جشن آزادی اور ملک کی موجودہ صورتحال

34

          گلستان ہند میں آزادی کے پھول کھلے ہوئے ستر سے زائد بہاریں بیت چکی ہیں، ہر سال اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک جشن کا سماں بندھ جاتا ہے، سرکاری غیر سرکاری دفتروں، اداروں، مراکز کے ملازمین اور تعلیمی اداروں میں طلبہ و اساتذہ جشن یوم آزادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور پندرہ اگست کے دن کا علی الصباح اظہار جشن آزادی کے طور پر پرچم کشائی ہوتی ہے ، لوگ ایک دوسرے کو جشن آزادی کی مبارک باد دیتے ہیں، فوج کی پریڈ کرائی جاتی ہے، سرکاری وغیر سرکاری اداروں اور مراکز میں جشن آزادی کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ، حب الوطنی کے نغموں اور راشٹرواد پر تقریروں کی گونج سماعتوں سے ٹکراتی ہیں، ثقافتی پروگرام ہوتے ہیں ، بھارت ماتا کی جے جے کار کی جاتی ہے ، جے ہند اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے فضاؤں میں بلند ہوتے ہیں، لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم کا روایتی خطاب ہوتا ہے جس میں حکومت کی کارکردگی کے گن گائے جاتے ہیں، کچھ وعدے ارادے کئے جاتے ہیں اور پورا ملک دیش بھکتی کے رنگ میں مست نظر آتا ہے اور اس طرح پورا دن گذر جاتا ہے،اور اس طرح ہر سال یوم آزادی کی سالگرہ منائی جاتی ہے.لیکن جب ہم ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہیں اور اس پر غور کرتے ہیں تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایک آزاد ملک کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، کیا ہمیں اپنے مذہبی اور معاشرتی عقائد اور اعمال و افعال پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، کیا ہماری معیشت آزاد ہے، ہمارے ہاں قانون آزاد ہے، لوگ آزاد ہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے؟۔ کیونکہ ایک آزاد ملک ہونے کا عمومی مقصد تو یہی ہوتا ہے، تو کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ ہمارے بزرگوں نے جس آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، تختہ دار کو گلے لگایا، کیا اس کے فوائد ہمیں مل رہے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے جب ہم پندرہ اگست 1947 کے بعد ملک کے حالات واقعات اور سیاسی حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آزادی اور تقسیم ہند کے بعد جن مسلمانوں نے بھارت میں رہنے کو ترجیح دی اور تقسیم کا انکار کرتے ہوئے پاکستان کو ٹھکرایا، آزادی کے بعد سے ہی ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، طرح طرح سے ان کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، فسادات کا ایک لا متناہی سلسلہ رہا ہے جس میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے، معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش اور کوششیں کی گئیں، ستر سالوں میں سیکولرازم کی آڑ میں مسلمانوں کا بڑا استحصال کیا گیا اور آزادی کے ثمرات سے خصوصی طور پر اس طبقہ کو محروم کیا جا رہا ہے، لیکن گذشتہ تقریباً چھ سالوں سے نہ صرف وہ شدید اور قسم قسم کے حالات سے دوچار ہو رہے ہیں سے بلکہ موجودہ حالات میں ہر لمحہ ایک خوف میں مبتلا رہتے ہیں، کبھی شریعت سے متصادم قانون پارلیمنٹ سے منظور کرکے اس کا نفاذ کردینا، کبھی تہذیب و تمدن اور ثقافت پر حملے کرنا، کبھی کھانے پینے پر سوال کھڑا کرنا،  کبھی ان کے لباس پر سوال اٹھانا، کبھی عبادت اورعبادت گاہوں کو نشانہ بنانا، کبھی مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دے کر تلاشی کے نام پر طلبہ و اساتذہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کرنا اور ان جیسے دیگر مسائل کی وجہ سے مسلمان خود کو انتہائی غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں اور آئے دن کے حملوں سے دہشت کا شکار ہو رہے ہیں، کبھی کسی مسلمان کو شک کی بنیاد پر ہجومی تشدد کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے، کسی کو سر راہ پکڑ کر جے شری رام کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نہ کہنے پر زد و کوب کیا جاتا ہے، کبھی پارلیمنٹ میں مسلم اراکین کی تقریر کے وقت ’وندے ماترم‘ کے نعرے بلند کے جاتے ہیں تو کبھی ’لو جہاد‘ کے نام پر مسلمان لڑکوں کو جیل میں بند کیا جاتا ہے،  قدرتی آفات وبائی امراض اور مختلف حادثات کے وقت لوگوں کی راحت رسانی کے لیے خود کو وقف کر دینے والے سماجی کارکنوں ڈاکٹرس وغیرہ کو امن و شانتی کے لئے خطرہ بتا کر جیلوں میں ٹھونس دینا اور اپنی ذاتی بھڑاس نکالنے کے لیے ان پر مختلف قسم کے صحت توانائی اور دفعات کا نفاذ کر دینا، ابھی حالیہ دنوں میں ایودھیا میں رام مندر کی تقریب سنگ بنیاد کےبعد منصوبہ بند طریقے سے ملک میں آر ایس ایس کی شدت پسند ہندو تنظیمیں اسلاموفوبیا اور نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، راجستھان کے سیکر مبینہ طور پر مودی زندہ باد اور جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کی بےرحمی سے پٹائی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، پولیس نے اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے، رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیورغفار احمد کچھاوا کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، کچھاوا کو اتنی بےرحمی سے پیٹا گیا ہے کہ ان کے دانت ٹوٹ گئے ہیں، آنکھوں میں سوجن آ گئی ہے اور چہرے پر مارپیٹ کے نشان ہیں، غفار کچھاوا نے اپنی شکایت میں کہا، ملزمین میں سے ایک نے مجھ سے مودی زندہ باد کا نعرہ لگانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے زور سے تھپڑ مارا، اور بری طرح سے میری پٹائی کی، مجھے نازیبا کلمات بھی کہے،  سات سو روپے اور کلائی گھڑی بھی چھین لی، انہوں نے پیٹنے کے بعد کہا کہ وہ مجھے پاکستان بھیجنے کے بعد ہی آرام کریں گے. کچھ روز قبل عالمی ہندو کونسل کے ترجمان ونود بنسل نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا، ”ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہمارے معاشرے میں قومی اتحاد، سماجی انضمام اور ہندتوا کے ابھرتے ہوئے قومی احساس کی علامت ہو گی، جو روشنی کا ایک دیرپا اور ابدی مرکز ثابت ہو گا۔‘‘ حالانکہ اس کے برعکس رام مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھی جانے کے بعد شدت پسندی نفرت اور موب لنچنگ کےواقعات یہ بتا رہے ہیں کے پس پردہ کوئی کھیل یا سازش ضرور ہے، یا بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے راشٹریہ سویم سیوک کے ایجنڈے کے تحت بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا عہد کیا ہے جس کی شروعات بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی سنگ بنیاد سے ہوئی ہے.        ابھی گذشتہ سال نو نومبر میں سپریم کورٹ نے مسجد مندر تنازعہ پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، ملیکت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پرکیا جاتا ہے، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا اور فیصلہ میں کہا کہ”بابری مسجد کی جگہ رام للا خود پرکٹ (نمودار) نہیں ہوئے بلکہ غیر قانونی طور سے ان کی مورتیاں جبرا رکھی گئی تھی، انیس سو سوانچاس تک مسجد میں نماز ہوتی تھی، 6 دسمبر 1992 کو مسجد غیر قانونی طور پر توڑ دی گئی تھی اور یہ ایک مجرمانہ فعل تھا، مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی”، اس کے باوجود عدالت کا مندر کے حق میں فیصلہ دینا نہ صرف آج کے ہندوستان میں اکثریت کے بڑھتے ہوئے غلبے کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کیسے آستھا عقیدت اور مذہب انصاف پر غالب ہوتے جارہے ہیں، اور آج کے ہندوستان میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی عبادت گاہیں مسلسل نشانہ بنائی جا رہے ہیں، گویا چشتی اور نانک کی اس سرزمین پر عدلیہ بھی دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے، مساوات و برابری جیسے الفاظ کو شرمسار کردینے والے و١قعات کثرت سے رونما ہو رہے ہیں جب کھلم کھلا علی الاعلان عوام کو دیکھ لینے اور پولیس کی بات نہ ماننے کی دھمکی دینے والوں ،گولی مارو…… کو جیسے نعرے لگانے والوں پر کوئی کارروائی نہ کی جا رہی ہو، اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی پالیسیز پر تنقید کرنے والوں پر صرف مذہب کی بنیاد پر سخت دفعات اور قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہو لاک ڈاؤن کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے طلبہ لیڈروں کو ان کے گھروں سے اٹھایا جا رہا ہو، جئے شری رام کا نعرہ دیگر مذہب کو ماننے والوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کو بھیڑ تنتر میں بدل دیا گیا ہو جو ملک کے ہر قصبے، گاؤں میں تیار گھوم رہی ہو اور  ذرا سی افواہ میں بغیر سوچے سمجھے کسی کو بھی پیٹ-پیٹ‌کر مار ڈالتی ہو،  جو سوال اٹھائے اس کو ہی دہشت گرد ٹھہرا دیا جاتا ہو۔ جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہو، اور قومی یکجہتی کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہو،  ملک کے وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کے تہوار کا نام لینا پسند نہ کرتے ہوں، اور ملک کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کے وزیر اعلی اپنی تقریر میں یہ کہتے ہوں کہ ہندو مسلمان دو الگ الگ تہذیب ہیں دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، اور مسجد کی تقریب سنگ بنیاد کے موقع پر بلائے جانے کے امکان پر پہلے ہی کہتے ہوں کہ نہ کوئی بلائے گا نہ میں جاؤں گا، جب کہ یہی سی ایم اور ملک کے پی ایم تمام سرکاری ذرائع لاو لشکر اور ٹیکس کی صورت میں سرکاری خزانے میں جمع کردہ عوام کی گاڑی کمائی کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے بھومی پوجن اور سنگ بنیاد کی تقریب میں شامل ہوئے، وزیر اعظم نے وہاں پر کہا کہ یہ سب عدالت کے فیصلے کے بعد اور ہندوستان کے آئین کے دائرہ میں کیا جارہا ہے، وزیراعظم آئین کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہی آئین کہتا ہے کہ وزیراعظم کسی ایک مذہب کی بات نہ کریں کسی ایک مذہب کے ہوکر نہ رہ جائیں، جب کہ وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا اور مندر کی تقریب سنگ بنیاد میں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ شرکت کی، وزیر اعظم مودی کو اس تقریب میں شرکت کرنی ہے تو ایک عام شہری کی حیثیت سے بغیر کسی پروٹوکول کے اس تقریب میں شرکت پر تو کوئی سوال نہیں، لیکن بحیثیت وزیر اعلی اور بحیثیت وزیر اعظم ان کی شرکت پر سوال ضرور اٹھتا ہے، یا تو وزیر اعلی اور وزیر اعظم یہ اعلان کر دیں کہ ہم صرف ہندوؤں کے وزیراعلی اور وزیر اعظم ہیں مسلمانوں سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں، پی ایم نے 5 اگست کا موازنہ 15اگست سے کردیا، اب سوال یہ ہے کہ پانچ اگست کو ملک کن لوگوں کے چنگل سے یا کس کی غلامی سے آزاد ہوا اور کس طرح کی آزادی نصیب ہوئی، یا پھر وزیراعظم یہ کہنا چاہتے تھے کہ اب ہندوتوا کی آزادی کی راہ ہموار ہوگئی، کیا یہ مجاہدین آزادی اور ملک کے نام پر قربانی دینے والوں کی توہین نہیں ہے، اسی طرح وزیراعظم نے مندر کو اس ملک کی شناخت اور سیمبل قرار دیا، جب کہ بھارت کا سیمبل کوئی مسجد مندر گرودوارہ اور گرجا نہیں بلکہ اس کا سیکولرزم ہے، تو گویا وزیراعظم دوسرے الفاظ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج ہندو راشٹر کی بنیاد رکھ دی گئی.

 

 ملک میں اس طرح کے  نفرت اور تعصب کا ماحول پیدا کرنے میں میڈیا نے بھی خوب کردار نبھایا، عوام اور سماجی مسائل کے بجائے دن رات ہندو-مسلم اور مندر-مسجد کی زہریلی ڈبیٹ چل رہی ہے، لوگوں کو وطن پرست اور غدار وطن ہونے کی سرٹیفکیٹس دی جا رہی ہے، میڈیا کا بڑا حصہ اپنا فرض منصبی، اپنے صحافتی کردار اور اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑ‌کر سماج میں زہر گھولنے میں لگا ہوا ہے۔ بر سر اقتدار طبقہ کی تعریف و توصیف اور مدح سرائی کرنا، ان کے ہر فیصلے کو سراہنا، وہ خبریں جو بر سر اقتدار طبقے کے خلاف ہوں انہیں قابل توجہ ہی نہ سمجھنا، ان سے پہلو تہی کرنا یا پھر ان خبروں کو شاذ و نادر ہی اپنی اہم خبروں کے درمیان جگہ دینا، یہی ان کا شیوہ بن چکا ہے، میڈیا یہ رویہ اپنے اور حکمراں جماعت کے درمیان فکری ہم آہنگی یا پھر کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے اختیار کرتا ہے، چینلز کے اینکرس حکومت سے قربت کی وجہ سے اس قدر مدہوش ہوگئے کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ شاید ہندوستان کی حکومت انہیں کے مشورے کی بدولت چل رہی ہے، کیونکہ ایک طرف تو بی جے پی اور اس کے ایجنڈے کی بے جا حمایت اور دوسری طرف بی جے پی سرکار کے مسلم دشمن ایجنڈے کی ترویج کیلئے کچھ اس شدومد سے حصہ لیا کہ جہاں کہیں کسی مسلمان کا معاملہ آیا اتنگوادی دہشت گرد سونا جماعت سے رابطہ اور پتہ نہیں کہاں کہاں تک اس کا فنکشن جوڑنے کی کوشش کی لیکن جب کہیں کسی ہندو کی بات آتی تو پوری گودی میڈیا میں سناٹا طاری ہو جاتا نہ کوئی کسی سے سوال پوچھتا اور نہ ہی اس کی ضرورت سمجھتا، کرونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف تفرقہ بازی اور نفرت کا جو کھیل کھیلا گیا وہ جگ ظاہر ہے۔  تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک کچھ افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے کے بعد مسلمانوں کو کرونا وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا، سب سے پہلے سنگھی نظریات کے حامل خبریں پہنچانے والے نشریاتی اداروں نے تبلیغی جماعت اور دیگر مسلمانوں پر ‘کرونا جہاد’ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی میں نظام الدین کے علاقے میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں مسلمان بھارت میں کرونا پھیلانے کی سازش کے تحت اکٹھا ہوئے تھے، اس طرح کی صحافت کے بجائے اب ملک کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے میڈیا کو چاہیے کہ سچ بولے، کمزور اور مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہے، حکمرانوں سے سوال کرے، اقلیتوں، دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ، مظلوموں، غریبوں کا استحصال بند کرنے، خواتین، کسانوں اور طالب علموں کے حقوق کی بات کرے.

 

15 اگست 1947 وہ دن ہے جس دن ہمارے آباواجداد کی لڑائی سے ملک میں انگریزوں کی ہٹلر شاہی ختم ہو گئی تھی اور عوام کا کی حکومت قائم ہوئی، نہ کہ کسی ایک پارٹی، تنظیم یا فردکے نظریے کی، یعنی اب انگریزوں کی حکومت کی طرح ملک اقتدار میں رہنے والی پارٹی کے نظریہ سے نہیں بلکہ جمہوریت کی پالیسی اور جمہوری قدروں پر چلے گا، اس لئے آئین بھی بنا، اس میں نہ صرف سیکولرزم کو جگہ دی گئی بلکہ سیاسی، سماجی، اقتصادی انصاف کے ساتھ اظہار کی آزادی، یعنی سب کو اپنی سوچ‌کے مطابق رائے رکھنے، اپنے عقیدہ کے مطابق مذہب پر عمل کرنے اور تجارت کرنے کا آئینی حق ملا، لہذا ہم سب کو ملک این دستور سیکولرزم اور جمہوریت کو بچانے کے لئے اپنے اپنے طور پر کوشش کرنی ہوگی تا کی یہ ملک اور اس کے عوام استعماری اور برہمن واد طاقتوں سے محفوظ رہ سکے.