامہ فضل حق خیرآبادی ، مولانا احمد شاہ مدراسی ،علامہ فضل رسول بدایونی، مولانا فیض احمد بدایونی ، مولانا کفایت علی کافی مراد آبادی….. اور نہ جانے کتنے علماء جن کی حب الوطنی و قربانی کو فراموش کردیا گیا.! تحریک ریشمی رومال کا کہیں ذکر نہیں ہوتا! حالانکہ ان پر جو ظلم ڈھائے گئے وہ تاریخ کا ایک خونین باب ہے. ان پر مقدمے دائر کئے گئے ، جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ، کالے پانی کی سزا دی گئی ، توپوں کے دہانے سے باندھا گیا. پھانسی دے کر انکی نعشوں کو بازاروں میں لٹکایا گیا…… لیکن آزادی کے متوالے اپنے محاذ پر ڈٹے رہے . مسلمان ثابت قدم رہے اور وطن کے لئے قربانیاں دیتے رہے. مسلم مجاہدین آزادی کے لاتعداد ناموں میں سرفہرست مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی رہے. انکی والدہ محترمہ بی اماں صاحبہ کی بے مثال قربانی اور حب الوطنی کا ذکر کرنا کیا ضروری نہیں؟ جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کی ایسی تربیت کی کہ انہوں نے خود کو وطن کے لئے وقف کردیا. مولانا شبلی کی خدمات بھی معمولی نہیں…. سرسید احمد خاں کی جدوجہد آزادی ، مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کو اجاگر کرنے کی انتھک کاوشیں. نامساعد حالات کے باوجود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام….. مولانا ابوالکلام آزاد کی خطابت ، فصاحت اور بلاغت کو کچھ حد تک یاد رکھا گیا ہے. گاہے گاہے انکی خدمات کا اعتراف کیاجاتا ہے لیکن اس سرسری ذکر سے انکی پوری زندگی کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا حکیم اجمل خاں ، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری ، منشی ذکاءاللہ کے بے مثال کارناموں کی بدولت ہی ہم آج آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں. آزادی کے اس گلستاں کو مہکانے کے لئے جن قائدین نے تن من دھن نچھاور کیا آج اس گلستاں پر بہار آئی تو انہیں ہی فراموش کردیا گیا..! اس کی ایک مثال یہی لیجیے کہ جدوجہد آزادی میں جن عظیم رہنماؤں کا اہم رول رہا ان میں بدرالدین طیب جی جو بیرسٹر تھے سماجی مصلح کی حیثیت سے ہندوستانی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں. لیکن انکے نام سے بھی نئی نسل واقف نہیں. ! کیا یہ ہماری علمی بدبختی نہیں ؟ ہماری جنگ آزادی میں جہاں علماء فضلا سیاست دان طلبہ سبھی فعال رہے وہیں ہمارے عظیم ادباء و شعراء نے بھی اپنے قلم کو ہتھیار بنایا اور جنگِ آزادی میں نئی روح پھونکی. ڈپٹی نذیر احمد ، میرامن دہلوی ، سیفی نعمانی ، مولانا حالی، علامہ اقبال ، انعام اللہ خان یقین ، مرزا غالب ، منیر شکوہ آبادی ، محمد حسین آزاد ، جگر مراد آبادی ، حسرت موہانی ، اشفاق اللہ خان ، جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، مخدوم……. غرض ادباءاور شعراء کی بے مثال ادبی خدمات لائق ستائش ہیں. جن کی تحریروں نے ہندوستانیوں کے دلوں میں آزادی کی جوت جگائی ، ان کے انقلابی ترانوں نے وطن کے بچے بچے کے دل میں چھپے حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کیا. یہ بھی مجاہدین آذادی ہی ہیں جنہوں نے اپنے طریقے سے جنگ آزادی میں حصہ لیا …ان مجاہدوں کو آج قوم جانتی ہے نہ پیچانتی ہے.! ستم ظریفی تو یہ ہے کہ غیر تو غیر ہیں لیکن اپنوں نے بھی انہیں نظر انداز کیا ہے .! . انکی ادبی اور شعری خدمات پر بڑے بڑے مقالے رقم کئے گئے اور جامعات سے اعلی ڈگریاں حاصل کی گئیں مگر عام آدمی. اور نئی نسل تک انکی رسائی نہ ہوپائی.! کیا یہ عام ہم وطنوں تک اپنی ناقابل فراموش خدمات کی رسائی کے حقدار نہیں؟ ہندوستان کے چپے چپے سے آزادی کی لاتعداد داستانیں سنی جا سکتی ہیں لکھی جا سکتی ہیں! جہاں شمالی ہند مرکز حکومت رہا ہے وہیں جنوبی ہند میں اعلان آزادی کے بعد بھی طویل مدتی جد و جہد رہی…ٹیپو سلطان شہید سے ایثار و قربانی کی یہ داستان کتنے ہی مسلم مجاہدین آزادی کے خون سے رنگین ہے حیدر آباد میں مبارز الدولہ جنگ آزادی کے ایک نہایت ممتاز جاں باز تھے، جنہیں انگریزوں نے قید کردیا اور وہ حراست میں ہی وفات پا گئے جہاں گیر خاں، امیر خاں، رشید الدین خاں اقتدار الملک، عظمت جنگ، لشکر جنگ، محمد چاند، محمد یار خاں اور حکیم ابراہیم خاں جیسی شخصیات بھی قابل ذکر ہیں، مولوی علاؤ الدین کے علم و تقوی کا ساری ریاست میں شہرہ تھا، وہ غازی کی طرح جینا اور شہید کی طرح مرنا چاہتے تھے ان کی قیادت میں ہوئے ریزیڈینسی پر ہوئے حملے کی خونی کہانی ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ہے ان کے ساتھ اس حملے میں شامل طرہ باز خاں حیدر آباد کے ایک متمول اور صاحب ثروت و اقتدار پٹھان جمعدار تھے. بڑے نڈر اور جاں باز انسان تھے، انگریز ان سے بڑے خائف تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے بڑے انعامات رکھے گئے تھے! ان کی طویل جد و جہد کی خوں چکاں داستان کا انجام بھی لرزہ خیز ہے غداروں کی وجہ سے وہ گولی کا نشانہ بنے اور ان کی نعش کو بازار میں لٹکایا گیا تاکہ دوسرے باغیوں کو دھمکایا جائے اور وہ بغاوت کی جرات نہ کرسکیں! ان تمام مجاہدوں نے وطن کی آزادی کی خاطر اپنی جانیں گنوائیں اور ایسے کئی مسلم مجاہدین ہیں جن کے کارناموں کو مورخین درج نہ کرسکے اور وہ گمنام ہوگئے.. لیکن وہ بھی مادر ہند پہ مر مٹنے کے جذبے سے سرشار تھے اور انہوں نے وطن کے لئے اپنی جانیں نچھاور کردیں. ان ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کا اعتراف نہ کرکے جشن آزادی کے موقع پر چند گنے چنے قائدین کا نام ہی بڑھ چڑھ کر لیا جاتا ہے اور یہ ہم مسلمانوں ہی کی لاعلمی لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے ہم ایک شاندار ماضی رکھتے ہیں پھر بے ننگ و نام ہوتے جارہے ہیں! ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں سے ہم دنیا کو روشناس کرائیں، گھروں، اسکولوں اور کالجوں میں بچوں اور نوجوانوں کو تاریخ کے سیاہ باب میں درج ان سنہرے ناموں سے آگاہ کرائیں.. ان جاں نثار سپاہیوں پر پر ہماری قوم کو فخر کرنا چاہیے ان کی جاں نثاری، حب الوطنی، جد و جہد اور قربانی کو سراہتے ہوئے دنیا کو دکھانا چاہیے کہ آزادی کی اس فصل کو ہم نے بھی اپنے لہو سے سینچا ہے. تمام محبان وطن اور سیکولر ازم کے علمبرداروں کا یہ فرض ہے کہ ان شہیدوں کی قربانیوں سے آج کے بچے بچے کو واقف کرائیں، ٹی وی ریڈیو پر جہاں دوسرے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے وہیں سراج الدولہ، ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر، بیگم حضرت محل، واجد علی شاہ وغیرہ کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے انہیں بھی اسی طرح یاد کیا جانا چاہیے اخبارات و رسائل میں ان کی سرفروشی کی داستانیں تفصیل سے شائع ہونی چاہیے تاکہ ہماری نسل اپنے عظیم ورثے پر فخر محسوس کرے اور دنیا میں جہاں بھی جائے سر اٹھا کر اپنے مجاہدوں کے بارے میں بات کر سکے. آج دانستہ نادانستہ ہمارا ملک دوسرے ممالک میں ہماری مثالی قومی و فرقہ وارانہ یکجہتی کے بجائے فرقہ واریت اور تعصب کی وجہ سے بدنام ہورہا ہے. اس بدنامی کو نیک نامی میں بدلنے کے لئے ملک اور قوم کے ہر شہری کو ہر بچے بڑے کو مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کا احساس دلانا ضروری ہے. انہی کے ایثار، عزم، حوصلے، بہادری جاں نثاری، اور صبر و تحمل کا یہ صلہ ہے کہ ہم آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں، ترقی کے نئے آسمان چھورہے ہیں ملک کی آن بان شان انہی مجاہدین آزادی کی مرہون منت ہے جنہیں فراموش کرنا یقیناً احسان فراموشی اور خود غرضی ہے *رخسانہ نازنین* *بیدر* *کرناٹک*