اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

20

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ارریا:7 جنوری 1944ء کو ضلع ارریہ کے گاؤں کملداہا میں جناب ظہورالحسن(مرحوم) کے گھر پیدا ہونیوالا ایک بچہ جس کا نام زبیرالحسن رکھا گیا. علمی و ادبی ماحول میں پرورش پائی. پورنیہ کالج اور پٹنہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی. ارریہ سول کورٹ سے وکالت کا آغاز کیا. ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کے عہدے کو وقار بخشا. اجنبی شہر( شعری مجموعہ) نے ہندوستان کے مایہ ناز شاعروں کی فہرست میں آپ کو شامل کردیا. تخلص غافل رکھنے کے باوجود آپ زمانے سے کبھی غافل نہیں رہے. اپنے ملک کی سیاسی، سماجی، معاشی اور علاقائی صورتحال پر آپ کی گہری نظر رہا کرتی تھی لیکن افسوس اب وہ آنکھیں سدا کے لئے بند ہوگئیں. 26 جنوری 2021ء کی شام آپ سوئے تو ہمیشہ کے لئے سوگئے.
ابھی دس پندرہ دن پہلے کی بات ہے. مفتی حسین احمد ہمدم صاحب (ایڈیٹر چشمہ رحمت) نے ایک اصلاحی وادبی مشاعرہ کی نظامت کی ذمہ داری راقم کو سونپی. مشاعرے میں جناب زبیرالحسن غافل صاحب( مرحوم) کی آمد بھی متوقع تھی. میں نے اسی بہانے دوران سفر ہی آپ کے اجنبی شہر کو دوبارہ دیکھا. آپ کی طنزیہ ومزاحیہ نظمیں، ادب کی چاشنی میں ڈوبی غزلیں پڑھیں.
آپ کے آٹھ مصرعے میں نے صفحہ قرطاس پر رقم بھی کئے تھے. آپ بھی پڑھیں اور اشعار میں طنز کی لطافت سے محظوظ ہوں.

کل بھری محفل میں ایک دل جلا کہنا لگا
آؤ بتاؤں تیل کیوں مہنگا ہے ہندوستان میں
کچھ تو چمچے لے گئے ہیں ان کی مالش کے لئے
اور باقی ڈال کر بیٹھے ہیں نیتا کان میں

ایسی حالت ہوگئی ہے سڑکوں کی اس سرکار میں
بیل گاڑی کا مزہ آنے لگا ہے کار میں
کیوں اسے لے جارہے ہو تم ابھی سے ہسپتال
جان بچنے کی ابھی امید ہے بیمار میں

ایسے ان گنت عمدہ اشعار کے خالق اس مشاعرے میں تشریف نہیں لاسکے. میں نے مفتی صاحب سے دریافت بھی کیا تو آپ نے فرمایا کہ غافل صاحب سخت علیل ہیں.
بالآخر اس علالت سے آپ جانبر نہ ہوسکے اور کل شام اس دردناک خبر نے ہم سب کو سکتے میں ڈال دیا کہ ہمارے علاقے کا یہ آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا.

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.

نوٹ} جناب زبیرالحسن غافل صاحب کی شخصیت اور شاعری پر تفصیلی مضمون انشاءاللہ عنقریب آئے گا.

ارشد ہمراز
متعلم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ