آہ راحت اندوری،آغا نہال بنارس

27

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)روزنامہ نوائےملت
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہئے کہ راحت اندوری مرحوم نے اپنا پہلا بیرون شہر مشاعرہ بنارس میں آغا حشر اکیڈمی کے زیر اہتمام مشاعرہ منعقدہ نگر نگم آڈیٹوریم، بنارس میں 1979 عیسوی میں پڑھا تھا – نور اندوری موصوف کو لے کر بنارس آئے تھے اور سب سے متعارف کرایا تھا – بڑے ماموں جان آغا منظر کاشمیری مرحوم نے اپنے مزاج کے موافق ان کی شخصیت پر کچھ پھبتی بھی کسی تھی لیکن مشاعرہ کنونر سید لئیق عالم مرحوم نے انہیں مشاعرہ پڑھوایا – اس مشاعرے میں بیرون شہر سے آنے والے شعرا میں ساغر اعظمی، نور اندوری،کامل شفیقی جونپوری، راز الہ آبادی، اظہر عنایتی رام پوری، جنید عنایتی رام پوری اور کوئ ایک ہزل گو شاعر نام یاد نہیں آ رہا نے شرکت فرمائ تھی – باوجود اس کے کہ دو روپے کا ٹکٹ تھا تب بھی مشاعرہ بہت کامیاب تھا اور ہال کھچا کھچ بھرا پڑا تھا –
آج راحت اندوری ہمارے بیچ نہیں ہیں،

اللہ پاک راحت اندوری کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام نصیب فرمائے آمین