کھبی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے

24

اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین کے اندر مختلف اقسام و متنوع رنگ و نسل کے انسان اور حیوان کو اس عالم آب و گل میں وجود بخشا ہے، لیکن ان میں سب سے بر تر اور سب سے اعلی و ارفع انسان ہی کو وجود بخشا ہے، ہر اعتبار سے انسانیت ہی کو افضل قرار دیا ہے، چاہے وہ شکل و صورت میں ہو یا عقل و دانش اور شعور وآگہی میں ہو ہر اعتبار سے کامیاب اور مکمل طور پر افضل اور تمام چیزوں پر فوقیت انسان ہی کو حاصل ہے، انہی چیزوں کو جب ہم قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو صاف الفاظ میں اس کی وضاحت موجود ہے، ” *لقد خلقنا الإنسان في أحسن التقويم "*
کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں ڈھالا ہے،
انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت اور افضلیت حاصل ہے،
کوئی بھی مخلوق انسانی زندگی اور انسانی وسائل اسی طرح انسانی فطرت و تہذیب و تمدن اور ثقافت کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔

اس آیت کریمہ میں خدائے لم یزل نے پوری دنیائے انسانیت کو دعوتِ فکر و تدبر اور عقل شعور سے سوچنے سمجھنے کا احساس ان کے اندر جگایا ہے، اور یہ بھی احساس دلایا تم مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین امت بھی ہو جس کو اللہ وحدہ لاشریک نے پوری وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔

*”كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۗ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ*”
سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی ہیں اچھے کاموں کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو، اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا، کچھ ان میں سے ایماندار ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو دنیا میں سب سے بہترین قوم وملت قرار دیا ہے، اطاعت وبندگی کی وجہ سے افضل امت کا لقب ملا ہے، اور یہ بھی بتلا دیا ہے
کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی زندگی کے ہر ہر لمحے کو صحیح معنوں میں صرف کرنے والے ہی بہترین امت کی فہرست میں شامل ہے، اگر ہم اور آپ ان تمام چیزوں کو اپنی زندگی کا محور و مرکز اور مقصد اصلی سمجھ لئے تو یقین جانیں کہ ہم اور آپ کامیاب ترین و اکمل ترین انسانوں کی صف میں اپنی صف ملا رہے ہیں، ہمارے چرچے آسمانوں اور زمینوں کے مکینوں اور آشیانوں میں ہورہے ہیں، لیکن اس کے برعکس اگر ہم نے خدا کی وحدانیت اور اسکی یکتائیت کو اپنے سینے سے باہر نکال پھینک دیا تو یقیناً ہماری ذلت آمیز اور شکست خردہ زندگی پر تمام فرشتے لعنت و ملامت کر رہے ہوتے ہونگے، ہماری بدنامی دنیا وآخرت میں بھی یقینی اور لازمی ہے، جس کی عکاسی علامہ اقبال کا یہ شعر کرتا ہے،
*نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستان والوں*
*تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں*
لیکن جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو کتنے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو کہ لاپرواہی کی زندگی گزر بسر کرتے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت سے بے فکر ہو کر رہ جاتا ہے گویا کہ وہ سرپا بے حسی کا پیکر بنا ہوا ہوتا ہے،آج جب کہ مسلم معاشرہ کے اندر بگاڑ فساد پھیلتا جارہا ہر کوئی خرابی کبابی بنتا جارہا ہے، ہر سو لوگوں میں بے چینی وبد امنی کا بازار گرم ہوتا ہوا نظر آتا ہے، آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ،کہ انسانی حقوق اور انسانی زندگی پریشان نظر آتی ہے تو اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ انسان عقل و خرد کا سراپا پیکر اب نہیں رہا ،جس کی وجہ سے پوری دنیا میں دھتکارے جارہے ہیں، آج سے چودہ سو سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ کی زبانی یہ بات پوری قوم وملت کو بتلا دی گئی ہے،
**ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم وإذا أراد الله بقوم سوءا فلا مرد له ومالهم من دونه من وال* (سورہ رعد 11)
بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوسکتا،
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو احساس دلایا ہے کہ اگر تم اب بھی تفکیر و تدبیر سے کام نہیں لیا تو تمہاری جگہ دوسری قوموں کو آباد کریں گے جو تم سے بہتر ہوگی، جس کی عکاسی شاعر کے اس شعر سے ہوتا ہے کہ
*خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی*
*نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا*
جب تک انسان اپنی سوچ اپنے فکر کو نہ تبدیل کریں اس وقت تک کامیابی ممکن ہی نہیں ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اور آپ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے م توبہ واستغفار کی طرف اپنے دھیان کو مبذول کرائیں کیوں کہ قرآن مجید ہمیں اسی چیز کی تعلیم دیتا ہے،
*وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ*
*اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سماجائیں ۔ وہ اُن پرہیز گاروں کیلئے تیار کی گئی ہے* ”
اس آیت کریمہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کو توبہ و استغفار پر ابھارا ہے کہ جلدی سے لپ پڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف تاکہ تمہارا بیڑا پار ہوجائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلی مقام حاصل کر سکوں ، لیکن اس کے برعکس ہوا تو صاف صاف کہہ دیا کہ
” *وقودها الناس والحجارة*”
کہ جس کا ایندھن انسان اور پھتر ہے،
لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رب کو پہچانیں، انہیں ہر لمحہ یاد رکھیں، اسی کا خوف دل میں رکھیں، جب جاکر ہماری زندگی کامیاب و کامران ہوگی ،
اس کے باوجود ایک اور اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اور آپ اپنی زندگی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی جیتی جاگتی زندگی سے جوڑے اور اسے اپنا لائحۂ عمل بنا لیں تو دنیا اور آخرت میں ہماری واہ واہی ہوگی، اور ایک انقلاب برپا ہوگا، جس کو کہ دیکھ کر پوری دنیائے انسانیت اسلام کی آغوش میں پناہ گزین ہوجائیں گی، اور ڈاکٹر علامہ اقبال کا یہ خوب بھی پورا ہوجائے گا کہ *ایک ہو مسلم حرم کے پاسبانی کے لئے*
*نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک شغر*
جب عالم اسلام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا کے اندر مسلمانوں کی صدیوں حکومت قائم رہی اور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی ہر موڑ پر انہیں کامیابی ملی یہ صرف اور صرف عاشقان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے راہ پر چلنے کی وجہ سے تھی، کیونکہ آج یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے، مسلمانوں کامنزل و مقصود انہی چیزوں پر محیط ہے، منزل کی جستجو ہی انسان کو جنت تک پہنچا سکتا ہے، علامہ اقبال اس کی خوب عکاسی اپنے ان اشعار میں کیا ہے،

*منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر*
*مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر*
*ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پھتر کی چھوٹ سے*
*پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر*
اس شعر کے اندر مسلم نوجوانوں کو دعوت فکر دی گئی ہے کہ تم ہی بتاؤ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اندر کونسی ایمانی طاقت و قوت تھی
جس کی مدد سے پوری دنیائے انسانیت کو اپنی ایمانی جوش و خروش سے مسحور کر لیا تھا، پوری دنیا ان کے اسیر بن بیٹھیں تھے، ہر جانب ان ہی کے کمالات اور ان کی اخوت و بھائی چارگی کی مثالیں آسمان کو چھو رہی تھی، ان کے چرچے آسمان و زمین کے ہر گوشے میں ہو رہے تھے، وہ صرف اور صرف اللہ کی وحدانیت اور اسکی ربوبیت کو اپنے سینے میں سجو لینے کی وجہ سے پوری دنیا انہیں سب سے اعلی انسان کہلانے پر مجبور ہوگئی، جس کی اطاعت عاشقان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے باعث فخر وامتنان کا ذریں اصول قرار دیا گیا ، جس کے بارے میں صاف اعلان کردیا گیا
*
فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ”. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ [رقم:4607]، وَاَلتِّرْمِذِيُّ [رقم: 266] وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ*

اس حدیث کے اندر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرمانبرداری کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے طور طریق پر چلنے والے ہی کو کامیاب انسان تصور کیا گیا ہے،
اگر ہم اور آپ اس کے اوپر عمل پیرا ہوجائیں اور اپنے امیر اور میرکارواں کی باتوں کو ماننے لگے، تو وہ دن دور نہیں ہم اور آپ اوج ثریا کو عبور کر جائیں گے، اور ہماری زندگی سنور جائیں گی، ہم ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے کے بجائے اپنے گریبان کی طرف جھانکے تو خوب معلوم ہوگا کہ ہم اور آپ اپنے کئے پر غور و فکر اور تفکر و تدبر کر رہے ہیں یا نہیں، اگر ہم اپنے اعمال کو درست کر رہے ہوتے ہیں تو کامیابی و کامرانی ہماری مقدر بن جائے گی، دنیا میں بھی عزت و احترام سے دیکھیں جائیں گے، اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہو کر رہے گی، بشرطیکہ ہم اور آپ اپنے اندر ایمان کی کرنیں روشن کریں، اور ایمان کی طاقت و قوت کو اپنے لئے باعث نجات سمجھیں.

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملے میں تدبر وتفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.