گوجری زبان وادب کی عظیم شخصیت  چودھری اسرائیل اثرؔ 

118

روزنامہ نوائےملت{سیدہ تبسم منظور ناڈکر ممبئی}
زبان صرف زبان یا لسانیت نہیں ہوتی ، بلکہ پوری ایک شناخت ہوتی ہے۔ ایک پوری تہذیب، تمدّن، ثقافت، جذبات و احساسات کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔ زبان کے ذریعے خیالات ومعلومات کی ترسیل اور ابلاغ ایک قدرتی اور آسان طریقہ ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کا عمل جو کہ سراسر انسانی ذہن میں تشکیل پاتا ہے، وہ بھی لاشعوری طور پر زبان میں ہی پراسیس ہو رہا ہوتا ہے اورجب ہم زبانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو دراصل زبان کے خول میں کسی قوم، علاقے یا نسل کے عروج و زوال کی داستان پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ غالب و حکمران قوموں کی تہذیب کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور انکی زبان کو بلا چوں چراں ترقی اور کامیابی کا زینہ مان لیا جاتا ہے۔ اور کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج میں سب سے زیادہ سماج کے حساس طبقے یعنی شعراءاور ادبا کا ہاتھ ہوتاہے، وہ زبان بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جس زبان کی آبیاری کرنے ، اس کی ترقی اور ترویج اور ماں بولی کے دودھ کا قرض چکانے کے لئے ماں بولی کے سپوت دنوں کا سکون اور راتوں کی نیند جلا کر زبان کی خدمت کے لئے ایک ایک حرف لڑیوں میں پرو کر زبان کا ہار سنگھار کرتے ہیں اور اس زبان کو دوسری ہمسایہ زبانوں کی صف میں سر اُٹھا کر بیٹھنے کے قابل بناتے ہیں۔ گوجری زبان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس زبان میں کئی ایسے سپوت پیدا ہوئے ہیں جن کی بدولت گوجری زبان کو ایک اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایسا ہی ایک نام ہمیشہ اول درجے پہ رہا ہے جنھیں میرِ گوجری، گوجری گیتوں کے بادشاہ اور گوجری غزل کے بانی اسرائیل اثر کہا جاتا ہے۔ محمد اسرائیل اثر 1916میں ضلع گاندر بل کی ڈھوک سالنائی میں حضرت میاں سید محمد بجران کے گھر پیدا ہوئے ۔اسرائیل اثر اک ایسی برگزیدہ شخصیت کا نام ہے جنہوں نے گوجری زبان کو وہ مقام دیا کہ آج یہ زبان اپنا وجود منوانے کی لڑائی لڑتے ہوئے ڈگمگانے کے بجائے اپنے پیروں پہ کھڑی ہے۔کون کہہ سکتا تھا کہ بجران خاندان کا یہ چشم وچراغ اک دن گوجری کا لعل کہلائے گا۔ اسرائیل اثر نے گوجری زبان کی خدمت میں دن رات نہیں دیکھے، جوانی کی دیلیز پہ پیر رکھتے ہی اللہ تعالیٰ کی ذات نے انھیں ایسا فیض بخشا کہ وہ لفظوں کے ایسے موتی پروتے گئے جن کی لڑیاں آج بھی پڑھنے والوں کے دلوں کو مسحور کر دیتی ہیں، علمی ادبی اور روحانی فیض سے کھچا کھچ لبریز ان کے سینے میں عشقِ خدا وندی کے نور کی تجلیاں ان کی شاعری میں بھی بالکل سامنے نظر آتی ہیں عشقِ حقیقی اور عشقِ محمدی صلی االلہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوبی ہوئی ان کی شاعری پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عشقِ مجازی کے بجائے عشقِ حقیقی میں بہت گہرائی تک ڈوبے ہوئے تھے۔اسرائیل اثر صاحب کی شاعری میں بچھوڑے کا درد،وصال کی خوشی، قدرتی مناظر کی دلربائی اور پہاڑوں کی رونق نظر آتی ہے۔ دُکھتے دلوں کو دلاسہ دینے والے شعر کہنے کا فن اور ہنستے دلوں کو رُلانے والے شعر کہنے کا فن صرف اور صرف اسرائیل اثر کے پاس ہی تھا ۔اپنے دل کے درد کو کاغذ پہ آنسوؤں کی لڑی میں پرو کر دل کو حوصلہ دینے اور صبر کا دامن تھامنے کا گُر بھی اسرائیل اثر کے پاس ہی تھا۔ ان کی شاعری میں وادیوں اور سبزہ زاروں کا منظر بھی اکثر دِکھتا ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی شاعری کا خاصہ حصہ وادیوں اور ڈھوکوں میں لکھا گیا تھا۔ خانہ بدوش طبقے سے تعلق ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کا اچھا خاصا حصہ پہاڑوں جنگلوں اور کوہساروں میں گزرا ۔ان قدرتی مناظر اور جفاکشی کی زندگی نے ان کو کاغذ اور قلم کا سہارا لینے پر مجبور کیا اور پھر اپنے طبقے کے لوگوں کی خانہ بدوشی اور اپنی مادری زبان ماں بولی گوجری کے درد کو کاغذ پہ اتارنا شروع کیا۔ اسرائیل اثر کا گوجری زبان کی اشاعت و ترویج میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جس کا جیتا جاگتا ثبوت انجمن ترقی گوجری زبان و ادب دھرم سال کالا کوٹ راجوری ہے۔ یہ انجمن نہ صرف ریاست جموں کشمیر میں ہی گوجری زبان کی ترقی اور اشاعت کے لئے کام کر رہی ہے ۔بلکہ پورے برصغیر میں گوجری زبان کے چاہنے والوں کے لئے مشعلِ راہ کا کام کر رہی ہے۔ اسی انجمن کے زیرِ سایہ پہلا مکمل گوجری اخبار رودادِ قوم وجود میں آیا اور سوشل میڈیا پہ اَوازِ گجر نام کا چینل چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی انجمن کے بینر تلے رشحاتِ قلم کے نام سے ایک بلاگ ویب سائٹ لانچ کی گئی ہے۔ جس پہ گوجری زبان میں ہر قسم کا مواد دستیاب رہے گا۔ گویا کہ اسرائیل اثر کا لگایا ہوا پودا آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کی چھاؤں میں آنے والی نسل بیٹھ کر زبان و ادب کی آبیاری میں اپنا ہاتھ بٹا سکتی ہے۔اثر صاحب گوجری ادب کے بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اک خدا دوست اور روحانی شخصیت کا درجہ بھی رکھتے تھے جس کا اظہار بہت سارے قلمکاروں نے کئی بار کیا ہے۔

اثر صاحب نے عالم (مولویت) کی ڈگری حاصل کی تھی اور استاد کے پیشے سے منسلک تھے ۔ان کو اپنی ماں بولی گوجری کے علاوہ پنجابی، پہاڑی، اردو اور فارسی زبانوں پہ عبور حاصل تھا۔ انہوں نے شاعری ،ادبی کالم ، ادبی اور مذہبی کتابیں بھی لکھیں ۔اثر صاحب نے گوجری زبان کو تحریک دینے میں اہم کردار ادا کیا۔جو میاں نظام الدین لاروی رحمتہ اللہ علیہ اور چودھری غلام حسین لسانوی نے بیسویں صدی کے آخر میں شروع کی تھی۔اثر صاحب کی لکھی ہوئی پہلی کتاب “دکھتیں آس” جو گوجری شعری مجموعہ ہے۔ 1947 سے پہلے شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ”کلام اثر ” چار جلدوں پر مشتمل ہے ۔اور” سجرہ بول” اور” نین سجیلا“ زیرِطبع ہے ۔اثر صاحب گوجری زبان کی پہلی ڈکشنری تیار کرتے وقت ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر تھے یہ ڈکشنری گوجری زبان کی سب سے پہلی مونو لینگول ڈکشنری تھی اور ریاستی کلچرل اکیڈیمی نے شائع کی تھی۔ اسرائیل اثر پہلی شخصیت ہیں جن کے پچاس سے زائد تحقیقی مقالے گوجری زبان میں چھپے ہوں گے ان کے بہت سارے کام کا انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔اثر صاحب نے بچپن سے ہی شعر کہنا شروع کئے تھے صرف 12 سال کی چھوٹی سی عمر میں شاعری جیسی صنف میں طبع آزمائی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ بچپن سے ہی حضرت میاں نظام الدین لاروی رحمتہ اللہ علیہ کےساتھ بہت زیادہ لگاؤ رکھتے تھے اور زیادہ تر وقت کنگن دربار پہ ہی گزرتا تھا۔ شایدیہی وجہ ہے کہ وہ شاعری جیسی صنف میں ڈوبتے گئے ۔سائیں قادر بخش رحمتہ اللہ علیہ اور خدا بخش زار جیسے ولی شاعروں نے بھی گوجری زبان کی آبیاری کی ہے ان کے ساتھ بھی اثر صاحب کو حد سے زیادہ لگاؤ تھا۔اثر صاحب ریاست جموں کشمیر کے پہلے لکھاری ہیں جنھیں گوجری زبان اور ادب کی خدمت کے عوض ساہتیہ اکیڈیمی نئی دہلی کی طرف سے راشٹریہ بھاشا سمان کے ساتھ نوازا گیا ۔یہ انعام انھیں سن 2001 میں دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی انھیں گوجری زبان کی خدمت کے لئے کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ 1981میں جموں کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کی طرف سے ان کی کتاب “دکھتیں آس” کیلئے بہترین کتاب انعام سے نوازا اس کے علاوہ 1985میں ادبی سنگت کشمیر ،1995میں بزم ادب کالا کوٹ راجوری 1999میں ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن نے ان کی گوجری زبان کیلئے خدمت کے عوض مختلف اعزازات سے نوازا 1995میں اسرائیل اثر گوجری زبان کے پہلے رسالے” سجرا بول” کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اثر صاحب درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں گوجری شاعری میں غزل، سی حرفی، بیت ،دوہے وغیرہ لکھے لیکن ان کے لکھے ہوئے گیت بہت زیادہ پسند کئے جاتے ہیں اور بہت سارے گلوکاروں نے گائے ہیں اور گا رہے ہیں۔ اسی لئے انھیں گوجری گیتوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اثر صاحب نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں عید الاضحی پہ قربانی کے فریضے کے ساتھ ساتھ ختم شریف پڑھانے شروع کئے تھے۔ اہل خانہ اور دوسرے احباب نے عید قربان کے دن ختم شریف پڑھانے کی وجہ جاننے کے بہت جتن کئے لیکن اثر صاحب کی خاموش مزاجی اور پر سکون طبیعت کی وجہ سے ہر کوئی جواب لینے سے قاصر ہی رہا۔ بس اتنا کہا کرتے تھے کہ یہ ختم آپ لوگ پڑھاتے رہنا اہل خانہ اور دوسرے محبانِ اثر، اثر صاحب کے اس راز سے تب واقف ہوئے جب 8دسمبر 2008میں عید الاضحی کے مبارک دن پہ ہی وہ اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کیلئے آنسوؤں چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ۔پھر ظاہر ہے کہ عید قربان والے دن ہی ختمات اور درود کا ورد ہونے لگا اور اثر صاحب کے لکھے ہوئے آخری گیت کی دھن ہر عید پہ ریڈیو سے گونجنے لگی ۔آج بھی اثر صاحب کا لکھا ہوا یہ آخری گیت ہر سخن شناس کی آنکھیں نم کر دیتا ہے اور بے ساختہ آہ کے ساتھ واہ نکلتی ہے۔

“او میریا کشمیر گیا چناں چڑھ جموں گی تہاریں”
“پونچھ تے راجور اڈیکیں اپنی باہنھ کھلیاریں”
اثر صاحب کی آخری آرام گاہ اثر آباد لمبیڑی میں ہے جہاں ہر سال 8 دسمبر اور عید الاضحی کے دن درود و ختمات کے علاوہ خیرات اور صدقات وغیرہ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
“موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے”
           (ختم شُد)