خلیج اسرائیل تعلقات..بلی تھیلے سے باہر!

27

مسلمان برے سے برا بھی اچھا ہوتاہے ، ورنہ خدا اسے قبول نہ کرتا.. لیکن منافق اور بے غیرت مسلمان خدا کو قبول نہیں اور خلق خدا کے کس کام کا..؟

خلیج کے حکمرانوں کو میں کسی زمرے میں نہیں رکھتا، آپ پر چھوڑتا ہوں… پہلے حکمران برے لگتے تھے،، حرم کے شیوخ اچھے لگتے تھے، لیکن جب سے ان تازہ جبیں فروش شیوخ نے اہل ایمان کا خون مباح کرنا شروع کیا ہے، ایک آنکھ نہیں بھاتے..

آپ چند دن انتظار کریں بہت جلد سعودی عرب اسرائیل سفارتی تعلقات کا منحوس مژدہ سنیں گے، اور اس کے شرعی جواز کا فتوی بھی کتاب و سنت کے حوالوں کے ساتھ دیکھیں گے..
” وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ” (القرآن) اور
” إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ” (القرآن) کا حوالہ دے دے کر کتنے مظلوم تختہ دار پر کھینچے گئے اور کتنے تہ تیغ کئے گئے..اس کا حساب قاتل اور قاتل ومقتول کے خالق کی فرد حساب میں ہے…

آج کی اخباری خبر کے مطابق یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلئے.. یہ کوئی خبر اہل خبر کے لئے نہیں ہے.. اخبار والوں اور اخبار پڑھنے والوں کے لئے ضرور ہے.. اسرائیل کے سعودی اور خلیجی حکمرانوں سے تعلقات علامتی سفارتی تعلقات سے کہیں زیادہ پرجوش زمانے سے ہیں.. اسرائیل کی مصنوعات کی درآمد اردن، امریکہ، اور تائیوان کے ذریعہ ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے..

امریکہ اسرائیل میں دہرے ٹیکس کو نظرانداز کرنے کے معاہدے کے تحت ساری اسرائیلی مصنوعات کی کھپت ڈھڑلے سے خلیجی ممالک میں ہوتی ہے.. یہ سب جانتے ہیں.. لیکن دین پسند عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کچھ لیپا پوتی ہوتی رہی ہے اور کھلی تجارتی پالیسی کچھ رکھی گئی ہے.. ان ملکوں کے تاجر بھی آزاد نہیں ہیں،، ہر کامیاب بزنس بزور قوت حکمران حاصل کرلیتے ہیں یا اس کی جبری پارٹنر شپ لے لی جاتی ہے.. حکمران اور تاجر طبقہ ایک ہی ہے.. باقی قوم زکوۃ اور اوقاف سے مستفید ہوتی ہے.. سعودی عرب جیسے کم آبادی اور بے پناہ دولت والے ملک کے ہر گاؤں قصبہ اور چھوٹی آبادی کے شہر میں جمعیۃ خیریہ کا آفس ہے، اور وہاں سے ساری آبادی کو تعاون کارڈ ایشو ہوتے ہیں جن پر ہفتہ وار ضرورت کی چیزیں دی جاتی ہیں.. دولت کا ایسا ارتکاز روئے زمین پر کسی کفرستان میں بھی نہیں ہے..

ان حالات میں آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں کہ حکمران جو چاہیں وہ نہیں کرسکتے… ان کے ایسے فیصلوں سے کس کو مجال انحراف؟ قطر اور سعودی عرب میں صلح کی دعا کرانے والے خطیب بھی پس دیوار زنداں ہیں.. اب اگر اسرائیل سے تعلقات کا اعلان کر دیا جائے تو کیا عجب ہے.. میں تو کہتا ہوں، یہی بہتر ہے، جو کام چھپ کر دہائیوں سے ہورہا ہے، کھل کر آج سے ہو.. پوزیشن صاف رہے گی.. خلیج فتح ہوچکا اب، ایران پاکستان،ملیشیا اور ترکی رہ جاتے ہیں…

یو اے نے تو ذہانت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مغربی پٹی پر اپنی مجوزہ کاروائیاں روک دے تو القدس میں سفارت خانہ قائم ہوسکتا ہے… پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کے عین مطابق اسرائیل نے کاروائی معطل بھی کردی ہے.. ذہین دوستوں کی دوستی ایسی ہوتی ہے.. ایک نے ایک خواہش بطور شرط رکھی اور دوسرے نے اس شرط کی قبولیت کا اعلان کرڈالا…یہود وعرب کے درمیان ایسی عم زادگی تو
ڈرامہ ام ہارون میں بھی نہیں دکھے گی…….
دل دکھا، لیکن آنکھوں سے غبار اترا…. اپنوں کا جنخر رگ جاں سے آسانی سے نہیں اترتا روح نوچتا ہے… چلیں تھکی آنکھیں کسی اور صبح نور کا انتظار کریں گی….

کوئی اقبال سے کہہ دو کہ

خیابان میں منظر لالہ سے کہہ دے کہ خون عرب کی جس قبا کا وہ انتظار کررہا ہے، وہ خون سفید ہوگیا….. اور کب کا ہو چکا، اب اپنی قبا شکوہ ترکمان اور غیرت افغان سے زردوز کرلے……..