جنگ آزادی-ایک جہد مسلسل

30
 جنگ پلاسی ۱۷۵۷ میں نواب سراج الدولہ کی شکست اور مظلومانہ شہادت کے بعد اس وقت کے ہندوستان کی بے حد خوشحال ریاست بنگال ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں چلی گئی، بنگال کو انگریزوں کے قبضے سے بچانے کی آخری کوشش میر قاسم نے کی، اس نے بنگال میں انگریزی اقتدار کو چیلینج کیا اور اس کا ساتھ شجاع الدولہ نواب اودھ اور مغل بادشاہ شاہ عالم نے دیا، پٹنہ کے قریب بکسر کے مقام پر ۱۷۶۵ میں ہندوستانی اور انگریزی فوجوں کا تصادم ہوا، لیکن غداری کی قبیح روایت جو میر جعفر نے جنگ پلاسی کے موقع پر ایجاد کی تھی وہ بکسر کے جنگ میں بھی جاری رہی اور یہاں میر جعفر کا کردار میر قاسم کے فوجی سردار نجف خان نے ادا کیا نتیجہ یہ ہوا کہ اس جنگ میں بھی ہندوستانی فوج کو شکست ہوگئی، میر قاسم اور نواب شجاع الدولہ گرفتار ہوئے جب کہ مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کو انگریزوں نے الہ آباد کے قلعہ میں نظر بند کرکے مجبور کیا کہ بہار اور بنگال کے دیوانی حقوق ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام کردے چناچہ ۱۲ اگست ۱۷۶۵ کو "معاہدہ الہ آباد” کے تحت پورا بنگال مع بہار باضابطہ قانونی طور پر انگریزوں نے حاصل کر لیا
بنگال پر مکمل قبضہ کر لینے کے بعد انگریزوں کا اہم ترین مشن دکن کی چھوٹی مگر بہت مضبوط ریاست "سلطنت خداداد میسور” کا خاتمہ تھا یہاں انگریزوں نے چار جنگیں لڑی، پہلی جنگ ۱۷۶۷ سے ۱۷۶۹ تک چلی جب کہ دوسری جنگ ۱۷۸۰ سے ۱۷۸۴ تک ، ان دونوں جنگوں میں حاکم میسور سلطان حیدر علی اور ان کے جانباز فرزند فتح علی المعروف سلطان ٹیپو نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا  اس درمیان ۱۷۸۲ کے بعد حکومت برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کو اپنے اختیار میں لے لیا تاکہ ہندوستانی دفاعی طاقت کو کچلنے کیلئے حسب ضرورت سامان جنگ فراہم کئے جا سکیں، اس تبدیلی کی بنیاد پر کمپنی اور حکومت برطانیہ کے جنگی وسائل یکجا ہو گئے۔ میسور کی دوسری لڑائی کے اختتام پر والئ میسور سلطان حیدر علی کا انتقال ہو گیا اور سلطان ٹیپو تخت نشیں ہوئے۔ تیسری جنگ انگریزوں نے نظام حیدرآباد علی خان اور مراٹھوں کو اتحادی بناکر حکومت میسور سے لڑی، اس جنگ میں میسور کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور جنگی تاوان ادا کرکے انگریزوں سے صلح کرنا پڑی۔  میسور میں چوتھی اور فیصلہ کن جنگ ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے بیچ ۱۷۹۹ میں ہوئی جس میں ننگ وطن میر صادق کیسرکردگی میں غداروں کی ایک پوری ٹولی نے سلطان کی شکست میں کلیدی رول ادا کیا اور سلطان یہ کہتے ہوئے ملک و ملت پر نثار ہو گئے” شیر کیایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے” اور”مرضئ مولی برہمہ اولی” سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد ان کی نعش کے پاس کھڑے ہوکر لارڈ ولزلی نے کہا آج ہندوستان ہمارا ہے اس موقع پر لارڈولزلی کو سرجان اینس تھروٹر نے بذریعہ خط مبارکبادی دیتے ہوئے لکھا کہ "ہماری تاریخ ہندوستان کا سب سے نمایاں اور سب سے شاندار اور سب سے بڑا کارنامہ آپ کے ہاتھوں انجام پانے پر میں آپ کو تہہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں
۱۷۹۹ میں سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کی نظر بد سے باقی ہندوستان کو بچانے والی کوئی اہم طاقت باقی نہیں رہ گئی تھی صرف مرہٹے تھے جو کسی حد تک انگریزوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے لیکن ان کا زوال خود آپس کی خانہ جنگیوں کے سبب ہو گیا چناچہ یشونت راؤہولکر سے ۱۸۰۲ میں شکست کھاکر پونہ سے نکلنے کے بعد پیشوا کو مجبوراً غلامی کے پروانے پر دستخط کرنا پڑا اور مادھوراؤ سندھیا جس کو شاہ عالم نے منھ بولا بیٹا بناکر سلطنت مغلیہ کے وکیل مطلق کا عہدہ سونپ دیا تھا اس کی فوج کو جنرل لیک نے تہس نہس کر دیا اور ۱۸۰۳ میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی مرہٹوں کی تحویل سے نکل کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی تحویل میں چلا گیا، کمپنی نے دہلی اور قلعہ کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لیکر وہاں سیاسی ایجنٹ تعینات کرنا شروع کردیا جس کی تصدیق و توثیق کے بغیر کوئی بھی سرکاری حکم نامہ نامکمل رہتا تھا دہلی کا پہلا سیاسی ایجنٹ انگریزوں کی طرف سے ڈیوڈ آکٹر لونی کو بنایا گیا
     سلطان ٹیپو کی شہادت، مرہٹوں کے زوال اور بادشاہ کے انگریزوں کی تحویل میں چلے جانے بعد آئندہ کے ناگفتہ بہی حالات حالات کو ہندوستان کے حساس علمائے کرام نے بھانپ لیا تھا کہ غلامی کا سلسلہ اہل ہند کو ذلت کی انتہا تک پہنچانے والا ہے،  ان کی معاشی اقتصادی تلیمی حتی کہ مذہبی خودداری بھی ختم ہونے والی ہے جس کی بناء پر اس وقت کے سرخیل علماء حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے پورے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ۱۸۰۳ میں ملک کے دارالحرب ہوجانے اور فرضیت جہاد کا تاریخ ساز فتوی جاری کیا ۔ لیکن اس فتوی کے ملک بھر میں پھیلنے اور اس کے اثرات مکمل طور پر جنگ آزادی ۱۸۵۷ کی صورت میں ظاہر ہونے کے احوال کو بیان کرنے سے قبل اختصاراً درمیانی وقفے کے ان حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کو بھانپتے ہوئے شاہ صاحب اور دیگر علماء ہند نے فتوئ جہاد جاری کیا تھا۔ چناچہ دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے مختلف علاقائی ریاستوں اور بڑے بڑے زمینداروں کا رخ کیا اور یکے بعد دیگرے سارے ہندوستان کو انگریزی حکومت میں شامل کرتے چلے گئے۔ انگریز جس ریاست یا زمینداری پر قابض ہوتےوہاں بری طرح لوٹ مار مچاتے، زیورات اور جوان عورتوں کو سمیٹ کر لے جانے کے علاوہ ہندوستانی عوام کی کمر توڑنے کیلئے وہاں کی صنعت و تجارت کو بھی تباہ کر دیتے اور زراعت کی پیداوار پر زبردست لگان لگا کر ہندوستانی عوام کو دانے دانے کا محتاج بنا دیتے، بہت ساری زرخیز زمینوں پر انہوں نے چاول گیہوں، دالیں وغیرہ اگانے پر پابندی لگا کر تمباکو پٹسن افیون اور نیل کی کھیتی کرنے کاحکم نافذ کر دیا جس کی وجہ سے ۱۸۳۷ میں وہ بھیانک غیر قدرتی قحط کی صورت حال پیدا ہوئی کہ ایک اندازے کے مطابق صرف بنگال و بہار میں کم از کم آٹھ لاکھ انسان بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر موت کا لقمہ بن گئے۔ علاوہ ازیں ۱۸۳۰ میں انگریزی زبان کو ہندوستان کی سرکاری و دفتری زبان قرار دیکر سرکاری ملازمت اور حصول روزگار کیلئے انگریزی تعلیم کو لازم کر دیا گیا اور لارڈ میکالے کی سربراہی میں انگریزی تعلیم کا ایسا نصاب اور نظام مرتب کیا گیاجسکے اثرات سے ہندوستانیوں کی نئی نسل میں اپنے دین دھرم سے بیزاری اور عیسائیت و لادینت کی طرف جھکاؤ بڑھنے لگا دوسری طرف تبدیلئ مذہب اور عیسائیت کے فروغ کو مزید رفتار دینے کیلئے ۱۸۳۳ کے بعد ہندوستان میں یورپی پادریوں کی آمد کا سلسلہ شروع کیا گیا یہ پادری مذہبی تبلیغ کے جنون میں ہندوستانی مذاہب پر جارحانہ حملے کرنے لگے غرض انگریزوں نے ہندوستانی عوام کو غلامی کے طوق و زنجیر میں جکڑنے کے بعد نہ صرف معاشی، اقتصادی اور تعلیمی سطح پر ان کو تباہ کیا بلکہ ان کی مذہبی خود مختاری کو چھیننے اور بنیادی حقوق کی پامالی کا بھی اقدام کرنےلگے
     بہر حال یہی وہ ناگفتہ بہ حالات تھے جن کو پہلے ہی سے بھانپتے ہوئے ۱۸۰۳ میں وقت کے سب سے بڑے عالم دین اور مقتدا ورہنما حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے جب ہندوستان کے دارالحرب ہوجانے اور جہاد آزادئ وطن کی فرضیت کا فتوی صادر فرمایا تھا اس فتوی کی معنویت و اہميت پر روشنی ڈالتے ہوئے مؤرخین لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب کافتوی آزادی کی تاریخ میں بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، یہ ایک انتہائی جراتمندانہ قدم تھا جو برسر اقتدار طاقت کے خلاف ایک کھلا چیلینج تھا اس فتوی سے ملت اسلامیہ ہند میں حرارت عمل پیدا ہوئی اسی اعلان نے حکومت کے خلاف بغاوت و جدوجہد کا شرعی جواز فراہم کیا، اس فتوی سے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ اب سرزمین ہند کی قانونی حیثیت تبدیل ہو گئی ہے اور وہ غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس کی موجودہ حیثیت کو بدلنے کیلئے ہر قسم کی جد وجہد کرے تا آنکہ آزادی بحال ہو جائے اگراس کی استطاعت نہیں تو پھر ہجرت شرعا لازم ہو جاتی ہے ہجرت کرنا ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے کڑوروں مسلمانوں کیلئے آسان نہیں تھا اور نہ عملا ممکن لہذا حتمی طور پر دوسری -راہ اختیار کی گئی