میری آزادی کا دن..میں ہندوستان ہوں!

29

میری آزادی کا دن….میں ہندوستان ہوں!
امن شانتی بھائی چارہ کا دیش..
ندی نالے، دریا پہاڑ، مرغزار اور رہگزار، سبھی ملکوں میں ہوتے ہیں لیکن.. بھانت بھانت بھاشائیں، ان میں لکھی مدھر کتھائیں.. ہر دیش کا بھاگیہ نہیں..
خدا، ایشور، پر آتما، سب ایک، نام چاہے انیک ہوں ،، اس کے پوجن پاٹھ، اس کی وندنا اور اس کی عبادت کے جتنے طریقے، سارے سنسار میں ہیں، سب مجھ میں ہیں…

میرا سینہ بڑا ہے، میرا من اتھاہ ہے، میری دھرتی انسانوں کے لئے أمرت اگلتی ہے اور دھرتی کا وش (زہر) اوتار پی جاتے ہیں.. تاکہ پھر زہر اس دھرتی پر نہ رہ جائے.. اور اس پر بسنے والے کبھی ڈر اور بھئے کا شکار نہ ہوں.. میری بانہیں ایسی کھلی ہیں، کہ جو آیا وہ سمایا..

آنے والا تین سو سال پہلے کا ہو، یا ہزار سال پہلے کا، یا چار ہزار سال پہلے کا..، سب کو چھتر چھایا دی.. سارے کال اور یگ گزارے لیکن مانوتا کو سہج سہج کر رکھا..
میں بھی اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا ہوں،، چراغاں کرنا چاہتا ہوں، ڈھول کی تھاپ پر بالکاؤں کی تھرک اور بانکے جوشیلے جوانوں کا سر مست رقص جنوں دیکھنا چاہتا ہوں… لیکن میرے اپنے سپوتوں نے مجھے اس اتسو کا اوسر نہ دینے کی ٹھان رکھی ہے…

میں سارے سنسار میں اہنسا اور کوملتا کا پرتیک تھا،،یہی کچھ میری پہچان تھی، اسی پر مجھ کو گرو تھا..

اب میں ویسا نہیں ہوں.. میری دھرتی میرے ہی لالوں کے گلال خون سے لت پت ہے… ہر طرف ہنسا ہی ہنسا ہے.. میرے لئے کسی کا آنا اتنا اہم نہیں تھا، تو کسی کا جانا بھی کیوں اہم ہو…؟ مجھے میری پہچان، میری اقدار، میری سنسکرتی اور اچھی روایات عزیز تھیں جو واپس مل جائیں تو میں بھی اپنی آزادی کا جشن مناؤں، چراغاں کروں…
میں ہندوستان ہوں..