مذہب اسلام کے پسپائی واستحصال اور اس کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانےاور نست ونابود کرنے کے لیے معاندین اسلام ہمہ وقت کان لگائے بیٹھے رہتے ہیں، کہ ذرابھی کہیں کوئی شوشہ ملے کہ مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے اور مسلمانوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جائیں؛ تاکہ مذہب اسلام کے پیرو،اس صبر آزمامشکلات سے درماندہ وبےبس ہو کر ،نعوذبااللہ مرتد ہوجائیں ،یاکم ازکم خوف ودھشت کی زندگی گزارنے پر مجبور تو رہیں ،نیز یہ کہ یکے بعد دیگرے مسلمانوں پر غیرمنقطع السلسلہ مظالم کے پہاڑ ڈھائے جانے کی وجہ سے غیر مسلم تو قبول اسلام سے دور رہیں –
یہ عجیب بات ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی دہشت گردانہ حملہ رونما ہوتاہے، تو بغیر کسی تامل وتاخیر اور ثبوت کے اسلام مخالف تنظیمیں اس حملہ کومسلمانوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں، اور پھر مذہب اسلام کے قلع قمع اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت وقوت صرف کرنے میں خوب جتن کرتے ہیں؛ مگر یہ بھی ایک تائید خداوندی اور نصرت باری تعالی ہے کہ ،جس قدر مخالفین اسلام، اسلام کو دبانا چاہتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ مذہب اسلام مزید ابھر رہا ہے، اور لامتناہی تعداد میں ہرسال غیر مسلم افراد بطیب خاطر، بغیر کسی اکراہ وزبردستی کے اسلام قبول کرکے دامن اسلام میں پناہ لے رہے ہیں، شعر :
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کے د با ؤ گے
اسلام کے دائمی دشمن جس انتظار میں تھے ،آخر انہیں ایک دفعہ پھر مذہب اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل ہی گیا ،کہ تین سال قبل ،فخر موجودات ،سرور کونین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں، گستاخی کرنے والے کملیش تیواری کے قتل کو ایک بار پھر مسلمانوں کی جانب منسوب کرکے ،کئی بے گناہ مسلمانوں کو گرفتار کرلیا ؛جب کہ خو مقتول گستاخ کملیش تیواری نے اپنے کئی بیانات میں اس بات کا اظہار کر چکا ہے ،کہ بی جے پی حکومت، خصوصا یوپی کے وزیر اعلٰی یوگی اس کے محافظوں کی تعداد کم کرتے کرتے ایک پر لاچکے ہیں ،اور یوگی میرا قتل کراناچاہتےہیں ،اتفاق سے ہوابھی ،وہی جس چیز کا کملیش تیواری پہلے ہی خدشہ ظاہر کرچکے تھے ،یعنی جمعہ کے روز دوحملہ آوروں نے اسے بڑے ہی دردناک طریقہ پر قتل کر کے جہنم رسید کردیا ہے-
جب قتل کی خبر میڈیا والوں تک پہنچی ،تو کملیش تیواری کے قتل کو لے کر پورے ہندوستان میں ہلچل مچ گئی، لکھنؤ کی حالت تو کچھ زیادہ ہی خستہ اور نازک ہوچکی تھی ،افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب اس حملہ کی تحقیق وتفتیش کے لیے "” میڈیا سمیت اوستھی "” نے کملیش تیواری کی ماں "” کسم "”جی سے سوال کیا کہ آپ کے لڑکے پر حملہ کس نے کرایا ؟ تو وہ جواب میں کہتی ہے کہ میرے بیٹے کو وزیر اعلی یوگی نے قتل کرایاہے ؛کیوں کہ وہ میرے بیٹے کی ترقی سے جلتا تھا ،اور وہ ایک دفعہ بھی نہیں کہی کہ میرے بیٹے کو مسلمانوں نے قتل کرایاہے ؛ مگر افسوس صد افسوس کہ "”میڈیا سمیت اوستھی "” باربار یہ کہ رہاہے کہ : کسم جی کوئی ایسی بات نہ کیجئے کہ جس کو لیکر اس دیش میں دومذہبوں یعنی ہندو مسلم کے مابین لڑائی اور جنگ ہو ؛جب کہ کسم جی کوئی ایسی بات ہی نہیں کہی تھی ،جس سے ہندو مسلم کا مفہوم سمجھ میں آئے ،یہ کمبخت، مردود، ملعون اور حرام خور "” میڈیا سمیت اوستھی "” نے بار بار ہندو مسلم کا لفظ لاکر ہندو مسلم کے درمیان جنگ اور لڑائی کرانا چاہ رہاتھا،جس سے ہندوستان میں دومذہبوں کے ماننے والوں کےدرمیان کشیدگی اور تناؤپیداہوجائے ،اور ہوابھی یہی ،جو اس کی خواہش تھی –
الغرض حکومت سے لیکر میڈیا تک ہر ایک کو مذہب اسلام سے عناد ودشمنی ہے ،ان کی ہرممکنہ خواہش مسلمانوں کو ذلیل ورسواکرنے اور شعائر اسلام کوختم کرنے کی ہوتی ہے ؛ مگر معاندین اسلام یاد رکھو ،تم ذلیل ورسوااور برباد ہوسکتے ہو ،تمہاری ہوااکھڑ سکتی ہے ؛مگر جب تک یہ دنیا قائم ودائم رہے گی نہ اسلام مٹ سکتا ہے اور نہ ہی مسلمان ؛ کیوں کہ زم زم ،کعبہ، حجر اسود، صفا،مروہ ،منی ،مزدلفہ ،گنبد خضرا، نبی کے روضہ کی جالی ،جنت البقیع، ریاض الجنہ ،مسجد حرام، مسجد نبوی ،کلام پاک کے ایک سو چودہ سورتیں، بخاری ،ترمذی، ابوداؤد، دار ارقم اور اللہ ہماراہے ،وکفی باللہ وکیلا،وکفی باللہ شہیدا ،وکفی باللہ نذیرا،اللہ، پیغمبر، جبرئیل ،اسرافیل ،قرآن، حدیث الغرض سب کچھ ہماراہے –
تاریخ شاہد عدل ہے کہ آج تک جنہوں نے بھی ہمیں اس دنیا سے مٹانے کی سازشیں رچی ہیں، وہ سب خود تباہ وبرباد ہوگئے ہیں ؛مگر ہم ہیں کہ اپنی جگہ قائم ودائم ہیں اور تاقیامت قائم رہیں گے ،یہ ہمارا دعوی ہے ؛کیون کہ خالق کائنات ہمارے ساتھ ہیں ،ان کی تائید ونصرت ،ہر آن و ہر لمحہ ہمارے ساتھ اور ان شاء اللہ العزیز آئندہ بھی رہے گی،
ہم موجود ہیں، تو دنیا کا وجود ہے اور ضمنا تم جیسے ناپاک فسادی لوگ بھی موجود ہے، تمہارا تو عنداللہ کوئی وقعت وحیثیت اور مقام ہی نہیں، تو تم کیا ہمارے وجود کو ختم کروگے ؟
اسلام اور مسلمان ہمیشہ بلند رہے ہیں اور رہیں گے ،اور تم تو”” انف فی الماء واست فی السماء”” کے مصداق ہو –