مولانامتین الحق اسامہ قاسمی مختصر حیات وخدمات انوارالحق قاسمی

15

مولانامتین الحق اسامہ قاسمی مختصر حیات وخدمات
انوارالحق قاسمی
جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کے بانی،جمعیت علماء اترپردیش کےصدر،کل ہند اسلامک اکیڈمی کے مؤسس وصدر،حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے بانی،مجلس تحفظ ختم نبوت/کانپور کے صدر،جامع مسجد اشرف آباد کےامام،قاضی شہر/کانپور ،حضرت مولانا مبین الحق صاحب قاسمی -نوراللہ مرقدہ -کےپسر،جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت سید مولانا محمود مدنی صاحب-حفظہ اللہ-کےدست وبازو،جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کےزیر انتظام چلنے والے بیسیوں مکاتب و مدارس اور دیگر متعدد دینی وملی اور سیاسی ورفاہی تنظیموں کے سرپرست،ملکی سطح پر مقبول ومعروف اور ہر دل عزیز قائد ،بے مثال خطیب ،جن کاخطاب دقیق وعمیق مشاہدے ومطالعے اور فہم و فراست کامنہ بولتاثبوت حضرت مولانا متین الحق اسامہ صاحب قاسمی کروناجیسی وبائی اور مہلک بیماری سے متاثر ہوکر 18/جولائی 2020ء کو رات ڈھائی/ بجے 53/سال کی عمر قلیل میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے :اناللہ واناالیہ راجعون ۔
تقریبا چار سال قبل جمعیت علماء ہند کا ایک عظیم الشان جلسہ "قومی یکجہتی کانفرنس” کے عنوان پر سرزمین دیوبند میں منعقد ہوا،جس میں حضرت مولانا متین الحق اسامہ صاحب قاسمی کازبرست خطاب ہوا،موصوف اپنے جوشیلےبیان کے ذریعہ عوام کے ذہن ودماغ میں بس گئے اور سامعین کےدلوں کوجیت لیا،احقر بھی حضرت کےولولہ انگیز بیان سے بہت ہی متاثر ہوا،اسی جلسہ میں حضرت سے شناسائی ہوئی اور اسی موقع سے پہلی دفعہ حضرت کو قریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔
تین سال قبل رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم/دیوبند کاسہ روزہ جلسہ منعقد ہوا،جس میں حضرت مولانا متین الحق اسامہ صاحب قاسمی شریک ہوئے تھے،حضرت کے قیام کانظم مہمان خانہ میں تھا،حسن اتفاق یہ کہ اس رابطہ میں ملک نیپال کی ایک عظیم ہستی اور ہردل عزیز عالم دین ،جمعیت علماء نیپال کےصدر حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز صاحب صدیقی-دامت برکاتہم العالیہ -شریک ہوئے تھے اور ان کے بھی قیام کانظم مہمان خانہ ہی میں تھا،ناچیز حضرت کی خدمت کے واسطے اکثر اوقات مہمان خانہ ہی میں رہتاتھا۔
ایک روز صبح حضرت مولانا متین الحق اسامہ صاحب قاسمی مہمان خانہ کےصحن میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئےتھے،اور چند خدام آگے پیچھے تھے کہ اسی درمیان احقر کو حضرت سے علیک سلیک کاموقع ملا،یہ معمولی وقفہ کی ملاقات میرے لیےبڑی سعادت اور نیک بختی کی بات ہے ۔
یقینا اس عظیم ہستی کےایسے ناگفتہ بہ حالات میں ،جب کہ ان کی قیادت وسیادت کی قوم وملت کوپہلے سےمستزاد ضرورت تھی ،اس دارفانی سے داربقا کی طرف رحلت فرماجانے کی وجہ سے عموما پورے ہندونیپال اور خصوصاً شہر کانپور اور جمعیت علماء ہند کا ایک ناقابل تلافی اور زبردست نقصان ہواہے۔
حضرت مولانا نے اپنی ایک تقریر میں عوام کو یہ اہم پیغام دیتے ہوئے کہا:کہ جب آپ حضرات یہ دل گردہ پیداکرلیں گے کہ دنیا”گالی "بک رہی ہوگی اور آپ” دعا”دے رہے ہوں گے ،تو خداکی قسم پھر کوئی قوم نہ آپ کو مٹاسکتی ہے اور نہ ہی پست کرسکتی ہے ۔
ایک دوسرے بیان میں حضرت نے یہ اہم بات کہی ہے :کہ جولوگ بھی ملک کے اندر نفرت پیداکرناچاہتے ہیں ،وہ اپنے گمان میں کسی طبقہ کےخلاف ہو ،مگر ہمارے اورجمعیت علماء کےنزدیک وہ اصل میں ملک کے خلاف ہے ،اگر کوئی ایک مکان جلایاگیا،توآپ نےسوچا کہ ہم نے فلاں کامکان جلایاہے ؛مگر جمعیت علماء نے سوچا کہ آپ نے ہندوستان کامکان جلایااور آپ کے اس عمل سے اولا ملک کانقصان ہواہے ،بعد میں کسی فرد کا۔
نامور عالم دین ،باکمال خطیب ،نایاب قلم کار حضرت مولانا مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی -دامت برکاتہم العالیہ-حضرت مولانا متین الحق اسامہ قاسمی کی تاریخ ولادت ،تعلیم وتعلم اور ان کی نمایاں کارکردگی کےسلسلے لکھتے ہیں :کہ مولانامتین الحق اسامہ قاسمی 7/مئی 1967ٔء کو اترپردیش کے’فتح پور”میں اپنی آنکھیں کھولیں ،مکتب کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی،اس وقت حضرت کےوالد محترم: حضرت مولانا مبین الحق صاحب قاسمی -نوراللہ مرقدہ -جامع العلوم پٹکاپور کانپور میں ناظم تعلیمات اور شیخ الحدیث تھے،قائم مقام صدر مدرس کےفرائض بھی انہیں سے متعلق تھے ، اس لیے مولانااسامہ قاسمی کانپور چلے گئے ،اور وہاں گھر پر ہی آدھاپارہ حفظ کیا،اس کے بعد جامع العلوم پٹکاپور میں آگے کی تعلیم کےلیے داخل ہوگئے ،پورے پانچ سال وہ یہاں درس نظامی کی کتابیں معروف ومشہور اساتذہ کرام سے پڑھتےرہےاور یہیں سے ان کاعلمی ذوق پروان چڑھا۔
ابتدائی تعلیم کےحصول کےبعد مرحوم اعلی تعلیم کےحصول کےلیے عالمی اورمرکزی ادارہ دارالعلوم/دیوبند کارخ کیااور مختلف سالوں میں تعلیمی مراحل طےکرتےہوئے 1989ء میں دارالعلوم/دیوبند سے سند فضیلت حاصل کرکے والدمحترم کی مرضی کےمطابق کانپور چلے آئے اور مختلف مدرسوں میں تدریس کےفرائض انجام دیتے رہے ،والد صاحب کی علالت کےبعد جامع مسجد اشرف آباد کےامام مقرر ہوئے،سترہ سال قبل جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کےقیام کےبعد سے بطور ناظم خدمات انجام دیتے رہے ،انتہائی جانفشانی سے اس ادارہ کوپروان چڑھایا،آج اس کی مختلف علاقوں میں 53/شاخیں کام کررہی ہیں۔
28/جنوری 2016ء کوقاضی شہر مفتی منظور احمد صاحب مظاہری نےانہیں اپناقائم مقام جانشیں بنایا،اور 4/اکتوبر 2016ء کوجمعیت علماء اترپردیش کےصدر منتخب ہوئےاور جمعیت علماء کےمحکمہ شرعیہ کانپور کےبھی صدر تھے۔
حضرت مولانا بےانتہابلند اخلاق کےحامل انسان تھے ،اور ہرایک سے بڑی ہی محبت سے پیش آیاکرتےتھے،کہ ہرملنے والایہی سمجھتاتھاکہ مولانا سب سےزیادہ مجھ سے ہی محبت کرتےہیں ۔
مولانا کی خوش اخلاقی کی وجہ سے بہت بڑاعلاقہ اور اگر یوں کہاجائے کہ پوراہندوستان ان کی اس صفت کی وجہ سے بےپناہ محبت کرتاتھا ،تواس میں ایک حرف بھی مبالغہ نہیں ہوگا۔
یقینا حضرت مرحوم حضرت مولانا سید محمود مدنی کی جمعیت کےروح رواں تھے ،جمعیت کو پورے ملک کے اندر فعال ومتحرک رکھنے میں ان کابہت بڑاکردار رہاہے،حضرت جمعیت کے بہت اہم جز تھے۔
تعلیمی ،معاشرتی اور معاملات کے میدان مولانا نےبہت زبردست کام کیاہے۔
بہت کم عمری میں اللہ تعالی نے مولانا کوقبولیت ومقبولیت کی صفات سے آراستہ فرمایاتھا۔
کانپور جو علماء کرام کامرکزرہاہےاور وہاں علماء کی بڑی تعدادبھی ہے،باوجود اس کہ حضرت نے بہت ہی کم وقت اور تھوڑے عرصہ میں کانپور شہر میں اپناایک بلند مقام بنالیاتھااور شہر کے عوام مولاناسے بے انتہا مانوس تھے۔
اللہ تعالی نے مرحوم کو ایک بڑی صفت یہ دی تھی کہ وہ کسی سے متاثر نہیں ہواکرتے تھےاور بڑی بےباکانہ انداز میں اپنی بات کہاکرتےتھے۔
واضح رہے کہ مولانا حکومت سے بھی متاثر نہیں ہواکرتےتھے ،اپنی بات قوت کے ساتھ ببانگ دھل کہنے کی صلاحیت رکھتےتھے۔
مولانا جس تعلیمی مشن کو لےکر چلے تھے ،وہ بہت اعلی پیمانہ کاان کامشن تھا،انہوں نےتعلیمی اعتبار سے کانپور میں بڑی محنت اور جدوجہد کی ہے ،چنانچہ دینی ادارےکےساتھ ساتھ عصری ادارہ بھی قائم کیا اور انہیں پروان چڑاھایااور بہت آگے تک لےکرگئے۔
حضرت مولانا خالدغازی پوری ندوی اپنے تعزیتی بیان میں حضرت مرحوم کی مختصر خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:کہ مرحوم بڑے اچھے عالم تھے ،بڑےاچھے واعظ ومقرر تھےاور سب پر غالب ان کامنتظم ہوناتھا،انتظامی امور میں انہیں بڑادرک حاصل تھا،بڑےگھرانے کےایک فرد تھے ،والد بھی عالم تھے اور ان کے خسر مولانانفیس اکبر صاحب ،جنہوں نے پوری زندگی حضرت قاری صدیق -علیہ الرحمہ-کےزیر سایہ گذاردی ،وہاں شیخ الحدیث تھے،ان کی دختر نیک اختر آپ کی زوجہ تھی ،آج وہ ہم میں نہیں ہیں ،لیکن ان کی ساری سرگرمیاں سامنے ہیں ،جمعیت علماء کے پلیٹ فارم سے انہوں نے ملک وملت کی بڑی خدمات انجام دی ،پیام انسانیت کےپلیٹ فارم سے انہوں نےدلوں کوجوڑنے کاکام انجام دیا۔
وہ ایک بڑے ادارہ کےبانی ،منتظم اورمؤسس تھے اور عوام سے ان کابڑاتعلق تھا ،لوگ ان کے گرویدہ تھے ۔
ایسا ہنستا ہوا مسکراتا ہوا چہرہ ،گورا رنگ، کتابی چہرہ،دوہرا بدن ،ہر طرف سے مکمل نظر آتے تھے ،علم کا رسوخ ان کی پیشانی پر نمایاں تھا ،صلاح و تقوی کاوہ مظہرتھے، لیکن وہ آج ہمارے درمیان نہیں رہے ۔
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند فرمائے،پس ماندہ گان کوصبرجمیل عطافرمائے اور امت کوان کانعم البدل عطافرمائے ۔