ملک ہندو راشٹریہ کے دہانے پر

20

یومِ آزادی کے موقع پر اھل وطن اھتمام سے آزادی کا جشن مناتے ھیں ترنگا لہراتے ہیں ترنگا والے کپڑے کو گلے میں لگا کر ترنگا کی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں،مگر اس بار بہت سے بھکت بشمول وزیراعظم کے بگھوا پگڑی اور بھگوا گمچھا زیب تن کئے ھوئے تھے ، مسلمانوں اب بھی خواب غفلت میں محو رھوگے اور وفاداری کا ثبوت دیتے رھوگے ، وزیراعظم کا جشن آزادی میں بھگوا پگڑی گمچھا پہننا اس کا علی الاعلان چیلنچ ھے اب دیش ھندو راشٹر بننے کیلئے تیار ھے ، میں خود کلکتہ میں بھی لوگوں کو اسی لباس میں دیکھا ، مگر کوئی حراست میں نہیں ، اب وہ دن دور نہیں جب ھمارا دیش میں رھنا مشکل ھوجائےگا ، آھستہ آھستہ ھماری تہذیب کو حکومت ھند ختم کر رھی ھے، نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے تحت اردو عربی کو ھٹا دیا گیا اسپر کوئی احتجاج کرنے والا نہیں ، اگر تم حق کی آواز بلند نہیں کروگے تو آئندہ نسلیں گونگی ھوجائے گی ، ان تمام حالات کیلئے ھمارے قائدین بھی ذمہ دار ھیں ، قوم کی آخرت سنوارنے میں قوم کا جتنا پیسہ خرچ کیا گیا ہے اگر اسکا 25 فیصد قوم کی حفاظت اور دنیا سنوارنے میں بھی خرچ کیا ہوتا تو آج آخرت داؤ پر نہ لگتی نہ ہر روز ایک سیاہ دن منانا پڑتا
آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ آج اس نازک صورت حال میں مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے
اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سو فیصدتہجد گزار بنادیا جائے لیکن ا س کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے تو ممکن ہے اس ملک میں آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے