یوم آزادی پر آزادانہ تقریر

23

الحمد لاھلہ و الصلوٰۃ علی اھلھا
محترم سامعین کرام! آج 15 اگست 2020 کی شکل میں ہمیں اپنے ملک بھارت کا 74واں یوم آزادی نصیب ہوا ہے، آج میں اپنے ملک کی آزادی پر بےحد اطمینان اور خوشی محسوس کر رہا ہوں اور تمام پریشان کن حالات کے باوجود اپنے پرعزم جذبات اور حوصلوں سے کچھ باتیں آپ جیسے غیور اور دانشور حضرات کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

بزرگانِ محترم! کسے خبر نہیں کہ 1947 میں ہمارا پیارا ملک ہندوستان انگریزوں کے ناپاک چنگل سے آزاد ہوا اور یہاں کے بسنے والے سبھی رنگ و نسل کے لوگوں کو آزادی کی زندگی میسر آئی۔ آزادی انسان کا فطری حق ہے، انسان اپنے بنانے والے خالقِ حقیقی کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرسکتا، یہ اس کے مزاج کے خلاف ہے، انسان صرف اور صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کرنے کا مکلف ہے، بلکہ اس کے لیے اللہ کی غلامی باعثِ فخر ہے۔ اس لیے کہ وہ مالک سب سے بڑا ہے، سب سے زیادہ طاقت ور ہے، سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور سب سے بڑا مہربان ہے، اسی کی منشاء کے مطابق آدمی کو روزی ملتی ہے، وہی نوازتا ہے، وہی کنگال بنادیتا ہے، وہی عزت بخشتا ہے، وہی ذلیل کردیتا ہے، وہی بیمار کرتا ہے اور وہی شفا دیتا ہے غرض یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان اپنے جاہ و جلال اور مال و دولت کے باعث چاہے کہ دوسرے لوگ اس کی غلامی کریں، ہر کام میں اس کی اتباع کریں تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے ترم خان آئے جنہوں نے چاہا کہ اس دنیا کو اپنا غلام بناکر رکھا جائے، بڑے بڑے بادشاہ گزرے جنہوں نے چاہا کہ انسانوں سے اپنی پرستش کرائیں؛ لیکن بالآخر وہ ناکام و نامراد ہوکر رہ گئے، ذلت و رسوائی اور قوموں کی بغاوت نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا، خدا کے عذاب نے انہیں ایسا جکڑا کہ وہ رہتی دنیا تک کے لیے نشان عبرت بن گئے۔

آج سے ڈھائی سو برس قبل ہمارے ملک ہندوستان پر انگریزوں نے اپنا تسلط قائم کرلیا تھا، 1750 تک پورا ملک انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی کا غلام ہو چکا تھا، 1750 میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ انگریز اس ملک میں تجارت کرنے نہیں آئے؛ بلکہ اسے غلام بنانے آئے ہیں، اس دیش کو لوٹنے آئے ہیں، لہذا ملک کے مختلف گوشوں میں جب اہل دانش کی آنکھیں کھلیں تو انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند ہوا، احتجاج ہوئے، لوگ سڑکوں پر آئے، تو انگریزوں نے انہیں مارنا اور گرفتار کرنا شروع کردیا، انگریزوں کے خلاف آواز اٹھانے کا مطلب بڑا خطرناک ثابت ہونے لگا، پھر لوگوں نے خفیہ پلاننگ شروع کی، کچھ جماعتوں نے پرامن احتجاجات کا سلسلہ جاری کیا؛ جنگ و جدل کا دور چلا، ملک کے طول و عرض میں سیکڑوں میدان جنگ خون سے سرخ ہوئے، لاکھوں لوگوں کو تختہء دار پر چڑھا دیا گیا، ہزاروں علمائے کرام کو آگ میں ڈال کر سزائے موت دی گئی، اگرچہ ملک کو آزاد کرانے کی لڑائی میں ہندو، مسلم، سکھ عیسائی سب شریک تھے، لیکن جانتے ہو؟ سب سے پیش پیش کون لوگ تھے؟ سب سے زیادہ جنگیں کنہوں نے لڑیں؟ تمہیں معلوم بھی ہے کہ اس ملک کے لیے سب سے زیادہ گردنیں کن کی کٹیں؟ سب سے زیادہ جانیں کنہوں نے گنوائیں، سب سے بڑھ کر قربانیاں کنہوں نے دیں؟ جی ہاں! ہم مسلمانوں کے اسلاف و اکابرین نے، علمائے دین نے، مسلمان اس دیش کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے شروع سے آخر تک پیش پیش رہے؛ جس کی گواہی خود انگریز تاریخ نگاروں نے دی ہے۔
سامعین کرام! ہم سب جانتے ہیں کہ مجاہدین آزادی کی انتھک کوششوں کے بعد، لاکھوں افراد کی قربانیوں کے بعد 1947 کو دیش آزاد ہوا اور آج ملک کی آزادی کو 74 سال مکمل ہوگئے؛ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ظالم انگریز اس آزاد ملک کو کئی طرح کی مصیبتوں میں ڈال کر گیا تھا، انگریزوں نے ہی اس دیش کے ٹکڑے کرانے کی سازش کی، انگریزوں نے ہی اس دیش میں ہندو مسلم کو لڑانے کے لیے نفرت و فساد کا بیج بویا، انگریز توچلے گئے؛ لیکن اپنے بعد اپنے ہزاروں حمایت کاروں اور اس دیش کے غداروں کو چھوڑ گئے، جنہوں نے کل تک انگریزوں کے تلوے چاٹے تھے اور چند پیسوں اور عہدوں کے لیے ظالم انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، وہی بعد میں چل کر اس ملک کی پرامن فضا کے لیے زہر آلود وائرس بن گئے، انگریزوں کے بعد یہی لوگ اندرون خانہ اس ملک میں ہندو مسلم کی آگ بھڑکاتے رہے، دنگے کرواتے رہے، مسلمانوں کو آتنکوادی بتاکر ہندو بھائیوں کو ڈراتے رہے، آج ساٹھ ستر سال کی سازشوں کا نتیجہ ہے کہ ملک پر انہیں کے پیروکاروں کی حکومت قائم ہے، ہزار کوششیں ہورہی ہیں کہ ملک کو پھر سے غلام بنایا جائے، ملک کی جمہوریت پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں، آئین کی کتاب میں تحریف و ترمیم کی جارہی ہے، بے قصوروں کو سر عام مارا اور کاٹا جارہا ہے، حق والوں کا حق چھینا جارہا ہے، مسلمانوں سے اس ملک کی شہریت مانگی جارہی ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے کہ اس آزاد دیش کو ہندوراشٹر بناکر پھر ایک بار غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے؛ لیکن ان کا یہ ناپاک ارادہ کبھی پورا نہیں ہوسکتا، ان کا یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا؛ اس لیے کہ اس ملک کا ہر باشندہ جمہوریت پسند ہے، اگر اس ملک کو غلامی کی طرف ڈھیکلا گیا تو اس دیش کا عقل مند ہندو، اس ملک کا امن پسند مسلمان، اس ملک کا انصاف پسند عیسائی اور اس دیش کا اتحاد پسند سکھ خاموش نہیں بیٹھے گا! اگر حکومت کی کرسیوں پر بیٹھنے والے سٹیزن شپ امنڈمنٹ ایکٹ لاکر، اگر وہ آرٹی آئی میں تبدیلی کرکے، اگر وہ ٹرپل طلاق بل پاس کرکے، اگر وہ میڈیا پر قبضہ جماکر، اگر وہ دیش کے مشہور مقامات کو گروی رکھ کر، اگر وہ دوکوڑی کا آئی ٹی سیل بناکر، اگر وہ آر ایس ایس کی دلالی کا دم بھرکر، اگر وہ یونی فارم سول کوڈ کی بات کرکے اور اگر وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بناکر اور اگر سیکولر دیش میں ہندو راشٹر کی بات کرکے وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اب اس ملک کو غلام بنانا آسان ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے، یہ ان کی غلط فہمی اور کھوٹی سوچ کا نتیجہ ہے، اس لیے کہ اب اس دیش کو غلام بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، یہ دیش آزاد تھا، آزاد ہے اور آزاد رہے گا۔
تم نے اگر اس دیش کی آزادی کے ساتھ کھلواڑ کیا تو نہ تم باقی رہوگے اور نہ تمہاری کرسیاں باقی رہیں گی۔

محترم سامعین! آج پندرہ اگست کے موقع پر میں کھل کر کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کے چپے چپے پر، اس دیش کے خطے خطے پر، ذرے ذرے ذرے اور بوٹے بوٹے پر ہم سب کا برابر حق ہے، کوئی اس دیش میں ہم کو ڈرا نہیں سکتا، کوئی اس دیش سے ہم کو بھگا نہیں سکتا، کتنی ہی آندھی چلے یا طوفان آئے؛ کوئی اس دیش کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میں اس بات پر مطمئن ہوں کہ ہمارا دیش آج بھی آزاد ہے اور میں پُرامید ہوں کہ ہمارا دیش کل بھی آزاد رہے گا۔
راحت اندوری نے ابھی کچھ دن پہلے اس دنیا کو الوداع کہا ہے؛ میں ان کے ان اشعار کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرتا ہوں :

کہ

اگر خلاف ہے ہونے دو جان تھوڑی ہے
یہ سب دھنوا ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے