یومِ آزادی..اے وطن کے شہیدو تمہیں سلام!

49

آج بڑے جوش و خروش،امنگ ولولے، مسرت اور شادمانی کے ساتھ پورے ملک میں یوم آزادی منایا جا رہا ہے. ہندوستان کے ہر صوبے، ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی اور کوچوں میں آزادیِ ہند کے نغمے گائے جارہے ہیں. قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں "ہندو مسلم سکھ عیسائی سب آپس میں بھائی بھائی” کے نعرے لگائے جا رہے ہیں. ہر ہندوستانی خواہ مرد ہوں یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا آزادی کے جشن میں ڈوبا ہوا اور خوشی کے رنگ میں رنگا ہوا ہے. تمام مدارس، کالجز، یونیورسیٹیز، چھوٹے بڑے اسکولس اور سرکاری وغیر سرکاری دفاتر میں پرچم کشائی کی رسم جاری ہے اور ان شہیدانِ وطن ومجاہدین آزادی کی بے مثال ولازوال قربانیوں کو یاد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر لڑائیاں لڑیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا.
جب ایک عیار قوم نے اپنی شاطرانہ چالوں سے اس سونے کی چڑیا کو دبوچ لیا اور اس سرسبز وشاداب ملک کے باشندوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جانے لگے. معصوم بچوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کئے جانے لگے. ہندوستانی بہو بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ رہیں. جب جنت نشاں اس ملک کو جہنم میں تبدیل کردینے کی کوششیں عروج پر تھیں. تاج محل کے پرکشش مینارے، لال قلعہ کے بام و در اور مساجد ومنادر کی در و دیواریں چیخ رہی تھیں،مادر وطن کی پاکیزہ مٹی انگریزوں کے ناپاک وجود سے خود کو پاک کروانے کی فریاد کر رہی تھی ایسے سنگین حالات میں جنہوں نے وطن کی پکار اور ملک کی فریاد سنی اور پھر وطن کو آزاد وآباد کرنے کے لئے اپنے گھروں کو اجاڑا، جیل کی کالی کوٹھڑیوں میں صعوبت واذیت کی زندگیاں گزاریں، پیٹھ پر خنجر اور سینے پر گولیاں کھائیں،اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے نونہالوں کو توپ کا نشانہ بنتے دیکھا،جن جانبازوں نے انگریز کی غلامی سے ملک کو آزاد کروانے کے لئے کالے پانی کی دردناک سزائیں خندہ پیشانی سے قبول کیں، پھانسی کے پھندوں کو مسکرا کے چوم لیا. آج ہر ہندوستانی کے دل سے مادر وطن کے ان عظیم سپوتوں کے لئے دعائیں نکل رہی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے کہ ان دلیروں نے اس ملک کو ظالم وجابر قوم کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے ساری اذیتیں وتکلیفیں برداشت کرکے بالآخر اپنی گردنیں تو کٹادیں لیکن انگریزوں کے سامنے کبھی اپنی گردن کو جھکنے نہ دیا جھکنے نہ دیا.

وہ کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گزر گئے
جی چاہتا ہے نقش قدم چومتا چلوں

بیشک آزادی کے لئے خون بہانے والے، پھانسی کے پھندوں پر جھولنے والے مایہ ناز سپوتوں میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے، مسلم، ہندو، سکھ، عیسائی سب نے قربانیاں پیش کیں، سب کا لہو اس وطن کی مٹی میں شامل ہے، لیکن یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ سب سے پہلے آزادی کا نعرہ لگانے والے، انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے، دہلی سے میرٹھ تک درختوں کی ہری ٹہنیوں کو اپنے لہو سے لال کرنے والے، دریائے راوی کے پانی کو اپنے خون سے رنگنے والے وہ مسلمان تھے، جسے آج غدار وطن کے لقب سے نوازا جارہا ہے، سب سے پہلے اور سب سے زیادہ کسی کے خون سے اگر اس وطن کی مٹی سرخ ہوئی ہے تو وہ قوم مسلم کا خون تھا، جسے آج دیس کا دشمن بتایا جا رہا ہے، سب سے پہلے آزادی کی تحریک اگر کہیں سے چھڑی تو وہ یہی مدارس ومساجداور خانقاہیں تھیں، جسے آج دہشت گردی کا اڈہ کہ کر بدنام کیا جارہا ہے، افسوس! انہیں مدرسوں اور خانقاہوں میں بیٹھ کر تحریک آزادی، تحریک ریشمی رومال اور ہندوستان چھوڑ تحریک چلانے والے علماء کرام و اسیران مالٹا کے فرزندوں سے آج حب الوطنی کی دلیل مانگی جارہی ہے. قوم مسلم خصوصاً علماء کرام کی بے شمار وبےمثال قربانیوں کو فراموش کرکے ان کے صاف وشفاف دامن کو داغدار کرنے والوں، جن مدرسوں سے وطن پر مرمٹنے والے جانباز سپاہی پیدا ہوتے ہیں اسے ملک کے امن وامان کے لئے خطرہ بتانے والوں اور مسلمانوں سے وفاداری کا ثبوت مانگنے والوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ؛

جاؤ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھو
پھر یہ کہنا کہ وفادار نہیں ہیں ہم لوگ.

ہم نے تو اپنے لہو سے اس چمن کی سینچائ اور خون جگر سے اس گلشن کی آبیاری کی ہے، ہماری وفا کی اس سے بڑی اور مثال کیا ہوگی کہ مسلم ہوکر بھی ہم نے بھارت کو پاک پر ترجیح دیا ویر عبدالحمید ہوکر ہم نے پاکستان کے ٹینک تباہ کر کے یہ بتایا کہ ہمارا ملک ہمیں بہت عزیز ہے.

غنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے
اس خاک سے اٹھے ہیں اس خاک میں ملیں گے

ہر سال آنیوالی اگست کی یہ پندرہ تاریخ ہم ہندوستانیوں کو اپنے بزرگوں کی قربانیاں یاد دلاتی ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا پیغام دیتی ہیں. ان کے کارنامے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جنگ آزادی سب نے مل کر لڑی ہے. اس ملک پر سب کا برابر حق ہے. اس لئے ہر مذہب اور ہر دھرم کے ماننے والوں کا احترام کیا جائے. کسی بھی مذہب کو طعنہ وتشنیع کا نشانہ نہ بنایا جائے. گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کی جائے اور اسے پروان چڑھا یا جائے خاص طور سے اس پرفتن ماحول میں جبکہ کچھ مخصوص ذہنیت کے لوگ محبت والفت کے اس چمن میں تعصب وفرقہ پرستی کا بیج بونا چاہ رہے ہیں، نفرت وعداوت کے پودے لگانا چاہ رہے ہیں اور ہندو مسلم، سکھ عیسائی کو آپس میں لڑانا چاہ رہے ہیں. یاد رکھیں وہ نہ رام کے پجاری ہیں نہ رحمان کو مانتے ہیں. نہ گیتا جانتے نہ قرآن کو پہچانتے ہیں. اسے نہ مسجد سے محبت ہے نہ مندر سے پریم. نہ گردوارہ سے عقیدت ہے اور نہ کلیسا سے الفت.

یوم آزادی کے اس خوشی و محبت بھرے ماحول میں ایسے ملک دشمنوں کو بتا دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے آباء واجداد نے کل اس ملک کی آزادی کے لئے سینے پر گولیاں کھائی تھی اور آج ہم بھی اس ملک کے تحفظ اور اس وطن کی ترقی وآبیاری کے لئے اپنی گردنیں کٹانے کو تیار ہیں. یومِ آزادی کے اس دلکش موقعے پر آئیے ہم سب مل کر نفرت وعداوت، بغض وکینہ، حسد وتعصب فرقہ پرستی ومذہبی اختلاف کو زیرِ زمین دفن کرکے اس پر اتحاد ویکجہتی کی مضبوط دیوار کھڑی کریں اور محبت وعقیدت کا ایک نیا محل تعمیر کریں اس میں چاہت والفت کے دئیے جلائیں اور چھت پر راشٹر یہ ترنگا یہ کہتے ہوئے لہرائیں کہ؛

نہ میرا ہے نہ تیرا ہے یہ ہندوستان سب کا ہے
نہیں سمجھی گئی یہ بات تو نقصان سب کا ہے
جو اس میں مل گئی ندیاں وہ دکھلائی نہیں دیتی
مہاساگر بنانے میں مگر احسان سب کا ہے