بابری مسجد اور ہم مسلمانانِ ہند

16

ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولرزم ملک ہے، جہاں ہر شخص کو پوری آزادی ہیکہ وہ اپنے دین ومذہب کے اعتبار سے زندگی کے طویل ایام کا سفر طے کر سکے، جہاں ذات، پات، رنگ و روپ کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہمارے ملک کےقانونی کتاب ( Constitution of india) کے آرٹیکل نمبر 14,15کے تحت یہ بات منقول ہے کہ قانون کی نگاہ میں سارے شہری یکساں ہیں. اور مزید یہ بات بھی منقول ہے کہ شہریوں کے مذہب، ذات پات، رنگ و روپ، اور جنس، اور جائے پیدائش کو لیکر ان میں کوئی امتیاز نہیں کیا جاسکتا ہے. ان سب کے باوجود ہندوستان میں ایک قوم ومذہب کو کئی سالوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، اور انکی عبادت گاہوں کو مسمار اور قلع قمع کیا جارہا ہے، انکی ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت وعفت وپاکدامانی کو داغدار کیا جارہا ہے. اور انہیں دہشت گرد جیسی بری صفت سے ملقب کیا جارہا ہے، اور اس مذہب کے لوگوں سے بیع شراب کرنے سے گریز کیا جارہا ہے، ان تمام مسائل کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو اہمیت کا حامل ہے جسپر میں نے قلم کشائی کی ہے وہ ہے بابری مسجد کا مسئلہ ہے جو ہندوستان کے معروف ومشہور ضلع اورنگاباد کے ایک گاؤں ایودھیا میں واقع ہے اور کئی سو سال پرانی مسجد ہے اور اس کا مسئلہ صرف دینی ہی نہیں بلکہ سیاسی اور پولیٹیکل بھی تھا اور یہ مسئلہ صرف ایک فریق کا ہی نہیں تھا بلکہ ہندو مسلم کا تھا، اور دونوں فریق الیکشن کی آمد پر لوگوں کو ورغلا کر ووٹ حاصل بھی کرلیا کرتے تھے، اور مفاد حاصل ہو نے کے بعد ہندو مسلم میں لڑائی اور مشاجرہ بھی کرا دیتے ہیں.

آخر کار اس خبیث پولیٹیکل نے بابری مسجد کو اور نام نہاد تنظیم اور پارٹی نے اور اس کے ساتھ کئی بڑے بڑے لیڈر اور سیاستدان نے اپنے مفاد اور اس ملک کو ہندو راسٹر بنا نے کی غرض سے 6دسمبر1992کو شہید کروادیا، اور اس وقت بر سر پیکا ر حکومت کانگریس کی تھی وہ ہولناک منظر کو دیکھ تی رہی اور جمہوری ملک ایک خاص فریق کے عبادت گا ہ کو شہید ہوتے ہوئے دیکھتی رہی۔ اور آج تک مسجد کو توڑ نے والے کو کوئی سزا اور کوئی عقوبت نہیں دی گئی ہے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ ضرور ان لوگوں پر کارروائی ہوگی، لیکن آج بھی وہ ہندوستان میں ظلم و بربریت اور نفرت وعداوت کی بیچ بور ہے ہیں، دنگے کروا رہے ہیں اور ایک فریق کو خاص کر نشانہ بنا رہے ہیں، قبل یہ ہے کہ میں اپنی گفتگو کو طول دوں، پہلے میں تاریخ کی روشنی میں دلیل پیش کردوں کہ 1228میں ظہیر الدین محمد بابر کا گورنر میر باقی نے فوجیوں کی عبادت گاہ کے لیے ایودھیا میں مسجد بنائی تھی، اور 1528 سے 1612تک 86 سال تک مغلیہ حکمرانوں کے دور میں بابری مسجد محفوظ تھی.

1612سے1947تک انگریز حکمران کے دور میں یہ محفوظ تھی، اور اس جگہ مندر کا کوئی ثبوت نہیں تھا، اور نہ ہی اس دور سے 1974تک کے مصنف ، یا کوئی اور ناول نگار نے اپنی تحریر میں بابری مسجد کے سلسلے میں یہ بات لکھی ہو کہ بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہو، یا اس کے سائڈ میں کوئی اور مندر ہو جسکو توڑکر مسجد بنایا گیا ہو، کسی بھی کتاب کی کوئی عبارت اس طرح کی نہیں ملتی ہے، اور نہ ہی اس وقت کے بوڑھے پرانے ہندو نے اپنے بچوں کو یہ نصیحت کی ہو کہ یہاں پر کوئی مندر تھا جسکو مسمار کرکے بابر بادشاہ نے مسجد بنوایا ہو، مزید اس طرح کی کوئی بات بھی کسی مصنف کی کتاب میں موجود نہیں ہے، لیکن 1947 کے بعد بابری مسجد کا معاملہ دھیرے دھیرے یہاں کی ایک نام نہاد تنظیم جسکا مقصد صرف لوگوں کے درمیان نفرت وعداوت کو پھیلانا ، اور دوسرے کے مال وجائیداد کو لوٹ مار کر نا شیوہ ہے اس نے اس معاملہ کو چھڑاوا، اور اس نے ہندؤوں کے درمیان یہ بیچ ڈالنا شروع کر دیا کہ مسجد کی جگہ مندر تھا اور ہندؤوں کے درمیان شکوک وشبہات ڈالنے لگے، آخر کار ہندؤوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اس مسجد کی جگہ ہمارا مندر تھا اور اسی جگہ ہمارے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے، جسکو بابر بادشاہ نے توڑ کر مسجد بنوایا تھا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چلتا ہوا چلا آرہا تھا، کہ ہندؤوں کے کی بڑی بڑی پارٹیوں اور تنظیموں اور وقت کے بڑے بڑے سیاستدان نے, 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کردیا گیا ، اور اسکے بعد سے مسلمانوں کے عبادت گاہوں سے کھلواڑ کرنا شروع کر دیا گیا جو اب تک چل رہا ہے اور کب تک مسجد سلسلہ چلتا رہے گا یہ خدا ہی کو معلوم ہے، اورمسلمانوں کے جذبات کو ڈھیس پہونچا یا گیا ، اور اس وقت بھی سب سے زیادہ جھوٹ اور مکروفریب دکھانے میں کے آگے تھا وہ میڈیا ہی تھا اور اس وقت کے انگریزی اور اردو اخبار کے ضمیر فروش ایڈیٹر تھے جنہوں نے کوئی خبر نشر نہیں کی تھی سوائے اس کے کہ بابری مسجد کے گنبد کے تھوڑے حصہ کو نقصان پہنچایا گیا ہے بہت دیر کے بعد اطلاع ملی کی بابری مسجد پوری طرح سے شہید کردی گئی ہے، لیکن اس اندوہناک خبر کو سن کر مسلمانان ہند ساکت وصامت تھے اور اس کے بعد معاملہ یوپی کے ہائی کورٹ میں پہونچا لیکن وہاں بھی مسلمانوں کے خلاف آیا پھر اس کے بعد مسلمانوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہاں بھی جب سنوائی شروع ہو ئ تو حکومت کی سب سے بڑی چال یہ ہوئی کہ چیف جسٹس کو خرید لیا گیا اور فیصلہ مسلمانوں کے خلاف آیا اور ہندؤوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا اور اس جگہ کے بدلے مسلمانوں کو پانچ اکڑ زمین دی گئی ہے اور سرکار نے وہاں ٹرسٹ بنانے کا حکم جاری کیا ہے اور ایساہوا اور اس کے اس ماہ ماری والے مہینے کی پانچ تاریخ کو اس پاک وصاف جگہ مندر کا نرمان کیا گیا ہے اور جسمیں ملک کے بڑے بڑے لوگ اور سادھو سنت،شریک ہوے اس طرح سے رام کی جائے پیدائش کی جگہ میں اسی کے نام سے مندر بن یا گیا ہے اور مسلمانوں نے اس دن کا نام بلیک ڈے رکھا ہے اور مسلمانوں کے لیے یہ دن بہت ہی افسردگی اور حزن وملال کا دن ہے اور تاریخ میں لکھی جانے والی بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود کچھ نہیں کرپائے، بڑی بڑی تنظیمیں دیکھتی رہ گئیں ، اس کے علاوہ ہندو مذہب کی لیڈر کی جانب سب سے اشتعال انگیز بیانات جاری ہیں اور جسمیں مسلمانوں کو دہشتگرد کہا گیا ہے، اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ابھی تو صرف ایک مسجد کو شہید کر کے مندر بنایا گیا ہے آئندہ دنوں میں کئی مسجدوں کو مسمار اور شہید کر کے مندر بنایا جائے گا جیسا کہ کاشی متھرا کی مسجد کے سلسلے میں نریندر گیری کا کھلا ہوا اعلان ہے انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا ہے ، اسطرح کے اور بھی مثیر کن بیان دئیے گئے ہیں جو مسلمانوں کے جذبات کو ڈہیس پہونچ رہا ہےاور بھی بہت ساری باتیں لکھنے کے قابل ہیں لیکن میں ان باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاشعار آپکی نظر کرتا ہوں
‌ جو تھے سیاسی گھرانے والے سب ایک نکلے
‌جلانے والے بجھانے والے سب ایک نکلے۔۔۔۔۔۔۔